🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
423. تفسير سورة ( ألهاكم التكاثر )
تفسیر سورہ الھاکم التکاثر (سورہ التکاثر)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4014
حدَّثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدَّثنا محمد بن سِنَان القزَّاز، حدَّثنا محمد بن بكر البُرْساني، حدَّثنا جعفر بن بُرْقان قال: سمعت يزيدَ بن الأصمِّ يحدِّث عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"ما أخشى عليكم الفقرَ، ولكنِّي أخشى عليكم التكاثُرَ، وما أخشى عليكم الخطأ، ولكنِّي أخشى عليكم التعمُّدَ" (1)
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. [
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3970 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے تم پر فقر کا خوف نہیں ہے بلکہ مجھے تمہارے بارے میں مال کی زیادہ طلبی کا خوف ہے اور مجھے تم پر خطا کا خوف نہیں ہے بلکہ جان بوجھ کر گناہ کرنے کا خوف ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 4014]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4014 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل محمد بن سنان القزاز، وقد توبع، وباقي رجاله ثقات.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے اور اس کی سند محمد بن سنان القزاز کی وجہ سے متابعات اور شواہد میں "حسن" ہے، اور ان کی متابعت موجود ہے، باقی راوی ثقہ ہیں۔
وأخرجه أحمد 13/ (8074) عن محمد بن بكر البرساني، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (13/8074) نے محمد بن بکر برسانی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 16/ (10958) عن كثير بن هشام، وابن حبان (3222) من طريق خالد بن حيان، كلاهما عن جعفر بن برقان، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (16/10958) نے کثیر بن ہشام سے، اور ابن حبان (3222) نے خالد بن حیان کے طریق سے، دونوں نے جعفر بن برقان سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
التكاثر، قال السندي في حاشيته على "المسند": أي: في الأموال والتفاخر بها.
📝 نوٹ / توضیح: سندی نے "المسند" کے حاشیے میں "التکاثر" کا مطلب بیان کیا ہے: یعنی مال و دولت میں اور اس پر فخر کرنے میں (ایک دوسرے سے بڑھنا)۔