🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. ذكر من قال إن الذبيح إسحاق، إغواء الشيطان آل إبراهيم فى ذبح ابنه
ان لوگوں کا ذکر جنہوں نے ذبیح سیدنا اسحاق علیہ السلام ہونے کا قول کیا اور ذبح کے وقت شیطان کا آلِ ابراہیم کو بہکانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4089
فحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني يونس، عن ابن شهاب، أنَّ عمرو بن أبي سفيان بن أَسِيد بن جارية الثقفي أخبره: أنَّ كعبًا قال لأبي هريرة: ألا أخبِرُك عن إسحاق بن إبراهيم النبي؟ قال أبو هريرة: بلى، قال كعبٌ: لما رأى إبراهيمُ [أن] (1) يذبح إسحاق، قال الشيطانُ: والله لئن لم أفتِن عندها آل إبراهيم لا أُفتِنُ أحدًا منهم أبدًا، فتمثَّل الشيطانُ لهم رجلًا يعرفُونه، قال: فأقبل حتى إذا خرج إبراهيم بإسحاق ليذبحَه دخل على سارةَ امرأةِ إبراهيم، قال لها: أين أصبح إبراهيم غادِيًا بإسحاق؟ قالت سارةُ: غدا لبعض حاجته، قال الشيطان: لا والله، ما غدا لذلك، قالت سارة: فلِمَ غدا به؟ فقال: غدا به ليذبحه، قالت سارة: وليس في ذلك شيءٌ لم يكن ليذبح ابنه، قال الشيطان: بلى والله، قالت سارة: ولِمَ يذبحه؟ قال: زعم أنَّ ربّه أمره بذلك، فقالت سارة: فقد أحسن أن يُطيع ربَّه إن كان أمره بذلك، فخرج الشيطان من عند سارة، حتى إذا أدرك إسحاق وهو يمشي على إثر أبيه، قال: أين أصبح أبوك غادِيًا؟ قال: غدا بي لبعض حاجته، قال الشيطان: لا والله، ما غدا بك لبعض حاجته، ولكنه غدا بك ليذبحك، قال إسحاق: فما كان أبي ليذبحني، قال: بلى، قال: لِمَ؟ قال: زعم أنَّ الله أمره بذلك، قال إسحاق: فوالله إن أمره ليُطيعَنه، فتركه الشيطان، وأسرع إلى إبراهيم، فقال: أين أصبحت غاديًا بابنك، قال: غَدوتُ لبعض حاجتي، قال: لا والله، ما غَدوتَ به إلا لتذبحه، قال: ولم أذبحه؟ قال: زعمت أنَّ الله أمرك بذلك، قال: فوالله لئن كان أمرني لأفعلنَّ. قال: فلما أخذ إبراهيم إسحاق ليذبحه وسلَّم إسحاق عافاه اللهُ، وَفَدَاهُ بِذِبْحٍ عظيم، قال إبراهيم لإسحاق: قم أي بُني، فإنَّ الله قد أعفاك، وأوحى الله إلى إسحاق: أني أعطيتك دعوة أستجيب لك فيها، قال إسحاق: فإني أدعوك أن تستجيب لي: أيُّما عبدٍ لَقِيَك من الأولين والآخرين لا يُشرِكُ بك شيئًا فأدخله الجنة (1) . قال الحاكم: سياقةُ هذا الحديث من كلام كعب بن ماتع الأحبار، ولو ظهر فيه سند لحكمتُ بالصحة على شرط الشيخين، فإنَّ هذا إسناد صحيح لا غُبار عليه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4045 - صحيح لا غبار عليه
سیدنا عمرو بن ابوسفیان ابن اسید بن جاریہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا میں تمہیں اللہ تعالیٰ کے نبی سیدنا اسحاق بن ابراہیم علیہما السلام کے بارے میں خبر نہ دوں؟ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیوں نہیں۔ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے خواب میں دیکھا کہ وہ سیدنا اسحاق علیہ السلام کو ذبح کر رہے ہیں تو شیطان نے کہا: خدا کی قسم! اگر اس موقع پر میں ابراہیم علیہ السلام کی آل کو فتنہ میں نہ ڈال سکا تو پھر کبھی بھی ان کو کسی آزمائش میں نہ ڈال سکوں گا۔ چنانچہ شیطان نے ان کی ایک جانی پہچانی شکل اختیار کی اور آ گیا۔ جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام سیدنا اسحاق علیہ السلام کو ذبح کرنے کے لئے اپنے ہمراہ لے کر نکل پڑے تو شیطان سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی زوجہ محترمہ سیدنا سارہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور کہنے لگا: ابراہیم! آج صبح سویرے اسماعیل کو کہاں لے گئے ہیں؟ سیدنا سارہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اپنے کسی کام سے گئے ہیں۔ شیطان نے کہا: نہیں خدا کی قسم وہ کسی کام سے نہیں گئے۔ سیدنا سارہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: تو پھر اسماعیل علیہ السلام کو کس لئے لے کر گئے ہیں؟ شیطان نے کہا: ذبح کرنے کے لئے لے کر گئے ہیں۔ سیدنا سارہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یہ تو کوئی بات نہ ہوئی، باپ اپنے بیٹے کو ذبح نہیں کرے گا؟ شیطان نے کہا: کیوں نہیں۔ خدا کی قسم۔ سارہ رضی اللہ عنہا نے کہا۔ وہ اپنے بیٹے کو کیوں ذبح کرے گا؟ شیطان نے کہا: اس لئے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے رب نے ان کو یہ حکم دیا ہے۔ سیدنا سارہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اگر واقعی اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے تب تو اچھی بات ہے کہ وہ اپنے رب کے حکم کی تعمیل کریں گے۔ شیطان یہاں سے نکلا اور سیدنا اسحاق علیہ السلام کے پاس چلا گیا وہ اپنے والد کے پیچھے پیچھے جا رہے تھے۔ شیطان نے ان سے کہا: تمہارا باپ تمہیں کہاں لئے جا رہا ہے؟ سیدنا اسحاق علیہ السلام نے کہا: کسی کام سے جا رہے ہیں۔ شیطان نے کہا: نہیں خدا کی قسم یہ تمہیں کسی کام سے نہیں بلکہ تمہیں ذبح کرنے کے لئے لے کر جا رہا ہے۔ سیدنا اسحاق علیہ السلام نے کہا: میرا باپ مجھے ذبح نہیں کرے گا۔ شیطان نے کہا: کیوں نہیں کرے گا۔ سیدنا اسحاق علیہ السلام نے پوچھا: وہ مجھے کیوں ذبح کریں گے؟ شیطان نے کہا، اس لئے وہ سمجھ رہے ہیں کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے۔ سیدنا اسحاق علیہ السلام نے کہا: خدا کی قسم! اگر اللہ تعالیٰ ان کو حکم دے تو وہ ضرور اس کی تعمیل کریں گے۔ شیطان نے ان کو چھوڑ دیا اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے پاس آ گیا اور کہنے لگا۔ تم اپنے بیٹے کو کہاں لے کر جا رہے ہو؟ آپ نے فرمایا: میں اپنے کسی ضروری کام سے لے جا رہا ہوں۔ اس نے کہا: نہیں خدا کی قسم! تم تو اسے ذبح کرنے کے لئے لے جا رہے ہو۔ آپ نے فرمایا: میں بھلا اس کو کیوں ذبح کروں گا؟ شیطان نے کہا: اس لئے کہ تم سمجھے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ حکم دیا ہے۔ آپ نے فرمایا: خدا کی قسم جو حکم اللہ تعالیٰ نے مجھے دیا ہے، میں اس کی تعمیل ضرور کروں گا۔ جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے ذبح کرنے کے لئے سیدنا اسحاق علیہ السلام کو پکڑ لیا اور سیدنا اسحاق علیہ السلام نے بھی سر تسلیم خم کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو بچا لیا اور ایک عظیم ذبیحہ ان کے فدیہ میں دیا۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے سیدنا اسحاق علیہ السلام سے فرمایا: اے میرے بیٹے اٹھو! کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں بچا لیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے سیدنا اسحاق علیہ السلام کی جانب وحی فرمائی کہ میں آپ کو ایک دعا کا موقع دیتا ہوں، آپ جو بھی دعا مانگیں گے میں اس کو ضرور پورا کروں گا۔ سیدنا اسحاق علیہ السلام فرماتے ہیں: میں اس میں یہ دعا مانگوں گا کہ اگلے پچھلے لوگوں میں سے جو بھی تجھے اس حالت میں ملے کہ اس کا نامہ اعمال شرک کے داغ سے صاف ہو تو اس کو جنت میں داخل فرما دے گا۔ ٭٭ امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: اس حدیث کی سند کعب بن ماتع احبار کے کلام سے ہے اور اگر اس کو سند مل جائے تو میں اس کو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے مقرر کئے ہوئے معیار کے مطابق اسے صحیح قرار دینے کے حق میں ہوں کیونکہ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے، اس پر کوئی غبار نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4089]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4089 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) زيادة من "تلخيص المستدرك" للذهبي، وفيه: لما أُري إبراهيم أن يذبح ....
