🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
328. تَفْسِيرُ سُورَةِ الرَّحْمَنِ
سورۂ الرحمن کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3808
حَدَّثَنَا أبو الحسن أحمد بن محمد بن إسماعيل بن مِهْران، حَدَّثَنَا أَبي، حَدَّثَنَا هشام بن عمّار وأبو مسلم عبد الرحمن بن واقد الحرَّاني قالا: حَدَّثَنَا الوليد بن مسلم، حَدَّثَنَا زهير بن محمد، عن محمد بن محمد بن المنكَدِر، عن جابر بن عبد الله قال: لما قرأَ رسول الله ﷺ سورةَ الرحمن على أصحابه حتَّى فَرَغَ، قال:"ما لي أراكم سُكوتًا! لَلجِنُّ كانوا أحسن منكم ردًّا، ما قرأتُ عليهم من مرّةٍ: ﴿فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ﴾ [الرحمن: 13] ، إلَّا قالوا: ولا بشيءٍ من نِعَمِك ربَّنا نكذِّبُ، فلكَ الحمدُ" (1) . صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3766 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کے سامنے سورہ رحمٰن کی تلاوت مکمل فرمائی تو ارشاد فرمایا: کیا بات ہے کہ میں تمہیں بالکل خاموش دیکھ رہا ہوں! یقیناً جنات جواب دینے میں تم سے بہتر تھے، میں نے جب بھی ان کے سامنے یہ آیت تلاوت کی ﴿فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ﴾ پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے [سورة الرحمن: 13] تو انہوں نے (جواباً) کہا: «وَلَا بِشَيْءٍ مِنْ نِعَمِكَ رَبَّنَا نُكَذِّبُ، فَلَكَ الْحَمْدُ» اے ہمارے رب! ہم تیری کسی بھی نعمت کو نہیں جھٹلاتے، پس تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3808]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره إن شاء الله، وهذا إسناد لا بأس برجاله إلّا أنَّ الوليد بن مسلم دمشقي ورواية الشاميين عن زهير بن محمد التميمي فيها كلام، لكن لهذا الحديث شاهد يتحسن به إن شاء الله.» [ترقيم الرساله 3808] [ترقيم الشركة 3787] [ترقيم العلميه 3766]

الحكم على الحديث: حسن لغيره إن شاء الله

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3808 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حسن لغيره إن شاء الله، وهذا إسناد لا بأس برجاله إلّا أنَّ الوليد بن مسلم دمشقي ورواية الشاميين عن زهير بن محمد التميمي فيها كلام، لكن لهذا الحديث شاهد يتحسن به إن شاء الله.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث ان شاء اللہ "حسن لغیرہ" ہے۔ اس کی سند کے راویوں میں کوئی حرج نہیں، سوائے اس کے کہ ولید بن مسلم دمشقی ہیں اور شامیوں کی زہیر بن محمد تمیمی سے روایت میں کلام ہے۔ 🧩 متابعات و شواہد: تاہم اس حدیث کا ایک شاہد موجود ہے جس سے یہ ان شاء اللہ بہتر ہو جاتی ہے۔
وأخرجه الترمذي (3291) عن عبد الرحمن بن واقد، بهذا الإسناد. وقال: هذا حديث غريب لا نعرفه إلّا من حديث الوليد بن مسلم عن زهير بن محمد. ونقل عن أحمد بن حنبل والبخاري أنَّ أهل الشام يروون عن زهير مناكير.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (3291) نے عبد الرحمن بن واقد سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا اور کہا: "یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف ولید بن مسلم عن زہیر بن محمد کے طریق سے جانتے ہیں۔" 🔍 فنی نکتہ / علّت: ترمذی نے احمد بن حنبل اور بخاری سے نقل کیا ہے کہ اہلِ شام زہیر سے "منکر" روایات بیان کرتے ہیں۔
وله شاهد من حديث ابن عمر عند البزار في "مسنده" (5853)، والطبري في "تفسيره" 27/ 123 - 124، وإسناده محتمل للتحسين.
🧩 متابعات و شواہد: اس کا ایک شاہد ابن عمر کی حدیث سے ہے جو بزار "مسند" (5853) اور طبری "تفسیر" (27/ 123-124) میں ہے، اور اس کی سند کے "حسن" ہونے کا احتمال ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 3808 in Urdu