🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
82. الدفع عن اعتزال أبى مسعود وأبي موسى .
سیدنا ابو مسعود اور سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہما کے کنارہ کش رہنے کا دفاع
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4652
فحدثنا أبو الفضل محمد بن إبراهيم المُزكِّي، حدثنا الحسين بن محمد بن زياد، حدثنا داود بن رُشَيد، حدثنا الهيثم بن عَديّ، عن مجالدٍ وابن (1) عيّاش وإسماعيل بن أبي خالد، عن الشَّعْبي قال: لما قُتل عثمان وبُويع عليٌّ خَطَبَ أبو موسى وهو على الكوفة، فنهى الناسَ عن القتالِ والدخولِ في الفتنة، فعزلَه عليٌّ عن الكوفة من ذي قار، وبَعَثَ إليه عمارَ بن ياسر والحسنَ بن عليٍّ فعزَلاه، واستعمل قَرَظة بنَ كعب، فلم يزل عاملًا حتى قدم عليٌّ من البصرة بعد أشهُر، فعزلَه حيثُ قدم، فلما سار إلى صِفِّين استخلف عُقبة بن عمرو أبا مسعود الأنصاري حين قدم من صِفِّين (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4602 - الهيثم بن عدي متروك
سیدنا شعبی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی گئی۔ تو سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ اس وقت کوفہ کے گورنر تھے، آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا اور اس میں لوگوں کو قتال سے منع کیا اور فتنہ میں شریک ہونے سے روکا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کو کوفہ سے ذی قار سے معزول کر دیا۔ اور سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو ان کی طرف بھیجا، انہوں نے آ کر سیدنا ابوموسیٰ کو معزول کر دیا اور قرظہ بن کعب کو گورنر بنا دیا پھر جب (سیدنا علی رضی اللہ عنہ) چند ماہ بعد بصرہ سے واپس آئے تو ان کو بھی معزول کر دیا پھر جب آپ صفین کی طرف روانہ ہوئے تو عقبہ عمرو کو عامل بنایا اور جب صفین سے واپس آئے تو سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کو وہاں کا عامل مقرر فرمایا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4652]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4652 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: أبي، والمثبت من "تلخيص الذهبي" وهو الصواب، وهو عبد الله بن عيّاش المعروف بالمنتُوف، ويُكنى بأبي الجرّاح.
📝 نوٹ / توضیح: (1) قلمی نسخوں میں یہ تحریف ہو کر ”ابی“ بن گیا تھا، درست ”تلخیص ذہبی“ سے ثابت کیا گیا ہے، اور وہ عبد اللہ بن عیاش (المعروف بالمنتوف) ہیں، کنیت ابو الجراح ہے۔
(2) إسناده ضعيف جدًّا من أجل الهيثم بن عدي، فقد جزم غير واحدٍ من أهل المعرفة بأنه كان يكذب، لكن روي نحو هذا الخبر بأسانيد أصلح من هذا من أحسنها ما أخرجه عمر بن شبّة كما في "فتح الباري" 23/ 114، وعنه الطبريُّ في "تاريخه" 4/ 499 عن أبي الحسن علي بن محمد المدائني، عن بشير بن عاصم، عن محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن أبيه. وذكر الطبري في "تاريخه" قصة أبي موسى مع أهل الكوفة ودعوتهم لاعتزال القتال من وجوهٍ 4/ 477 و 481 - 482 و 482 - 483 و 485 - 486.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کی سند ہیثم بن عدی کی وجہ سے سخت ضعیف (ضعیف جداً) ہے، کیونکہ اہل معرفت (محدثین) کی ایک جماعت نے یقین کے ساتھ کہا ہے کہ وہ جھوٹ بولتا تھا۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: لیکن اس خبر کی مثل اس سے بہتر اسناد کے ساتھ بھی مروی ہے۔ ان میں سے بہترین وہ ہے جسے عمر بن شبہ نے روایت کیا (جیسا کہ ”فتح الباری“ 23/ 114 میں ہے)، اور ان سے طبری نے اپنی ”تاریخ“ (4/ 499) میں ابو الحسن علی بن محمد المدائنی سے، انہوں نے بشیر بن عاصم سے، انہوں نے محمد بن عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے، اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا ہے۔ اور طبری نے اپنی ”تاریخ“ میں ابو موسیٰ کا اہل کوفہ کے ساتھ قصہ اور ان کا (لوگوں کو) لڑائی سے الگ رہنے کی دعوت دینے کا ذکر کئی وجوہ (طرق) سے کیا ہے (دیکھیں: 4/ 477، 481-482، 482-483، اور 485-486)۔