المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
15. مراسلته رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم إلى النجاشي
نبی کریم ﷺ کا نجاشی کے نام خط لکھنا
حدیث نمبر: 4291
حدثنا أبو الحسين محمد بن أحمد بن تَمِيم القَنْطري ببغداد، حدثنا جعفر بن محمد بن شاكِر، حدثنا خالد بن يزيد القَرْني، حدثنا حُدَيج بن مُعاوية، حدثنا أبو إسحاق، عن عبد الله بن عُتْبة، عن عبد الله بن مسعود، قال: بَعَثَنا رسولُ الله ﷺ إلى النَّجَاشيّ ونحن نحوٌ من ثَمانين رجلًا، فذكر الحديثَ بطُوله (1) ، كما أخرجتُه في"التفسير" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وليعلم طالبُ العلم أنَّ النجاشي كان مشركًا قبل وُرُودِ أصحابِ رسول الله ﷺ بكِتابِه عليه الدليلُ على ذلك إخراجُهما في"الصحيحين" عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة: أنَّ أم سَلمَة وأم حَبيبةَ ذَكَرتا كَنِيسةً، وأنها بأرضِ الحَبَشِةِ، فيها تَصاويرُ، الحديث (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وليعلم طالبُ العلم أنَّ النجاشي كان مشركًا قبل وُرُودِ أصحابِ رسول الله ﷺ بكِتابِه عليه الدليلُ على ذلك إخراجُهما في"الصحيحين" عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة: أنَّ أم سَلمَة وأم حَبيبةَ ذَكَرتا كَنِيسةً، وأنها بأرضِ الحَبَشِةِ، فيها تَصاويرُ، الحديث (2) .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نجاشی کی طرف بھیجا۔ اس وقت ہم 80 کے لگ بھگ افراد تھے پھر اس کے بعد طویل حدیث بیان کی جیسا کہ میں نے کتاب التفسیر میں بیان کی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ اور علم کے طلبگار کو جاننا چاہئے کہ نجاشی وہ بادشاہ ہے جس نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اس کے دربار میں پیش ہونے سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لکھا ہوا خط پھاڑ ڈالا تھا۔ اس بات پر دلیل وہ حدیث ہے جو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی صحیح میں درج کی ہے کہ ہشام بن عروہ اپنے والد کے حوالے سے روایت کرتے ہیں کہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے ایک گرجا کا ذکر کیا ہے جس میں تصاویر وغیرہ تھیں اور گرجا حبشہ میں ہی تھا۔ (الحدیث) [المستدرك على الصحيحين/كتاب : آيات رسول الله صلى الله عليه وسلم التى فى دلائل النبوة/حدیث: 4291]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4291 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف حُديج بن معاوية، لكن قد رُوي ما يشهد لروايته من حديث جعفر بن أبي طالب عند أحمد 3/ (1740) وغيره بسند حسن، مع مغايرة يسيرة في بعض حروفه، كما هو ظاهر في رواية حُديج التي ساقها بتمامها أحمد 7/ (4400) وغيره، وفي بعض حروف رواية حُديج نكارة واضحة كذكر أبي موسى الأشعري، ففيه مخالفة صريحة لحديثِ أبي موسى الذي عند البخاري (3876) ومسلم (2502) أنه قال: بلغنا مخرجُ رسولِ الله ﷺ ونحن باليمن، فخرجنا مهاجرين إليه … فركبنا سفينةً، فألقتنا سفينتنا إلى النجاشي بالحبشة، ووافقْنا جعفرَ بنَ أبي طالب وأصحابَه عنده، فقال جعفر: إنَّ رسول الله ﷺ بعثنا هاهنا، وأمرنا بالإقامة فأقيموا معنا، فأقمنا معه، حتى قدمنا جميعًا، فوافقنا النبي ﷺ حين افتتح خيبر. على أنه قد رَوى إسرائيلُ بن يونس بن أبي إسحاق السَّبيعي عن جده أبي إسحاق عن أبي بردة بن أبي موسى الأشعري عن أبيه، كما تقدم برقم (3247): أنَّ النبي ﷺ أمره أن ينطلق إلى أرض الحبشة، وذكر القصة، وهذا يوهم صحة ما ورد في حديث حُديج هذا بحضور أبي موسى الأشعري مع جعفر إلى أرض الحبشة، لكن قال الذهبي في "تاريخ الإسلام" 1/ 582: يظهر لي إنَّ إسرائيل وهم فيه، ودخل عليه حديث في حديث، وإلَّا أين كان أبو موسى الأشعري ذلك الوقت.