🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
62. مراثي عثمان - رضي الله تعالى عنه - .
سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مرثیے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4613
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن أحمد بن أُمية بن مسلم القرشي بالسّاوَة، حدثني أبي، عن أبيه، عن عبد الرحمن بن مَغْراء، سمعتُ محمد بن إسحاق بن يسار يَذكُر عن شيوخه: أنَّ أم حَبيبة بنت أبي سُفيان زوجةَ رسول الله ﷺ وَجَّهَتْ رسولًا إلى عبد الله بن أبي ربيعة - أخو عيّاش بن أبي ربيعة - رسولًا يخبره بقتل عثمان ووجّهَت إليه بقميصِه الذي قُتل فيه، وأثوابِه مُضرَّجاتٍ بدمِه، فلما وَرَدَ عليه الرسولُ، خرجَ إلى الناس وصَعِدَ المنبرَ وأخبرهم بقَتْله، ونَشَر قميصَه على المِنبَر، وبكى وبكي الناسُ معه، وأنشأ يقول: أتانيَ أمرٌ فيه للناسِ غُمَّةٌ … وفيه بُكاءٌ للعُيونِ طويلٌ وفيه مَتاعٌ للحياةِ بذِلَّةٍ … وفيه اجتِداعٌ للأنُوفِ أصيلُ مُصابُ أميرِ المؤمنينَ وهَدّةٌ … تكادُ لها (1) شُمُّ الجِبال تَزُولُ تَداعَتْ عليه بالمدينةِ عُصْبةٌ … فريقانِ: منهم قاتِلٌ وخَذُولُ سأَنْعَى أبا عمرٍو بكلِّ مُهنَّدٍ … وبِيضٍ لها في الدّارِعِينَ صَليلُ (1) ولا نَومَ حتَّى يُشجَرَ (2) القومُ بالقَنَا … ويُشفى من القومِ الغُواةِ غَليلُ ولستُ مُقِيمًا ما حَيِيتُ ببلدةٍ … أجُرُّ بها ذَيلًا وأنت قَتيلُ قال: فخرج لنُصرته بمن كان مَعَه، فلما قَرُبَ من مكةَ سَقَطَ عن راحلتِه فماتَ (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4564 - حذفه الذهبي من التلخيص
محمد بن اسحاق بن بشار اپنے شیوخ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں: سیدہ ام حبیبہ بنت ابی سفیان، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ نے عیاش بن ابی ربیعہ کے بھائی عبداللہ ابن ابی ربیعہ کو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر پہنچانے کے لئے، ان کی جانب ایک قاصد بھیجا اور ان کو وہ قمیص بھی بھیجی، جس میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا تھا اور آپ کے کپڑے خون سے لت پت تھے۔ جب قاصد ان کے پاس پہنچا تو وہ لوگوں کی طرف نکل آئے اور منبر پر چڑھ کر لوگوں کو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر سنائی اور ان کی قمیص منبر پر پھیلا دی اور رونے لگ گئے اور آپ کے ساتھ تمام لوگوں میں آہ و بکا شروع ہو گئی اور آپ نے درج ذیل اشعار کہے: * میرے پاس ایسی خبر آئی ہے جو لوگوں کے لئے غم و حزن کا باعث ہے اور جس میں طویل رونا دھونا شامل ہے۔ * اس میں زندگی کا سامان ہے ذلت کے ساتھ اور ناک کا کٹنا ہے اور غالب رائے والے شریف النسل لوگ ہیں۔ * امیرالمومنین کا قتل، یہ ایک ایسا حادثہ ہے جس پر پہاڑوں کی بلندیاں بھی لرزہ براندام ہیں۔ * مدینہ میں ان پر ایک جماعت نے قاتلانہ حملہ کیا ہے، اس جماعت میں دو طرح کے لوگ ہیں، کچھ قاتل اور کچھ ذلیل۔ * میں ابوعمرو پر روؤں گا ہرچمکدار، اور ایسی تیز تلوار کے ساتھ جس سے بہت کم زرہ پوش بچ سکتے ہیں۔ * اور اس وقت تک آرام نہیں کروں گا جب تک باغیوں کو گرفتار نہ کر لیا جائے اور سرکش قوم سے، ان کے قصاص کے طلبگاروں کی آرزو پوری ہو۔ * میں زندگی بھر اس شہر میں نہیں رہوں گا، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں وہاں پر رہوں جہاں تمہیں شہید کیا گیا۔ یہ کہہ کر آپ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ روانہ ہو گئے جب آپ مکہ کے قریب پہنچے تو اپنی سواری سے گر گئے اور فوت ہو گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4613]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4613 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرّفت في (ز) إلى: بعادٌ لها، وفي (ص) والمطبوع إلى: يعادلها، غير أنها لم تُعجم في (ص)، وفي (م) تحرَّفت إلى: معارلها، بالراء بدلٌ الدَّال المهملة، وكل ذلك خطأ صوَّبناه من بعض كتب الأدب التي ذكرت هذه الأبيات مَعزوَّة إلى معاوية بن أبي سفيان، ومن ذلك "وقعة صفين" لنصر بن مزاحم ص 79، و"معجم الشعراء" للمرزباني ص 394، و "الجليس الصالح الكافي والأنيس الناصح الشافي "لأبي الفرج المعافى بن زكريا النَّهرواني ص 414.
📝 نوٹ / توضیح: (1) نسخہ (ز) میں یہ تحریف ہو کر ”بعاد لہا“، نسخہ (ص) اور مطبوعہ میں ”یعادہا“ (نسخہ ص میں بغیر نقطوں کے)، اور نسخہ (م) میں ”معارلہا“ (دال کی جگہ راء کے ساتھ) ہو گیا تھا۔ یہ سب غلط ہیں، ہم نے اسے ادب کی ان کتابوں سے درست کیا ہے جنہوں نے یہ اشعار معاویہ بن ابی سفیان کی طرف منسوب کیے ہیں، مثلاً ”وقعۃ صفین“ (نصر بن مزاحم: 79)، ”معجم الشعراء“ (مرزبانی: 394) اور ”الجلیس الصالح...“ (نہرانی: 414)۔
(1) تحرَّفت في أصولنا الخطية إلى: هليل، بالهاء، والتصويب من "وقعة صفين" لنصر بن مزاحم ص 79، وغيره، والبِيض: جمع الأبيض، وهو السَّيف. والمعنى: بسيوف لها في الدارِعين (أي: الذين يلبسون الدروع) صليل: وهو صوت وقع السيوف في الحديد.
📝 نوٹ / توضیح: (1) ہمارے قلمی نسخوں میں یہ تحریف ہو کر ”ہلیل“ (ہاء کے ساتھ) بن گیا تھا، درست ”صلیل“ ہے (وقعۃ صفین: 79 وغیرہ سے)۔ ”البیض“ الابیض کی جمع ہے جو کہ تلوار ہے۔ معنی یہ ہے: ایسی تلواروں کے ساتھ جن کی زرہ پوشوں (دارعین) میں جھنکار (صلیل) ہوتی ہے۔ صلیل تلوار کے لوہے پر لگنے کی آواز کو کہتے ہیں۔
(2) أي: يُطعَن بالرُّمح.
📝 نوٹ / توضیح: (2) یعنی: نیزے سے مارا جاتا ہے۔
(3) إسناده معضَل لم يبين فيه ابن إسحاق رواته، ولم يرو عنه إلَّا بهذا الإسناد، وفي الرواة إليه من هو مجهول الحال.
⚖️ درجۂ حدیث: (3) اس کی سند ”معضل“ ہے، ابن اسحاق نے اس میں اپنے راویوں کو بیان نہیں کیا، اور ان سے صرف اسی سند کے ساتھ مروی ہے، اور ان تک پہنچنے والے راویوں میں کوئی مجہول الحال بھی ہے۔