المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
29. استجارة عبد الله بن أبى سرح عند عثمان وشفاعته عند النبى صلى الله عليه وآله وسلم
عبد اللہ بن ابی سرح کا حضرت عثمانؓ کے پاس پناہ لینا اور نبی کریم ﷺ کے سامنے ان کی سفارش کرنا
حدیث نمبر: 4409
حدثناه بكر بن محمد الصيرفي بمَرْو، حدَّثنا إبراهيم بن هلال، حدَّثنا علي بن الحسن بن شَقِيق، حدَّثنا الحُسين بن واقِد، عن يزيد النَّحوي، عن عِكْرمة، عن ابن عبّاس، قال: كان عبدُ الله بن أبي سَرْح يكتب لرسولِ الله ﷺ، فأزلَّه الشيطان فلَحِقَ بالكُفّار، فأمر به رسولُ الله ﷺ أن يُقتل، فاستجارَ له عثمانُ فأجارَه رسولُ الله ﷺ (2) . صحيح على شرط البخاريّ، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4361 - على شرط البخاري
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4361 - على شرط البخاري
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن ابی سرح رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے (ہاں وحی کی کتابت کے لئے) کاتب تھے۔ پھر یہ مرتد ہو کر کفار سے جا ملے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو قتل کرنے کا حکم فرما دیا تھا۔ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کے لئے امان مانگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو امان دے دی تھی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4409]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4409 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث قوي، وهذا إسناد حسن من أجل إبراهيم بن هلال - وهو ابن عمر البُوزَنْجِرْدي - وقد توبع فيما تقدم برقم (3401). والحسين بن واقد قوي الحديث.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "قوی" ہے اور سند "حسن" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سند کے حسن ہونے کی وجہ ابراہیم بن ہلال (ابن عمر البوزنجردی) ہیں، جن کی متابعت نمبر (3401) پر گزر چکی ہے۔ اور حسین بن واقد قوی الحدیث ہیں۔