🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
61. رؤيا عثمان النبى - صلى الله عليه وآله وسلم - يقول له " أفطر عندنا " .
سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خواب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہمارے پاس افطار کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4606
حَدَّثَنَا أبو القاسم علي بن المؤمَّل بن الحَسن بن عيسى، حَدَّثَنَا محمد بن يونس القُرشي، حَدَّثَنَا هارون بن إسماعيل الخَزّاز، حَدَّثَنَا قُرة بن خالد السَّدُوسي، سمع الحسنَ، عن قيس بن عُبَاد، قال: شهدتُ عليًا يوم الجمَل يقولُ: اللهم إني أبرأُ إليكَ من دمِ عثمانَ، ولقد طاشَ عَقْلي يوم قُتل عثمانُ وأنكرتُ نفسي، وأرادُوني على البَيعة، فقلت: والله إني لأستحْيي من الله أن أبايعَ قومًا قتلوا رجلًا قال له رسول الله ﷺ:"ألا أستحْيي ممَّن تَستحْيي منه الملائكةُ"، وإني لأستحْيي من الله أن أبايع وعثمانُ قتيلُ الأرض لم يُدفَن بعدُ، فانصرفوا فلما دُفن رجعَ الناسُ إليَّ فسألوني البيعة، فكأنما صُدِع عن قلبي، فقلتُ: اللهم خُذْ مني لعثمانَ حتَّى تَرْضى (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4556 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
قیس بن عباد سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے جنگ جمل کے دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اے اللہ! میں عثمان کے خون کے الزام سے تیری بارگاہ میں براءت کا اظہار کرتا ہوں، جس دن عثمان شہید کیے گئے میرا تو دماغ گھوم گیا تھا اور مجھے اپنی پہچان بھی بھول گئی تھی، لوگوں نے مجھ سے بیعت لینی چاہی تو میں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے اللہ سے حیا آتی ہے کہ میں ایسے لوگوں سے بیعت لوں جنہوں نے اس شخص کو قتل کر دیا جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں؟ اور مجھے اللہ سے یہ حیا بھی مانع ہے کہ میں اس حال میں بیعت لوں کہ عثمان زمین پر مقتول پڑے ہوں اور ابھی تک دفن بھی نہ ہوئے ہوں، چنانچہ وہ لوگ چلے گئے، پھر جب انہیں دفن کر دیا گیا تو لوگ دوبارہ میرے پاس آئے اور مجھ سے بیعت کا مطالبہ کیا، تب جا کر میرے دل کا بوجھ ہلکا ہوا، پھر میں نے دعا کی: «اللَّهُمَّ خُذْ مِنِّي لِعُثْمَانَ حَتَّى تَرْضَى» اے اللہ! عثمان کے حق کے لیے مجھ سے بدلہ لے لے یہاں تک کہ تو راضی ہو جائے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4606]
تخریج الحدیث: «هذا الإسناد فيه محمد بن يونس القرشي - وهو الكُديمي - وهو ضعيف جدًّا، لكن تقدم الخبر برقم (4577) من رواية محمد بن أحمد بن يزيد الرِّيَاحي، وهو صدوق، عن هارون بن إسماعيل الخزاز، فالخبر حسن بذلك الإسناد.» [ترقيم الرساله 4606] [ترقيم الشركة 4582] [ترقيم العلميه 4556]

الحكم على الحديث: ضعيف جدًّا
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4606 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) هذا الإسناد فيه محمد بن يونس القرشي - وهو الكُديمي - وهو ضعيف جدًّا، لكن تقدم الخبر برقم (4577) من رواية محمد بن أحمد بن يزيد الرِّيَاحي، وهو صدوق، عن هارون بن إسماعيل الخزاز، فالخبر حسن بذلك الإسناد.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس سند میں محمد بن یونس القرشی (الکدیمی) ہے جو کہ سخت ضعیف (ضعیف جداً) ہے، لیکن یہ خبر پیچھے نمبر (4577) پر محمد بن احمد بن یزید الریاحی (جو کہ صدوق ہیں) کی روایت سے، وہ ہارون بن اسماعیل الخزاز سے گزر چکی ہے، لہٰذا اس سند سے یہ خبر حسن ہے۔
وأخرجه أبو بكر الكلاباذي في "معاني الأخبار" ص 272، وأبو نُعيم في "تثبيت الإمامة" (137) وفي "معرفة الصحابة" (279)، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 39/ 450 من طرق عن محمد بن يونس الكُديمي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو بکر الکلاباذی نے ”معانی الاخبار“ (صفحہ 272) میں، ابو نعیم نے ”تثبیت الامامۃ“ (137) اور ”معرفۃ الصحابہ“ (279) میں، اور ابن عساكر نے ”تاریخ دمشق“ (39/ 450) میں متعدد طرق سے محمد بن یونس الکدیمی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 4606 in Urdu