المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
62. مراثي عثمان - رضي الله تعالى عنه - .
سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مرثیے
حدیث نمبر: 4614
حَدَّثَنَا أبو بكر بن أبي دارِم، حَدَّثَنَا الحسين بن أبي الأحوص الثَّقَفي، حَدَّثَنَا محمد بن إسحاق البَلْخي، حَدَّثَنَا عبد الرحمن بن مَغْراء، عن مُجالِد، عن الشَّعْبِي، قال: ما سمعتُ من مَراثي عثمان شيئًا أحسنَ من قول كعب بن مالك: فكَفَّ يدَيه ثم أغلَقَ بابَهُ … وأيقَنَ أنَّ الله ليس بغَافلِ وقال لأهل الدار: لا تَقتُلوهُمُ … عفا اللهُ عن كلِّ امرئ لم يُقاتِلِ فكيف رأيتَ الله صَبَّ عليهمُ ال … عَداوةَ والبغضاءَ بعد التَّواصُلِ وكيفَ رأيتَ الخيرَ أدبرَ بعدَه … عن الناسِ إدْبارَ الرِّياحِ الحوافِلِ (4)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4565 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4565 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
شعبی کہتے ہیں: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے مرثیہ میں، میں نے سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے اشعار سے زیادہ بہتر کچھ نہیں سنا۔ * انہوں نے اپنے ہاتھوں کو روکا پھر اپنے دروازے کو بند کیا اور ان کو یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ غافل نہیں ہے۔ * اور اہل دار سے فرمایا: تم ان کو قتل مت کرو، اللہ تعالیٰ ہر اس شخص کو معاف فرما دیتا ہے جو قتال نہ کرے۔ * پس کیسا ہے تو نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے دوستی کے بعد ان میں عداوت اور بغض ڈال دیا۔ * اور کیسا ہے تو نے دیکھا کہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے لوگوں سے خیر کو اس طرح دور کر دیا جیسے تیز آندھیاں دور کر دیتی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4614]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4614 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(4) إسناده ضعيف جدًّا، محمد بن إسحاق البَلْخي مُتهم بالكذب مع وصفه بالحفظ، وابنُ أبي دارم على وصفه بالحفظ أيضًا ليس بعمدة، فقد قال عنه المصنّف نفسه: غير ثقة، لكن ينفرد به ابن أبي دارم، بل توبع، فيبقى الشأنُ في محمد بن إسحاق البَلْخي، ومُجالدٌ - وهو ابن سعيد - ليس بالقوي. وقد نُسبت الأبيات المذكورة لحسان بن ثابت أيضًا، وبعضهم نسبها للمغيرة بن الأخنس، وقيل: للوليد بن عُقبة بن أبي مُعيط.
⚖️ درجۂ حدیث: (4) اس کی سند سخت ضعیف (ضعیف جداً) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: محمد بن اسحاق البلخی حافظ ہونے کے باوجود جھوٹ کا متہم ہے۔ اور ابن ابی دارم بھی حافظ ہونے کے باوجود قابل اعتماد نہیں، خود مصنف نے اسے ”غیر ثقہ“ کہا ہے، لیکن وہ اس میں منفرد نہیں بلکہ اس کی متابعت کی گئی ہے، لہٰذا معاملہ محمد بن اسحاق البلخی پر آ کر رک جاتا ہے۔ اور مجالد (ابن سعید) بھی قوی نہیں ہے۔ مذکورہ اشعار حسان بن ثابت، مغیرہ بن اخنس اور ولید بن عقبہ کی طرف بھی منسوب کیے گئے ہیں۔
وأخرجه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 39/ 537 من طريق القاسم بن محمد الدلال، عن محمد بن إسحاق البَلْخي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن عساکر (39/ 537) نے قاسم بن محمد الدلال کے طریق سے محمد بن اسحاق البلخی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