المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
24. ذِكْرُ مَنْ قَالَ إِنَّ الذَّبِيحَ إِسْحَاقُ، إِغْوَاءُ الشَّيْطَانِ آلَ إِبْرَاهِيمَ فِي ذَبْحِ ابْنِهِ
ان لوگوں کا ذکر جنہوں نے ذبیح سیدنا اسحاق علیہ السلام ہونے کا قول کیا اور ذبح کے وقت شیطان کا آلِ ابراہیم کو بہکانا
حدیث نمبر: 4089
فحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني يونس، عن ابن شهاب، أنَّ عمرو بن أبي سفيان بن أَسِيد بن جارية الثقفي أخبره: أنَّ كعبًا قال لأبي هريرة: ألا أخبِرُك عن إسحاق بن إبراهيم النبي؟ قال أبو هريرة: بلى، قال كعبٌ: لما رأى إبراهيمُ [أن] (1) يذبح إسحاق، قال الشيطانُ: والله لئن لم أفتِن عندها آل إبراهيم لا أُفتِنُ أحدًا منهم أبدًا، فتمثَّل الشيطانُ لهم رجلًا يعرفُونه، قال: فأقبل حتى إذا خرج إبراهيم بإسحاق ليذبحَه دخل على سارةَ امرأةِ إبراهيم، قال لها: أين أصبح إبراهيم غادِيًا بإسحاق؟ قالت سارةُ: غدا لبعض حاجته، قال الشيطان: لا والله، ما غدا لذلك، قالت سارة: فلِمَ غدا به؟ فقال: غدا به ليذبحه، قالت سارة: وليس في ذلك شيءٌ لم يكن ليذبح ابنه، قال الشيطان: بلى والله، قالت سارة: ولِمَ يذبحه؟ قال: زعم أنَّ ربّه أمره بذلك، فقالت سارة: فقد أحسن أن يُطيع ربَّه إن كان أمره بذلك، فخرج الشيطان من عند سارة، حتى إذا أدرك إسحاق وهو يمشي على إثر أبيه، قال: أين أصبح أبوك غادِيًا؟ قال: غدا بي لبعض حاجته، قال الشيطان: لا والله، ما غدا بك لبعض حاجته، ولكنه غدا بك ليذبحك، قال إسحاق: فما كان أبي ليذبحني، قال: بلى، قال: لِمَ؟ قال: زعم أنَّ الله أمره بذلك، قال إسحاق: فوالله إن أمره ليُطيعَنه، فتركه الشيطان، وأسرع إلى إبراهيم، فقال: أين أصبحت غاديًا بابنك، قال: غَدوتُ لبعض حاجتي، قال: لا والله، ما غَدوتَ به إلا لتذبحه، قال: ولم أذبحه؟ قال: زعمت أنَّ الله أمرك بذلك، قال: فوالله لئن كان أمرني لأفعلنَّ. قال: فلما أخذ إبراهيم إسحاق ليذبحه وسلَّم إسحاق عافاه اللهُ، وَفَدَاهُ بِذِبْحٍ عظيم، قال إبراهيم لإسحاق: قم أي بُني، فإنَّ الله قد أعفاك، وأوحى الله إلى إسحاق: أني أعطيتك دعوة أستجيب لك فيها، قال إسحاق: فإني أدعوك أن تستجيب لي: أيُّما عبدٍ لَقِيَك من الأولين والآخرين لا يُشرِكُ بك شيئًا فأدخله الجنة (1) . قال الحاكم: سياقةُ هذا الحديث من كلام كعب بن ماتع الأحبار، ولو ظهر فيه سند لحكمتُ بالصحة على شرط الشيخين، فإنَّ هذا إسناد صحيح لا غُبار عليه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4045 - صحيح لا غبار عليه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4045 - صحيح لا غبار عليه
سیدنا عمرو بن ابوسفیان ابن اسید بن جاریہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا میں تمہیں اللہ تعالیٰ کے نبی سیدنا اسحاق بن ابراہیم علیہما السلام کے بارے میں خبر نہ دوں؟ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیوں نہیں۔ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے خواب میں دیکھا کہ وہ سیدنا اسحاق علیہ السلام کو ذبح کر رہے ہیں تو شیطان نے کہا: خدا کی قسم! اگر اس موقع پر میں ابراہیم علیہ السلام کی آل کو فتنہ میں نہ ڈال سکا تو پھر کبھی بھی ان کو کسی آزمائش میں نہ ڈال سکوں گا۔ چنانچہ شیطان نے ان کی ایک جانی پہچانی شکل اختیار کی اور آ گیا۔ جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام سیدنا اسحاق علیہ السلام کو ذبح کرنے کے لئے اپنے ہمراہ لے کر نکل پڑے تو شیطان سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی زوجہ محترمہ سیدنا سارہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور کہنے لگا: ابراہیم! آج صبح سویرے اسماعیل کو کہاں لے گئے ہیں؟ سیدنا سارہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اپنے کسی کام سے گئے ہیں۔ شیطان نے کہا: نہیں خدا کی قسم وہ کسی کام سے نہیں گئے۔ سیدنا سارہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: تو پھر اسماعیل علیہ السلام کو کس لئے لے کر گئے ہیں؟ شیطان نے کہا: ذبح کرنے کے لئے لے کر گئے ہیں۔ سیدنا سارہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یہ تو کوئی بات نہ ہوئی، باپ اپنے بیٹے کو ذبح نہیں کرے گا؟ شیطان نے کہا: کیوں نہیں۔ خدا کی قسم۔ سارہ رضی اللہ عنہا نے کہا۔ وہ اپنے بیٹے کو کیوں ذبح کرے گا؟ شیطان نے کہا: اس لئے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے رب نے ان کو یہ حکم دیا ہے۔ سیدنا سارہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اگر واقعی اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے تب تو اچھی بات ہے کہ وہ اپنے رب کے حکم کی تعمیل کریں گے۔ شیطان یہاں سے نکلا اور سیدنا اسحاق علیہ السلام کے پاس چلا گیا وہ اپنے والد کے پیچھے پیچھے جا رہے تھے۔ شیطان نے ان سے کہا: تمہارا باپ تمہیں کہاں لئے جا رہا ہے؟ سیدنا اسحاق علیہ السلام نے کہا: کسی کام سے جا رہے ہیں۔ شیطان نے کہا: نہیں خدا کی قسم یہ تمہیں کسی کام سے نہیں بلکہ تمہیں ذبح کرنے کے لئے لے کر جا رہا ہے۔ سیدنا اسحاق علیہ السلام نے کہا: میرا باپ مجھے ذبح نہیں کرے گا۔ شیطان نے کہا: کیوں نہیں کرے گا۔ سیدنا اسحاق علیہ السلام نے پوچھا: وہ مجھے کیوں ذبح کریں گے؟ شیطان نے کہا، اس لئے وہ سمجھ رہے ہیں کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے۔ سیدنا اسحاق علیہ السلام نے کہا: خدا کی قسم! اگر اللہ تعالیٰ ان کو حکم دے تو وہ ضرور اس کی تعمیل کریں گے۔ شیطان نے ان کو چھوڑ دیا اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے پاس آ گیا اور کہنے لگا۔ تم اپنے بیٹے کو کہاں لے کر جا رہے ہو؟ آپ نے فرمایا: میں اپنے کسی ضروری کام سے لے جا رہا ہوں۔ اس نے کہا: نہیں خدا کی قسم! تم تو اسے ذبح کرنے کے لئے لے جا رہے ہو۔ آپ نے فرمایا: میں بھلا اس کو کیوں ذبح کروں گا؟ شیطان نے کہا: اس لئے کہ تم سمجھے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ حکم دیا ہے۔ آپ نے فرمایا: خدا کی قسم جو حکم اللہ تعالیٰ نے مجھے دیا ہے، میں اس کی تعمیل ضرور کروں گا۔ جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے ذبح کرنے کے لئے سیدنا اسحاق علیہ السلام کو پکڑ لیا اور سیدنا اسحاق علیہ السلام نے بھی سر تسلیم خم کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو بچا لیا اور ایک عظیم ذبیحہ ان کے فدیہ میں دیا۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے سیدنا اسحاق علیہ السلام سے فرمایا: اے میرے بیٹے اٹھو! کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں بچا لیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے سیدنا اسحاق علیہ السلام کی جانب وحی فرمائی کہ میں آپ کو ایک دعا کا موقع دیتا ہوں، آپ جو بھی دعا مانگیں گے میں اس کو ضرور پورا کروں گا۔ سیدنا اسحاق علیہ السلام فرماتے ہیں: میں اس میں یہ دعا مانگوں گا کہ اگلے پچھلے لوگوں میں سے جو بھی تجھے اس حالت میں ملے کہ اس کا نامہ اعمال شرک کے داغ سے صاف ہو تو اس کو جنت میں داخل فرما دے گا۔ ٭٭ امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: اس حدیث کی سند کعب بن ماتع احبار کے کلام سے ہے اور اگر اس کو سند مل جائے تو میں اس کو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے مقرر کئے ہوئے معیار کے مطابق اسے صحیح قرار دینے کے حق میں ہوں کیونکہ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے، اس پر کوئی غبار نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ/حدیث: 4089]
