🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
403. تفسير سورة { والفجر }
تفسیر سورۂ والفجر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3972
حدَّثنا أحمد بن كامل القاضي، حدَّثنا أبو قِلابة، حدَّثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدَّثنا همام، عن قَتادةَ، عن عِمْران بن عِصام، شيخٌ من أهل البصرة، عن عِمران بن حُصَين: أنَّ النبي ﷺ سُئِلَ عن الشَّفْعِ والوَتْر، فقال:"هي الصلاةُ، منها شَفعٌ، ومنها وتْرٌ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3928 - صحيح
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شفع اور وتر کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اس سے مراد) وہ نماز ہے جس میں جفت (رکعتیں) بھی ہیں اور طاق بھی ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3972]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3972 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف لإبهام راويه عن عمران بن حصين، وهو الشيخ من أهل البصرة، وليس هو عمران بن عصام كما وقع للمصنف هنا وكما وقع لابن أبي حاتم في "تفسيره" كما في "تفسير ابن كثير" 8/ 415 من حديث يزيد بن هارون عن همام.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "ضعیف" ہے کیونکہ عمران بن حصین سے روایت کرنے والا راوی "مبہم" ہے، جو کہ اہل بصرہ کا ایک شیخ ہے۔ یہ عمران بن عصام نہیں ہیں جیسا کہ یہاں مصنف کے ہاں اور ابن ابی حاتم کی تفسیر (جیسا کہ "تفسیر ابن کثیر" 8/415 میں ہے) میں یزید بن ہارون عن ہمام کی حدیث میں واقع ہوا ہے۔
فقد أخرجه أحمد 33/ (19919) عن أبي داود الطيالسي، و (19935) عن بهز بن أسد، و (19973) عن يزيد بن هارون وعفان بن مسلم وعبد الصمد بن عبد الوارث، والترمذي (3342) من طريق عبد الرحمن بن مهدي وأبي داود الطيالسي، ستتهم عن همام بن يحيى العوذي، عن قَتادةَ، عن عمران بن عصام، عن شيخ من أهل البصرة، عن عمران بن حصين.
📖 حوالہ / مصدر: چنانچہ اسے احمد نے (33/19919) میں ابو داؤد طیالسی سے، (19935) میں بہز بن اسد سے، اور (19973) میں یزید بن ہارون، عفان بن مسلم اور عبد الصمد بن عبد الوارث سے روایت کیا ہے۔ اور ترمذی (3342) نے عبد الرحمن بن مہدی اور ابو داؤد طیالسی کے طریق سے روایت کیا ہے۔ یہ چھ راوی اسے ہمام بن یحییٰ عوذی سے، وہ قتادہ سے، وہ عمران بن عصام سے، وہ "اہل بصرہ کے ایک شیخ" سے اور وہ عمران بن حصین سے روایت کرتے ہیں۔
قال الحافظ ابن كثير: تفرد به عمران بن عصام الضبعي … وعندي أنَّ وقفه على عمران بن حصين أشبه، والله أعلم.
🔍 فنی نکتہ / علّت: حافظ ابن کثیر نے فرمایا: "عمران بن عصام الضبعی اس روایت میں متفرد ہیں... اور میرے نزدیک اس کا عمران بن حصین پر موقوف ہونا زیادہ قرین قیاس ہے، واللہ اعلم"۔