📝 نوٹ / توضیح: یہ اضافہ ذہبی کی "تلخیص المستدرک" سے لیا گیا ہے، جس میں الفاظ ہیں: "جب ابراہیم کو دکھایا گیا کہ وہ ذبح کریں..."
(1) رجاله ثقات، لكنه اختلف فيه عن الزهري في تعيين شيخه، فذكر فيه يونس - وهو ابن يزيد الأيلي - عمرو بن أبي سفيان، ووافقه شعيب بن أبي حمزة، وخالفهما معمر بن راشد فذكر فيه القاسم بن محمد بن أبي بكر الصديق، وكلاهما ثقة، لكن عمرو بن أبي سفيان أدرك كعبًا ووقع تصريحه بسماعه منه في رواية عبد الله بن المبارك عن يونس بن يزيد، وأما القاسم بن محمد فلم يُدرك كعبًا، وروى ابن إسحاق هذا الخبر مختصرًا بذكر الذبح فقط دون القصة، عن عبد الله بن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم عن الزهري، فذكر أبا سفيان بن العلاء بن جارية الثقفي، وفي رواية أخرى عن ابن إسحاق قال فيها: عن العلاء بن جارية، فالظاهر أنَّ ابن إسحاق أراد ذكر عمرو بن أبي سفيان الذي ذكره يونس، فكان لا يضبط اسمه. وإذا صح ذلك اتفق قوله مع قول يونس وشعيب، وعلي أي حال فقول شعيب ويونس أثبت من رواية معمر، والله أعلم. ابن وهب: هو عبد الله.
⚖️ درجۂ راوی: اس کے رجال ثقہ ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: لیکن زہری کے استاد (شیخ) کے تعین میں اختلاف ہے۔ یونس (ابن یزید الایلی) اور شعیب بن ابی حمزہ نے "عمرو بن ابی سفیان" کا نام لیا، جبکہ معمر بن راشد نے ان کی مخالفت کرتے ہوئے "قاسم بن محمد بن ابی بکر" کا نام لیا۔ دونوں ثقہ ہیں، لیکن عمرو بن ابی سفیان نے کعب (الاحبار) کا زمانہ پایا ہے اور ان سے سماع کی تصریح موجود ہے۔ جبکہ قاسم بن محمد نے کعب کا زمانہ نہیں پایا۔ ابن اسحاق نے بھی یہ خبر روایت کی ہے اور اس میں "ابو سفیان بن العلاء بن جاریہ" کا ذکر کیا، معلوم ہوتا ہے ابن اسحاق سے نام ضبط کرنے میں غلطی ہوئی۔ بہرحال، یونس اور شعیب کا قول معمر کی روایت سے زیادہ "ثابت" ہے۔
وأخرجه البيهقي في "فضائل الأوقات" (203) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "فضائل الاوقات" (203) میں ابو عبداللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه الطبري في "تفسيره" 23/ 82، وفي "تاريخه" 1/ 265 عن يونس بن عبد الأعلى، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 6/ 203 - 204 من طريق حرملة بن يحيى التجيبي، كلاهما عن عبد الله بن وهب، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبری نے یونس بن عبدالاعلیٰ سے، اور ابن عساکر نے حرملہ بن یحییٰ کے طریق سے، دونوں نے عبداللہ بن وہب سے، اسی طرح روایت کیا ہے۔