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) یہ حدیث حسن لغیرہ ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ سند "حدیج بن معاویہ" کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی حدیث سے اس کے شواہد مروی ہیں جو مسند احمد (3/ 1740) وغیرہ میں حسن سند کے ساتھ موجود ہیں، جس میں الفاظ کا معمولی سا فرق ہے۔ 📌 اہم نکتہ / نکارت: جیسا کہ حدیج کی روایت (جسے احمد 7/ 4400 وغیرہ نے مکمل سیاق کے ساتھ نقل کیا ہے) کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے، اس کے بعض الفاظ میں واضح نکارت ہے، مثلاً "ابو موسیٰ اشعری" کا (جعفرؓ کے ساتھ روانگی میں) ذکر کرنا۔ یہ صحیح بخاری (3876) اور صحیح مسلم (2502) میں موجود ابو موسیٰ اشعریؓ کی اپنی حدیث کے صریح خلاف ہے۔ صحیحین میں ہے کہ ابو موسیٰ نے فرمایا: "ہمیں یمن میں رسول اللہ ﷺ کے ظہور کی خبر ملی تو ہم ہجرت کی غرض سے نکلے۔۔۔ ہم کشتی میں سوار ہوئے تو ہماری کشتی نے ہمیں حبشہ میں نجاشی کے پاس پہنچا دیا (یعنی ہواؤں کے رخ کی وجہ سے)، وہاں ہماری ملاقات جعفر بن ابی طالب اور ان کے ساتھیوں سے ہوئی، جعفر نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں یہاں بھیجا ہے اور قیام کا حکم دیا ہے، لہٰذا تم بھی ہمارے ساتھ قیام کرو، چنانچہ ہم ان کے ساتھ ٹھہر گئے، یہاں تک کہ ہم سب (اکٹھے واپس) آئے اور نبی ﷺ سے اس وقت ملے جب آپ خیبر فتح کر چکے تھے۔" 📝 وضاحت: اگرچہ اسرائیل بن یونس بن ابی اسحاق السبیعی نے اپنے دادا ابو اسحاق سے، انہوں نے ابو بردہ بن ابی موسیٰ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا ہے (جیسا کہ رقم 3247 پر گزرا) کہ "نبی ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ سرزمین حبشہ چلے جائیں" اور پھر قصہ ذکر کیا، جس سے یہ وہم ہوتا ہے کہ حدیج کی حدیث میں ابو موسیٰ کا جعفر کے ساتھ حبشہ جانا شاید صحیح ہو؛ لیکن امام ذہبی نے "تاریخ الاسلام" (1/ 582) میں فرمایا: "مجھے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل کو اس میں وہم ہوا ہے اور ایک حدیث دوسری حدیث میں داخل ہو گئی ہے، ورنہ اس وقت (شروع اسلام میں) ابو موسیٰ اشعری کہاں تھے؟ (وہ تو یمن میں تھے)۔"
قلنا: ويؤيد كلام الذهبي أن بُريد بن عبد الله بن أبي بردة قد روى قصة هجرة أبي موسى، عن أبي بردة عن أبي موسى، عن أبيه، وروايته في "الصحيحين"، فقال فيها: بلغنا مخرج النبي ﷺ ونحن باليمن، فذكر ما تقدم، وليس فيه خروج أبي موسى مع جعفر بأمر النبي ﷺ إلى الحبشة.
📌 اہم نکتہ / تحقیق: ہم کہتے ہیں: امام ذہبی کے کلام کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ برید بن عبداللہ بن ابی بردہ نے ابو موسیٰ کی ہجرت کا قصہ "عن ابی بردہ عن ابی موسیٰ عن ابیہ" روایت کیا ہے اور ان کی روایت "صحیحین" میں ہے، جس میں الفاظ ہیں: "ہم یمن میں تھے کہ ہمیں نبی ﷺ کے ظہور کی خبر ملی۔۔۔" (پھر سابقہ واقعہ ذکر کیا)۔ اس میں یہ ذکر نہیں ہے کہ ابو موسیٰ، نبی ﷺ کے حکم سے جعفر کے ساتھ (مکہ سے) حبشہ نکلے تھے۔
وأخرج حديثَ حُديجٍ أحمد 7/ (4400) عن حسن بن موسى، عن حُديج بن معاوية، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: حدیج کی حدیث کو امام احمد (7/ 4400) نے حسن بن موسیٰ عن حدیج بن معاویہ کے طریق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
(1) انظر الكلام على كتابه "التفسير" في مبحث كتب الحاكم من مقدمتنا لهذا التحقيق.
📝 نوٹ / توضیح: (1) حاکم کی کتاب "التفسیر" پر کلام دیکھنے کے لیے ہماری اس تحقیق کے مقدمے میں "کتب الحاکم" کی بحث ملاحظہ کریں۔
(2) أخرجه البخاري (427) و (3873)، ومسلم (528).
📖 حوالہ / مصدر: (2) اسے بخاری (427 اور 3873) اور مسلم (528) نے روایت کیا ہے۔