المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
61. رؤيا عثمان النبى - صلى الله عليه وآله وسلم - يقول له " أفطر عندنا " .
سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خواب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہمارے پاس افطار کرنا
حدیث نمبر: 4606
حَدَّثَنَا أبو القاسم علي بن المؤمَّل بن الحَسن بن عيسى، حَدَّثَنَا محمد بن يونس القُرشي، حَدَّثَنَا هارون بن إسماعيل الخَزّاز، حَدَّثَنَا قُرة بن خالد السَّدُوسي، سمع الحسنَ، عن قيس بن عُبَاد، قال: شهدتُ عليًا يوم الجمَل يقولُ: اللهم إني أبرأُ إليكَ من دمِ عثمانَ، ولقد طاشَ عَقْلي يوم قُتل عثمانُ وأنكرتُ نفسي، وأرادُوني على البَيعة، فقلت: والله إني لأستحْيي من الله أن أبايعَ قومًا قتلوا رجلًا قال له رسول الله ﷺ:"ألا أستحْيي ممَّن تَستحْيي منه الملائكةُ"، وإني لأستحْيي من الله أن أبايع وعثمانُ قتيلُ الأرض لم يُدفَن بعدُ، فانصرفوا فلما دُفن رجعَ الناسُ إليَّ فسألوني البيعة، فكأنما صُدِع عن قلبي، فقلتُ: اللهم خُذْ مني لعثمانَ حتَّى تَرْضى (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4556 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4556 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
سیدنا قیس بن عبادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جنگ جمل کے دن میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یوں کہتے ہوئے سنا ہے ” اے اللہ! میں تیری بارگاہ میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خون سے براءت کا اظہار کرتا ہوں، جس دن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا، اس دن میری عقل جواب دے گئی تھی، اور یہ خبر مجھے بہت ناگوار گزری، لوگوں نے میری بیعت کرنا چاہی تھی، لیکن میں نے کہا: خدا کی قسم! مجھے اللہ سے حیاء آتی ہے کہ اس قوم سے بیعت لوں جنہوں نے اس شخص کو شہید کر ڈالا ہے جن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ میں اس آدمی سے حیاء نہ کروں جس سے ملائکہ بھی حیاء کرتے ہیں، مجھے اللہ سے حیاء آتی ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہوئے پڑے ہیں، ابھی ان کی تدفین بھی نہیں ہوئی، اور لوگ میری بیعت کریں، چنانچہ لوگ واپس چلے گئے، جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی تدفین ہو چکی، تو لوگ دوبارہ میرے پاس آئے، پھر بیعت لینے کا مطالبہ شروع کر دیا، میں نے کہا: اے اللہ! میں اس اقدام پر بھی ڈر رہا ہوں، پھر عزیمت آئی تو میں نے بیعت لے لی، جب لوگوں نے مجھے یا امیرالمومنین کہہ کر پکارا تو مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے میرا کلیجہ پھٹ جائے گا تو میں نے کہا: اے اللہ! تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں مجھ سے مواخذہ کر لے حتی کہ تو راضی ہو جائے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4606]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4606 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) هذا الإسناد فيه محمد بن يونس القرشي - وهو الكُديمي - وهو ضعيف جدًّا، لكن تقدم الخبر برقم (4577) من رواية محمد بن أحمد بن يزيد الرِّيَاحي، وهو صدوق، عن هارون بن إسماعيل الخزاز، فالخبر حسن بذلك الإسناد.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس سند میں محمد بن یونس القرشی (الکدیمی) ہے جو کہ سخت ضعیف (ضعیف جداً) ہے، لیکن یہ خبر پیچھے نمبر (4577) پر محمد بن احمد بن یزید الریاحی (جو کہ صدوق ہیں) کی روایت سے، وہ ہارون بن اسماعیل الخزاز سے گزر چکی ہے، لہٰذا اس سند سے یہ خبر حسن ہے۔
وأخرجه أبو بكر الكلاباذي في "معاني الأخبار" ص 272، وأبو نُعيم في "تثبيت الإمامة" (137) وفي "معرفة الصحابة" (279)، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 39/ 450 من طرق عن محمد بن يونس الكُديمي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو بکر الکلاباذی نے ”معانی الاخبار“ (صفحہ 272) میں، ابو نعیم نے ”تثبیت الامامۃ“ (137) اور ”معرفۃ الصحابہ“ (279) میں، اور ابن عساكر نے ”تاریخ دمشق“ (39/ 450) میں متعدد طرق سے محمد بن یونس الکدیمی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