🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
120. ومن مناقب أهل رسول الله - صلى الله عليه وآله وسلم -
اہلِ بیت کے مناقب — اہلِ بیت کی بعض خصوصیات پر مشتمل احادیث
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4757
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان المُرادي وبحر بن نصر الخَوْلاني، قالا: حدثنا بِشر بن بكر، حدثنا الأوزاعي، حدثني أبو عمّار، حدثني واثلة بن الأسقع، قال: أتيتُ عليًّا فلم أجِدْه، فقالت لي فاطمة: انطلَقَ إلى رسول الله ﷺ يَدعُوه، فجاء مع رسول الله ﷺ فدخلا ودخلتُ معهما، فدعا رسول الله ﷺ الحسنَ والحسينَ، فأقعد كلَّ واحدٍ منهما على فَخِذِه، وأدنى فاطمةَ من حَجْرِه وزَوجَها، ثم لَفَّ عليهم ثوبًا، وقال: ﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾، ثم قال:"هؤلاء أهلُ بيتي، اللهمَّ أهلي أحقُّ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4706 - على شرط مسلم
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ملنے کے لئے گیا، آپ گھر موجود نہ تھے، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے مجھے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بلایا تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے ہیں۔ پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ گھر آ گئے، وہ دونوں گھر میں داخل ہوئے تو میں بھی ان کے ہمراہ داخل ہو گیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کو بلایا، آپ نے ان دونوں کو اپنی رانوں پر بٹھایا، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھی اپنے قریب کیا، ان سب کے اوپر ایک چادر ڈال کر یہ آیت پڑھی: اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَھْلَ الْبَیْتِ وَیُطَھِّرَکُمْ تَطْھِیْرًا (الاحزاب: 33) اللہ تو یہی چاہتا ہے اے نبی کے گھر والو کہ تم سے ہر ناپاکی دور فرما دے پھر فرمایا: اے اللہ! یہ میرے اہل بیت ہیں، اے اللہ میرے اہل بیت زیادہ حقدار ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4757]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4757 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی اسناد "صحیح" ہے۔
وقد تقدَّم برقم (3601) من طريق الوليد بن مَزْيَد عن الأوزاعي.
📖 حوالہ / مصدر: یہ نمبر (3601) پر ولید بن مزید از اوزاعی کے طریق سے گزر چکی ہے۔