المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
16. هجرة عثمان مع رقية رضي الله عنهما إلى الحبشة
حضرت عثمانؓ اور حضرت رقیہؓ کی حبشہ کی طرف ہجرت
حدیث نمبر: 4292
أخبرني إسماعيلُ بن محمد الشَّعْراني، حدثنا جَدِّي، حدثنا إبراهيم بن المُنذِر الحِزامي، حدثنا محمد بن فُلَيح، عن موسى بن عُقبة، عن ابن شِهَابٍ: أَنَّ عُثمانَ بن عفّان وامرأتَه رُقَيّة بنتَ رسولِ الله ﷺ خَرَجا مُهاجِرَين من مكة إلى الحبشة الهجرةَ الأولى، ثم قَدِما على رسول الله ﷺ مَكةَ، ثم هاجَرا إلى المدينة (3) . قد اتفقَ الشيخانِ على إخراج حديث شعيب بن أبي حمزة (4) وغيره، عن الزُّهْري، عن عُرْوة، عن عبيد الله بن عَدِيّ، عن المسور بن مَخْرَمة، في خروج عثمان بن عفّان إلى أرض الحبشة، وساقا الحديثَ بطُولِه، فلذلك اقتصرتُ على روايةِ موسى بن عُقبة عن ابن شِهَاب. وذكر ابن إسحاق في المَغَازي: أنَّ رُقيّة بنت رسولِ الله ﷺ فيما ذَكَرُوا، لم يُرَ في العَرَبِ ولا في الحَبَشِ أحسنُ منها.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4246 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4246 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابن شہاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اور ان کی اہلیہ محترمہ سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی رضی اللہ عنہا نے مکہ سے حبشہ کی جانب پہلی ہجرت کی تھی پھر یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے اور پھر مدینۃ المنورہ کی جانب ہجرت فرمائی۔ ٭٭ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے زہری پھر عروہ پھر عبیداللہ بن عدی کے ذریعے مسور بن مخرمہ کے حوالے سے ابن ابی شیبہ اور دیگر کی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی حبشہ کی طرف ہجرت کے متعلق حدیث نقل کی ہے اور طویل حدیث بیان کی ہے، اسی لئے میں نے موسیٰ بن عقبہ کی ابن اسحاق سے روایت پر اکتفا کیا ہے اور مغازی میں ذکر ہے کہ پورے عرب اور حبشہ میں رقیہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر کوئی حسین نہیں تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : آيات رسول الله صلى الله عليه وسلم التى فى دلائل النبوة/حدیث: 4292]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4292 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) رجاله ثقات، وابن شهاب - وهو الزُّهْري - إنما أخذه عن جماعة وهم أبو بكر بن عبد الرحمن بن الحارث وسعيد بن المسيب وعروة كما في "التاريخ الأوسط" للبخاري (3)، و "أحكام القرآن" للطحاوي (410) وقال الطحاوي بإثره: منقطعُ ابن المسيّب يقوم مقام المتصل.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (3) اس کے رجال "ثقہ" ہیں۔ ابن شہاب (زہری) نے اسے ایک جماعت سے اخذ کیا ہے جن میں ابو بکر بن عبدالرحمٰن بن الحارث، سعید بن مسیب اور عروہ شامل ہیں، جیسا کہ بخاری کی "التاریخ الاوسط" (3) اور طحاوی کی "احکام القرآن" (410) میں ہے۔ اور طحاوی نے اس کے بعد فرمایا: "ابن مسیب کی منقطع (مرسل) روایت متصل کے قائم مقام ہوتی ہے۔"
(4) هذا وهمٌ منه، لأنَّ البخاري وحده أخرج هذا الحديث دون مسلم، وهو عند البخاري برقم (3927) معلقًا عن بشر بن شعيب بن أبي حمزة عن أبيه، وموصولًا برقم (3696) من طريق يونس بن يزيد، وبرقم (3872) و (3927) من طريق معمر، ثلاثتهم عن الزُّهْري.
📝 نوٹ / وہم: (4) یہ مصنف (حاکم) کا "وہم" ہے، کیونکہ اس حدیث کی تخریج صرف امام بخاری نے کی ہے، مسلم نے نہیں کی۔ یہ بخاری کے ہاں (رقم 3927 پر) بشر بن شعیب بن ابی حمزہ عن ابیہ کے طریق سے "تعلیقاً" مروی ہے، اور (رقم 3696 پر) یونس بن یزید کے طریق سے اور (رقم 3872 اور 3927 پر) معمر کے طریق سے "موصولاً" مروی ہے۔ یہ تینوں اسے زہری سے روایت کرتے ہیں۔