🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
176. سؤال موسى - عليه السلام - عن السامري من صنعه العجل وجوابه
حضرت موسیٰ علیہ السلام کا سامری سے سوال کہ اس نے بچھڑا کیسے بنایا اور اس کا جواب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3475
حدثني علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا محمد بن سليمان بن الحارث، حدثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، حدثنا أبو إسحاق، عن عُمَارة بن عمرو السَّلُولي وأبي عبد الرحمن السُّلَمي، عن عليّ قال: لما تَعجَّل موسى إلى ربِّه عَمَدَ السامِرِيُّ فَجَمَعَ ما قَدَرَ عليه من الحُلِيِّ، حُليِّ بني إسرائيل، فضربه عِجلًا ثم أَلقى القَبْضةَ في جوفِه، فإذا هو عجلٌ له خُوَار، فقال لهم السامِريُّ: هذا إلهُكم وإلهُ موسى، فقال لهم هارون: يا قوم، ألم يَعِدْكم ربُّكم وعدًا حَسَنًا، فلما أن رَجَعَ موسى إلى بني إسرائيل وقد أضلَّهم السامريُّ أَخَذَ برأس أخيه، فقال له هارونُ ما قال، فقال موسى للسامريِّ: ما خطبُك؟ فقال السامِرِيُّ: قَبَضتُ قَبْضةً من أَثر الرسول فنَبَذتُها، وكذلك سَوَّلَت لي نفسي، قال: فعَمَدَ موسى إلى العجل فوضع عليه المباردَ فبَرَدُوه بها وهو على شَفَى (1) نهر، فما شرب أحدٌ من ذلك الماء ممَّن كان يَعبُد ذلك العجلَ إلَّا اصفرَّ وجهُه مثلَ الذهب، فقالوا لموسى: ما توبتُنا؟ قال: يقتلُ بعضُكم بعضًا، فأخذوا السكاكينَ، فجعل الرجلُ يَقتُل أباه وأخاه ولا يُبالي مَن قَتَلَ، حتى قُتِلَ منهم سبعون ألفًا، فأوحى الله إلى موسى: مُرهم فليَرفَعوا أيديَهم، فقد غَفَرتُ لمن قُتِلَ، وتُبْتُ على مَن بقيَ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3434 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں گئے تو سامری نے ایک پروگرام بنایا اور بنی اسرائیل کے زیورات وغیرہ جس قدر بھی سونا جمع کر سکتا تھا، کیا۔ پھر اس سے ایک بچھڑا تیار کیا پھر اس کے پیٹ میں (مٹی کی) مٹھی ڈال دی تو وہ اچھلنے کودنے اور آوازیں نکالنے لگ گیا۔ سامری نے بنی اسرائیل سے کہا: یہ تمہارا اور موسیٰ علیہ السلام کا معبود ہے۔ سیدنا ہارون علیہ السلام نے ان سے کہا: اے میری قوم! کیا تم سے تمہارے رب نے اچھا وعدہ نہ کیا تھا۔ جب موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کی طرف لوٹ کر آئے تو اس وقت تک سامری ان کو گمراہ کر چکا تھا۔ آپ نے اپنے بھائی (سیدنا ہارون علیہ السلام) کو سر (کے بالوں) سے پکڑ لیا تو سیدنا ہارون علیہ السلام نے اپنی کی ہوئی تمام کوششیں ان کے سامنے رکھ دیں تو موسیٰ علیہ السلام نے سامری سے کہا: تیرا کیا حال ہے؟ سامری نے کہا: میں نے فرشتے کے نشان سے ایک مٹھی بھر لی تھی پھر اس کو (اس بچھڑے میں) ڈال دیا اور میرے جی کو یہی بھلا لگا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اس بچھڑے کو دریا کے اندر ٹھنڈا کر دیا اور آپ خود اس وقت دریا کے کنارے موجود تھے۔ اس کے بعد بچھڑے کی عبادت کرنے والوں میں سے جس نے بھی اس دریا کا پانی پیا، اس کا چہرہ سونے کی طرح زرد ہو گیا۔ لوگوں نے موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا: ہماری توبہ کیسے ہو سکتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک دوسرے کو قتل کرو۔ انہوں نے چھریاں پکڑیں اور یہ پرواہ کیے بغیر کہ کس کو قتل کر رہے ہیں، لوگ اپنے باپ اور بھائیوں کو قتل کرنا شروع ہو گئے حتیٰ کہ ہزار لوگ قتل ہو گئے پھر اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی کہ ان کو حکم دو کہ یہ اپنے ہاتھوں کو روک لیں، جو قتل ہو چکے ہیں، میں نے ان کو بخش دیا ہے اور جو باقی بچ گئے ہیں ان کی توبہ کو قبول کر لیا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3475]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3475 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في النسخ الخطية: شف، بلا ألف، وهو خطأ والجادَّة بألفٍ، وشَفَى كلِّ شيء: حرفُه وطرفه.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (1) قلمی نسخوں میں "شف" (بغیر الف) ہے، جو غلط ہے، درست "شفیٰ" (الف کے ساتھ) ہے۔ "شَفَى کلِّ شیء": ہر چیز کا کنارہ۔
(2) خبر موقوف إسناده قوي من أجل محمد بن سليمان بن الحارث - وهو الباغَنْدي - وباقي رجاله ثقات غير عمارة بن عمرو السلولي فقد انفرد بالرواية عنه أبو إسحاق السَّبيعي، ولم يسمّ أباه عمرًا غير المصنف، وسمَّاه غيره عَبْدًا، هكذا وقع عند ابن سعد في "الطبقات" 8/ 347، والعجلي في "ثقاته" (1327) وكذا ابن حبان 5/ 244، وعمارة هذا وإن كان في عِداد المجاهيل تابعه هنا أبو عبد الرحمن السلمي - واسمه عبد الله بن حبيب - وهو أحد الثقات الأثبات.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) یہ "موقوف" خبر ہے جس کی سند محمد بن سلیمان بن حارث (الباغندی) کی وجہ سے "قوی" ہے۔ باقی راوی "ثقہ" ہیں سوائے عمارہ بن عمرو السلولی کے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: عمارہ سے روایت میں ابو اسحاق سبیعی منفرد ہیں، اور مصنف کے علاوہ کسی نے ان کے باپ کا نام "عمرو" نہیں بتایا بلکہ دوسروں نے "عبد" بتایا ہے (جیسے طبقات ابن سعد، ثقات عجلی، اور ابن حبان میں)۔ اگرچہ عمارہ "مجاہیل" میں سے ہیں، لیکن یہاں ان کی متابعت "ابو عبد الرحمٰن السلمی" (عبد اللہ بن حبیب) نے کی ہے جو کہ "ثقہ ثبت" ہیں۔
وأخرجه مختصرًا ابن أبي حاتم في "تفسيره" 1/ 176 عن أبيه، عن عبد الله بن رجاء، عن إسرائيل، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی حاتم نے "تفسیر" (1/ 176) میں "مختصراً" اپنے والد سے، عبد اللہ بن رجاء سے، اسرائیل سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه كذلك المروزي في "تعظيم قدر الصلاة" (787) من طريق زكريا بن أبي زائدة، عن أبي إسحاق، عن أبي عبد الرحمن السلمي وحده، به.
📖 حوالہ / مصدر: اور اسے مروزی نے "تعظیم قدر الصلاۃ" (787) میں زکریا بن ابی زائدہ کے طریق سے، ابو اسحاق سے، انہوں نے تنہا "ابو عبد الرحمٰن السلمی" سے روایت کیا ہے۔