🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
77. قتل على وهو ابن ثلاث وستين سنة .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ تریسٹھ برس کی عمر میں شہید کیے گئے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4644
حدّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا السَّري بن يحيى التَّميمي، حدثنا قَبيصة بن عُقبة، حدثنا سفيان، عن منصور، عن رِبْعيّ بن حِراش، عن البراء بن ناجِيَة، عن عبد الله بن مسعود، قال: قال رسول الله ﷺ:"تَدُورُ رَحَى الإسلامِ على خمسٍ وثلاثين أو ستٍّ وثلاثين، فإن يَهْلِكُوا فَسَبيلُ من هَلَك، وإن تَبَقّى لهم دينُهم فسبعين عامًا"، قال عمر: يا رسول الله، ممّا بقيَ أو ممّا مضى؟ قال:"ممّا بقيَ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. [ذكر بيعة أمير المؤمنين علي بن أبي طالب رضوان الله عليه] حدثنا الحاكم أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ إملاءً في شعبان سنة اثنتين وأربع مئة، قال: اختلفتِ الرواياتُ في وقته، فقيل: أنه بُويع بعد أربعة أيام من قتل عثمان، وقيل: بعد خمس، وقيل: بعد ثلاث وقيل: بُويع يوم الجمعة لخمسٍ بَقِين من ذي الحِجّة، وقيل: بُويع عَقِيبَ قتل عثمان في دار عمرو بن مِحْصَن الأنصاري أحد بني عمرو بن مَبذُول، وأصحُّ الروايات أنه امتنع عن البيعة إلى أن دُفن عثمان، ثم بُويع على منبر رسول الله ﷺ، ظاهرًا، وكان أولَ من بايعه طلحةُ، فقال: هذه بيعة تُنكَثُ (1) .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام کی چکی پینتیس یا چھتیس سال تک گھومے گی، پس اگر وہ ہلاک ہوئے تو یہ ہلاک ہونے والوں کا راستہ ہوگا اور اگر ان کا دین باقی رہا تو پھر ستر سال تک رہے گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا یہ اس مدت میں سے ہے جو باقی رہ گئی ہے یا جو گزر چکی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس مدت میں سے ہے جو باقی رہ گئی ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
[سیدنا امیر المؤمنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی بیعت کا ذکر]
امام حاکم رحمہ اللہ نے فرمایا: آپ کی بیعت کے وقت کے بارے میں روایات مختلف ہیں، کہا گیا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے چار دن بعد بیعت ہوئی، بعض نے پانچ دن اور بعض نے تین دن کہے، ایک قول یہ ہے کہ 25 ذوالحجہ بروز جمعہ بیعت ہوئی، اور ایک قول یہ ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے فوراً بعد عمرو بن محصن انصاری کے گھر میں بیعت ہوئی، لیکن سب سے صحیح روایت یہ ہے کہ آپ نے بیعت لینے سے اس وقت تک انکار کیا جب تک سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی تدفین نہیں ہو گئی، پھر آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر علانیہ بیعت لی اور سب سے پہلے سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے بیعت کی، تو انہوں نے کہا: یہ ایسی بیعت ہے جو ٹوٹ جائے گی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4644]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين كما تقدم بيانه برقم (4599). سفيان: هو ابن سعيد الثوري.» [ترقيم الرساله 4644] [ترقيم الشركة 4620]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4644 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين كما تقدم بيانه برقم (4599). سفيان: هو ابن سعيد الثوري.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) یہ حدیث صحیح ہے، اور یہ سند ”حسن“ ہونے کا احتمال رکھتی ہے جیسا کہ (4599) پر بیان ہوا۔ سفیان سے مراد ابن سعید الثوری ہیں۔
(1) جاء عند ابن أبي شيبة في "المصنف" 14/ 136، وابن الجوزي في "المنتظم" 5/ 63 أنَّ قائل ذلك أعرابيٌّ، قاله تشاؤمًا، بسبب يد طلحة، لكونها كانت شَلَّاء. وجاء في بعض الروايات عند البلاذري في "أنساب الأشراف" 3/ 8 وغيره: أنَّ قائل ذلك قَبيصة بن ذؤيب، وعند الطبري في "تاريخه" 4/ 428: أنه حبيب بن ذؤيب.
📝 نوٹ / توضیح: ابن ابی شیبہ (14/ 136) اور ابن الجوزی (5/ 63) کے ہاں ہے کہ یہ بات ایک دیہاتی نے کہی تھی، طلحہ کا ہاتھ شل ہونے کی وجہ سے بدشگونی لیتے ہوئے۔ بلاذری (3/ 8) کے ہاں قبیصہ بن ذویب، اور طبری (4/ 428) کے ہاں حبیب بن ذویب کا نام آیا ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 4644 in Urdu