🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
77. قتل على وهو ابن ثلاث وستين سنة .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ تریسٹھ برس کی عمر میں شہید کیے گئے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4645
فحدَّثنا أبو بكر بن أبي دارِم، الحافظ، حدثنا أحمد بن موسى بن إسحاق التَّميمي، حدثنا وضّاح بن يحيى النَّهْشَلي، حدثنا أبو بكر بن عيّاش، عن أبي إسحاق، عن الأسود بن يزيد النَّخَعي، قال: لما بُويع عليُّ بن أبي طالب على مِنبَر رسول الله ﷺ، قال خُزَيمة بن ثابت وهو واقفٌ بين يدي المنبر: إذا نحنُ بايَعْنا عليًّا فحَسْبُنا … أبو حَسَنٍ مما نخافُ من الفِتَنْ وجدناه أَولَى الناسِ بالناسِ إِنَّه … أطَبُّ قُريشٍ بالكتاب وبالسُّننْ وإن قريشًا ما تَشُقُّ غُبارَه … إِذا ما جَرَى يومًا على الضُّمَّرِ البَدَنْ وفيه الذي فيهم من الخَيرِ كلِّهِ … وما فيهمُ كلُّ الذي فيه من حَسَنِ (2)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4595 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
اسود بن یزید نخعی سے روایت ہے کہ جب منبرِ رسول پر سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی بیعت ہوئی تو خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ نے منبر کے سامنے کھڑے ہو کر یہ اشعار پڑھے: جب ہم نے علی کی بیعت کر لی تو اب وہ تمام فتنے جن سے ہم ڈرتے تھے ان کے مقابلے میں ابوالحسن (علی رضی اللہ عنہ) ہمارے لیے کافی ہیں، ہم نے انہیں لوگوں کے لیے سب سے زیادہ بہتر اور مستحق پایا ہے کیونکہ وہ قریش میں کتاب اللہ اور سنتِ رسول کے سب سے بڑے عالم و ماہر ہیں، اور قریش کا کوئی فرد ان کی گرد کو بھی نہیں پا سکتا جب وہ اپنے چست بدن اور لاغر گھوڑے پر سوار ہو کر (میدانِ عمل میں) نکلتے ہیں، ان کے اندر وہ تمام بھلائیاں موجود ہیں جو دوسرے لوگوں میں الگ الگ پائی جاتی ہیں، لیکن وہ تمام حسن و کمال جو علی میں یکجا ہے وہ کسی دوسرے میں موجود نہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4645]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف أبو بكر بن أبي دارم، قال عنه الحاكم نفسُه: رافضي غير ثقة، ووضّاح بن يحيى النَّهْشَلي مُختلف فيه، ويعتبر بحديثه عند المتابعة، ولم يتابع.» [ترقيم الرساله 4645] [ترقيم الشركة 4621] [ترقيم العلميه 4595]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف أبو بكر بن أبي دارم
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4645 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده ضعيف أبو بكر بن أبي دارم، قال عنه الحاكم نفسُه: رافضي غير ثقة، ووضّاح بن يحيى النَّهْشَلي مُختلف فيه، ويعتبر بحديثه عند المتابعة، ولم يتابع.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کی سند ضعیف ہے۔ ابو بکر بن ابی دارم رافضی اور غیر ثقہ ہے (حاکم کے بقول)۔ وضاح بن یحییٰ النہشلی مختلف فیہ ہے، متابعت میں اس کا اعتبار ہے مگر یہاں متابعت نہیں کی گئی۔
والضُّمَّر: جمع ضامر، وهو الفرس أو البعير الذي خفَّ لحمُه ودَقّ من السير لا من علّةٍ. وأطَبُّ قريش: يعني أعلمُها، وهي أفعل تفضيل من الطبيب، وهو الحاذق بالأمور العارف بها.
📝 نوٹ / توضیح: ”الضُّمَّر“ ضامر کی جمع ہے، وہ گھوڑا یا اونٹ جو چلنے کی وجہ سے دبلا ہو گیا ہو نہ کہ بیماری سے۔ ”أطَبُّ قريش“: یعنی قریش کا سب سے بڑا طبیب (جاننے والا، ماہر)۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 4645 in Urdu