وأخرجه أبو عبيد القاسم في "الخُطب والمواعظ" (21) من طريق الليث بن سعد، وأبو علي بن شاذان في الثامن من "أجزائه" (133)، والبيهقي في "البعث والنشور" (41) من طريق عبد الله بن المبارك، كلاهما عن يونس بن يزيد، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو عبید القاسم نے "الخطب والمواعظ" (21) میں لیث بن سعد کے طریق سے، اور بیہقی وغیرہ نے عبداللہ بن مبارک کے طریق سے، دونوں نے یونس بن یزید سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن منده في "الإيمان" (896) من طريق شعيب بن أبي حمزة، عن الزهري، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن مندہ نے "الایمان" (896) میں شعیب بن ابی حمزہ کے طریق سے، زہری سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه الطبري في "تفسيره" 23/ 81، وفي "تاريخه" 1/ 265 من طريق إبراهيم بن المختار، عن محمد بن إسحاق، عن عبد الرحمن بن أبي بكر، عن الزهري، عن العلاء بن جارية الثقفي، عن أبي هريرة، عن كعب.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبری نے ابراہیم بن مختار کے طریق سے، محمد بن اسحاق سے،... انہوں نے ابوہریرہ سے، اور انہوں نے کعب سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه الطبري في "تاريخه" 1/ 265 من طريق سلمة بن الفضل، عن محمد بن إسحاق، عن عبد الله بن أبي بكر، عن الزهري، عن أبي سفيان بن العلاء بن جارية، عن أبي هريرة، عن كعب. وسلمة بن الفضل أوثق وأتقن في ابن إسحاق من إبراهيم بن المختار. وأخرجه عبد الرزاق في "تفسيره" 2/ 150، ومن طريقه البزار (8059)، والبيهقي في "شعب الإيمان" (6946)، وأبو الحسن الخِلَعي في "الخِلَعيات" (777)، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 6/ 202 - 203، والذهبي في "إثبات الشفاعة" (27) عن معمر بن راشد، عن الزهري، عن القاسم بن محمد، أنه اجتمع أبو هريرة وكعبٌ، فذكره.
📖 حوالہ / مصدر: اور اسے امام طبری نے اپنی "تاریخ" 1/ 265 میں سلمہ بن فضل کے طریق سے روایت کیا ہے، انہوں نے محمد بن اسحاق سے، انہوں نے عبداللہ بن ابی بکر سے، انہوں نے زہری سے، انہوں نے ابو سفیان بن العلاء بن جاریہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ سے اور انہوں نے کعب (الاحبار) سے روایت کیا ہے۔ ⚖️ ترجیح / تعدیل: اور (راوی) سلمہ بن فضل، ابن اسحاق سے روایت کرنے میں ابراہیم بن مختار (جن کا ذکر پچھلی روایت میں تھا) کی نسبت زیادہ "ثقہ" (قابلِ اعتماد) اور زیادہ "اتقان والے" (مضبوط) ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: نیز اسے عبدالرزاق نے اپنی "تفسیر" 2/ 150 میں روایت کیا ہے، اور انہی کے طریق سے بزار (8059)، بیہقی نے "شعب الایمان" (6946) میں، ابو الحسن الخلعی نے "الخلعیات" (777) میں، ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" 6/ 202-203 میں، اور ذہبی نے "اثبات الشفاعۃ" (27) میں معمر بن راشد کے واسطے سے، انہوں نے زہری سے، انہوں نے قاسم بن محمد سے روایت کیا ہے کہ: "حضرت ابوہریرہ اور کعب الاحبار اکٹھے ہوئے..." پھر انہوں نے (وہی) حدیث ذکر کی۔