المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
328. تفسير سورة الرحمن
سورۂ الرحمن کی تفسیر
حدیث نمبر: 3808
حَدَّثَنَا أبو الحسن أحمد بن محمد بن إسماعيل بن مِهْران، حَدَّثَنَا أَبي، حَدَّثَنَا هشام بن عمّار وأبو مسلم عبد الرحمن بن واقد الحرَّاني قالا: حَدَّثَنَا الوليد بن مسلم، حَدَّثَنَا زهير بن محمد، عن محمد بن محمد بن المنكَدِر، عن جابر بن عبد الله قال: لما قرأَ رسول الله ﷺ سورةَ الرحمن على أصحابه حتَّى فَرَغَ، قال:"ما لي أراكم سُكوتًا! لَلجِنُّ كانوا أحسن منكم ردًّا، ما قرأتُ عليهم من مرّةٍ: ﴿فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ﴾ [الرحمن: 13] ، إلَّا قالوا: ولا بشيءٍ من نِعَمِك ربَّنا نكذِّبُ، فلكَ الحمدُ" (1) . صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3766 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3766 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو سورۃ رحمن سنائی، جب آپ پوری سورۃ پڑھ چکے تو آپ نے فرمایا: کیا وجہ ہے، میں تم سب کو خاموش کیوں دیکھتا ہوں؟ جواب دینے کے اعتبار سے تو ” جن “ تم سے اچھے ہیں کیونکہ میں نے ان کے سامنے جب بھی: فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ (الرحمن: 13) ” تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔“ پڑھا تو انہوں نے آگے سے جواباً کہا: اے ہمارے رب! ہم تیری کسی بھی نعمت کو نہیں جھٹلاتے اور تیرے ہی لئے حمد ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3808]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3808 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حسن لغيره إن شاء الله، وهذا إسناد لا بأس برجاله إلّا أنَّ الوليد بن مسلم دمشقي ورواية الشاميين عن زهير بن محمد التميمي فيها كلام، لكن لهذا الحديث شاهد يتحسن به إن شاء الله.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث ان شاء اللہ "حسن لغیرہ" ہے۔ اس کی سند کے راویوں میں کوئی حرج نہیں، سوائے اس کے کہ ولید بن مسلم دمشقی ہیں اور شامیوں کی زہیر بن محمد تمیمی سے روایت میں کلام ہے۔ 🧩 متابعات و شواہد: تاہم اس حدیث کا ایک شاہد موجود ہے جس سے یہ ان شاء اللہ بہتر ہو جاتی ہے۔
وأخرجه الترمذي (3291) عن عبد الرحمن بن واقد، بهذا الإسناد. وقال: هذا حديث غريب لا نعرفه إلّا من حديث الوليد بن مسلم عن زهير بن محمد. ونقل عن أحمد بن حنبل والبخاري أنَّ أهل الشام يروون عن زهير مناكير.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (3291) نے عبد الرحمن بن واقد سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا اور کہا: "یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف ولید بن مسلم عن زہیر بن محمد کے طریق سے جانتے ہیں۔" 🔍 فنی نکتہ / علّت: ترمذی نے احمد بن حنبل اور بخاری سے نقل کیا ہے کہ اہلِ شام زہیر سے "منکر" روایات بیان کرتے ہیں۔
وله شاهد من حديث ابن عمر عند البزار في "مسنده" (5853)، والطبري في "تفسيره" 27/ 123 - 124، وإسناده محتمل للتحسين.
🧩 متابعات و شواہد: اس کا ایک شاہد ابن عمر کی حدیث سے ہے جو بزار "مسند" (5853) اور طبری "تفسیر" (27/ 123-124) میں ہے، اور اس کی سند کے "حسن" ہونے کا احتمال ہے۔