حدیث نمبر: 4090
حدثنا إسماعيل بن علي الخُطَبي ببغداد، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا موسى بن إسماعيل وحجاج بن مِنْهال، قالا: حدثنا حماد بن سلمة، عن داود بن أبي هند، عن عكرمة، عن ابن عباس قال: هو إسحاق؛ يعني الذبيح (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4046 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4046 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: وہ اسحاق علیہ السلام یعنی ذبیح ہیں اور حماد بن سلمہ نے عبداللہ بن عثمان بن خیثم کے واسطے سے سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جن کو سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے ذبح کرنے کا ارادہ کیا تھا، وہ سیدنا اسحاق علیہ السلام ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ/حدیث: 4090]
حدیث نمبر: 4090M
وحدثنا (2) حماد بن سلمة، عن عبد الله بن عثمان بن خُثَيم، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس قال: الذي أراد إبراهيمُ ذَبْحَه إسحاق (3) .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ: ”جس (بیٹے) کے ذبح کرنے کا ارادہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے کیا تھا، وہ اسحاق (علیہ السلام) تھے“۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ/حدیث: 4090M]
حدیث نمبر: 4091
حدثنا إسماعيل بن الفضل بن محمد الشعراني، أخبرنا جدي، حدثنا سُنَيد بن داود، حدثنا حجاج بن محمد، عن شُعبة، عن أبي إسحاق، عن أبي الأحوص، عن عبد الله قال: الذَّبِيحُ إسحاقُ (1)
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4047 - قال أبو داود سنيد لم يكن بذاك
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4047 - قال أبو داود سنيد لم يكن بذاك
سیدنا ابوالاحوص نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ ذبیح سیدنا اسحاق علیہ السلام ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ/حدیث: 4091]
حدیث نمبر: 4092
حدثناه أبو عبد الله بن بُطّة، حدثنا الحسن بن الجهم، حدثنا الحسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عُمر، حدثنا أبو سليمان داود بن عبد الرحمن العطار، عن عبد الله بن عثمان بن خُثَيم، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس قال: إنَّ الصخرة التي في أصل ثَبِيرٍ التي ذبح عليها إبراهيم إسحاقَ، هَبَطَ عليه كبشٌ أغبَرُ له نُواحٌ من ثَبِير قد نَوحه؛ فذكر حديثًا طويلًا (1) .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: وہ چٹان جو ثبیر پہاڑ کے دامن میں ہے جس پر سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے سیدنا اسحاق علیہ السلام کو ذبح کیا تھا جس پر خاکی رنگ کا مینڈھا نازل کیا گیا تھا، اس پہاڑ میں سے رونے کی آواز آ رہی تھی۔ پھر اس کے بعد تفصیلی حدیث بیان کی۔ نوٹ: واقدی نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے خواب میں دیکھا کہ وہ سیدنا اسحاق علیہ السلام کو ذبح کر رہے ہیں تو ان کا ہاتھ پکڑا پھر اس کے بعد طویل حدیث نقل کی ہے۔ امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: واقدی نے اس کو اپنی کئی سندوں کے ساتھ ذکر کیا ہے اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ، سیدنا عمیر بن قتادہ لیثی رضی اللہ عنہ، سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ، سیدنا ابی کعب رضی اللہ عنہ، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کا بھی یہی قول ہے۔ جبکہ میں نے دیکھا ہے کہ ہم سے پہلے محدثین اور ان تمام علاقوں کے محدثین جہاں جہاں سے ہم نے حدیث پڑھی ہے، ان میں کسی کا بھی اس بارے میں اختلاف نہیں ہے کہ ذبیح سیدنا اسماعیل علیہ السلام ہیں اور اس سلسلہ میں ان کی دلیل یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: میں دو ذبیحوں کی اولاد میں سے ہوں۔ اور اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ آپ سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور دوسرے ذبیح آپ کے والد سیدنا عبداللہ بن عبدالمطلب تھے اور (ادھر ان دلائل پر مشتمل احادیث روایت کرنے والے لوگ) خود ان لوگوں کے موقف کی تائید کرتے جو کہتے ہیں کہ ذبیح سیدنا اسحاق علیہ السلام تھے۔ سیدنا وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ کی روایت: (امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ) اس روایت میں غلو سے کام لیا گیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ/حدیث: 4092]
حدیث نمبر: 4092M
قال الواقدي: وحدثنا محمد بن عمرو الأوسي، عن أبي الزبير، عن جابر قال: لما رأى إبراهيم في المنام أن يَذبَح إسحاق أخذ بيده؛ فذكره بطوله (2) . قال الحاكم: وقد ذكر الواقديُّ بأسانيده هذا القول عن أبي هريرة، وعبد الله بن سَلَام، وعُمير بن قتادة الليثي، وعثمان بن عفان، وأبي بن كعب، وعبد الله بن مسعود، وعبد الله بن عمرو، وعبد الله بن عمر، والله أعلم. وقد كنت أرى مشايخ الحديث قبلنا وفي سائر المدن التي طلبنا الحديث فيها، وهم لا يختلفون أن الذبيح إسماعيل، وقاعدَتُهم فيه قول النبي ﷺ:"أنا ابن الذبيحين" (3) ، إذ لا خلاف أنه من ولد إسماعيل، وأنَّ الذَّبيح الآخر أبوه الأدنى عبد الله بن عبد المطلب، والآن فإنِّي أجدُ مُصنِّفي هذه [الأزمنة] (4) يختارون قول من قال: إنه إسحاق (5) .. فأما الرواية عن وهب بن مُنبِّه، وهو باب هذه العلوم:
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے خواب میں دیکھا کہ وہ اسحاق (علیہ السلام) کو ذبح کر رہے ہیں تو انہوں نے ان کا ہاتھ پکڑا، (پھر راوی نے) یہ طویل قصہ ذکر کیا۔ امام حاکم فرماتے ہیں: واقدی نے اسے اپنی اسناد کے ساتھ ذکر کیا ہے اور یہی قول سیدنا ابوہریرہ، عبداللہ بن سلام، عمیر بن قتادہ لیثی، عثمان بن عفان، ابی بن کعب، عبداللہ بن مسعود، عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم سے مروی ہے، واللہ اعلم۔ اور میں نے اپنے سے پہلے کے مشائخِ حدیث اور ان تمام شہروں کے علماء کو جن میں ہم نے طلبِ حدیث کے لیے سفر کیا، اسی بات پر پایا کہ وہ اس میں کوئی اختلاف نہیں کرتے تھے کہ ذبیح سیدنا اسماعیل علیہ السلام ہیں؛ اور اس بارے میں ان کا قاعدہ (دلیل) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے کہ: ”میں دو ذبیحوں کا بیٹا ہوں“، کیونکہ اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور دوسرے ذبیح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی والد عبداللہ بن عبدالمطلب تھے۔ لیکن اب میں دیکھ رہا ہوں کہ ان دلائل پر کتابیں لکھنے والے اس قول کو اختیار کر رہے ہیں جو کہتے ہیں کہ وہ اسحاق (علیہ السلام) تھے۔ رہی بات وہب بن منبہ سے مروی روایات کی، تو وہ ان علوم (قدیمہ) کا دروازہ ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ/حدیث: 4092M]