المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
136. تفسير آية : ( الذين بدلوا نعمة الله كفرا ) إلخ
آیت“جن لوگوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل دیا”کی تفسیر
حدیث نمبر: 3382
أخبرني أبو جعفر محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم الغِفاري، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا بسَّام الصَّيرَفي، حدثنا أبو الطُّفيل عامر بن واثلةَ قال: سمعتُ عليًّا قام فقال: سَلُوا قبل أن لا تَسأَلوا، ولن تَسأَلوا بعدي مِثْلي، فقام ابنُ الكَوَّاءِ فقال: مَن ﴿الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللَّهِ كُفْرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ﴾ [إبراهيم: 28] ؟ قال: قال: منافِقُو قُريشٍ، قال: فمَن ﴿الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا﴾ [الكهف: 104] ؟ قال: منهم أهلُ حَرُوراء (1) .
هذا حديث صحيحٌ عالٍ، وبسَّام بن عبد الرحمن الصَّيرَفي من ثِقات الكوفيين ممَّن يُجمَع حديثُهم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيحٌ عالٍ، وبسَّام بن عبد الرحمن الصَّيرَفي من ثِقات الكوفيين ممَّن يُجمَع حديثُهم، ولم يُخرجاه.
ابوالطفیل عامر بن واثلہ کا بیان ہے: ایک دفعہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا: اس دن سے پہلے میں تمہیں ڈھونڈے نہ ملوں جو کچھ پوچھنا ہے مجھ سے پوچھ لو اور میرے بعد تمہیں میرے جیسا آدمی نہیں مل سکے گا جس سے تم ہر طرح کے سوال کر سکو۔ تو ابن الکواء کھڑا ہوا اور بولا: وہ کون لوگ ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت ناشکری سے بدل دی اور اپنی قوم کو تباہی کے گھر لا اُتارا؟ آپ نے فرمایا: قریش سے تعلق رکھنے والے منافقین۔ اس نے کہا: تو وہ کون لوگ ہیں جن کی دنیوی زندگی کی کوششیں بے کار ہو گئیں جبکہ وہ گمان یہ رکھتے ہیں کہ انہوں نے بہت اچھے عمل کیے ہیں؟ آپ نے فرمایا: وہ حروراء والے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح ہے اور (اس کی سند) عالی ہے اور صبام بن عبدالرحمن الصیر فی ثقہ کوفیوں میں سے ہیں، ان کی احادیث جمع کی جاتی ہیں لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس روایت کو نقل نہیں کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3382]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3382 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) خبر صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل بسام الصَّيرفي، وبعضهم سمَّى أباه عبدَ الله. أبو نعيم: هو الفضل بن دُكين.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ خبر صحیح ہے اور بسام الصیرفی کی وجہ سے اس کی سند قوی ہے، اور بعض نے ان کے والد کا نام عبداللہ بتایا ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: (راوی) ابونعیم: یہ فضل بن دکین ہیں۔
وأخرجه النسائي (11203) من طريق القاسم بن أبي بزّة، عن أبي الطفيل. واقتصر على السؤال الأول.
📖 حوالہ / مصدر: اسے نسائی (11203) نے قاسم بن ابی بزہ کے طریق سے، ابوالطفیل سے روایت کیا ہے، اور صرف پہلے سوال پر اکتفا کیا ہے۔
وسيأتي بأطول مما هنا برقم (3778) من طريق محمد بن عبيد عن بسام.
📖 حوالہ / مصدر: اور یہ محمد بن عبید کے واسطے سے بسام سے آگے رقم (3778) پر یہاں سے زیادہ طویل شکل میں آئے گا۔
وقد روي هذا من غير وجه عن أبي الطفيل عن علي، انظر "تفسير عبد الرزاق" 1/ 342 و 413 و 2/ 241 - 242، و"تفسير الطبري" 13/ 220 و 221 و 16/ 34.
🧩 متابعات و شواہد: یہ ابوالطفیل کے واسطے سے حضرت علی سے متعدد طریقوں سے مروی ہے۔ دیکھئے: "تفسیر عبدالرزاق" (1/ 342، 413 اور 2/ 241-242)، اور "تفسیر طبری" (13/ 220، 221 اور 16/ 34)۔
وانظر ما بعده.
📖 حوالہ / مصدر: اور جو اس کے بعد ہے اسے دیکھ لیں۔