🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
150. الحسن والحسين سيدا شباب أهل الجنة .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی کے دونوں بیٹوں سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کے مناقب — سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4834
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفّان، حدثنا عبد الحميد بن عبد الرحمن الحِمّاني، حدثنا الحكم بن عبد الرحمن بن أبي نُعْم، عن أبيه، عن أبي سعيد الخدري، عن النبي ﷺ أنه قال:"الحَسنُ والحُسينُ سيِّدا شبابِ أهل الجنة إِلَّا ابنَي الخالة" (1)
هذا حديث قد صح من أوجهٍ كثيرةٍ، وأنا أتعجّب أنهما لم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4778 - الحكم بن عبد الرحمن بن أبي نعم فيه لين
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حسن اور حسین جنتی جوانوں کے سردار ہیں سوائے دو خالہ زاد بھائیوں (سیدنا یحیی علیہ السلام اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام) کے۔ ٭٭ یہ حدیث متعدد وجوہ سے صحیح ہے اور مجھے اس بات پر بہت تعجب ہے کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو بھی نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4834]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4834 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) صحيح دون ذكر ابني الخالة يعني عيسى ابن مريم ويحيى بن زكريا كما سُمِّيا عند بعض من خرجه، وهذا إسناد حسنٌ من أجل الحكم بن عبد الرحمن بن أبي نعم، فهو مختلف فيه حسن الحديث. وقد تُوبع عليه دون الاستثناء المذكور.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے سوائے خالہ زاد بھائیوں (یعنی عیسیٰ ابن مریم اور یحییٰ بن زکریا) کے ذکر کے، جیسا کہ بعض تخریج کرنے والوں کے ہاں ان کے نام آئے ہیں۔ اس کی سند "حسن" ہے الحکم بن عبدالرحمن بن ابی نعم کی وجہ سے؛ وہ مختلف فیہ راوی ہیں لیکن "حسن الحدیث" ہیں۔ اس (استثناء کے علاوہ) باقی متن پر ان کی متابعت موجود ہے۔
وأخرجه النسائي (8113) و (8475) من طريق مروان بن معاوية الفزاري، وابن حبان (6959) من طريق أبي نعيم الفضل بن دكين، كلاهما عن الحكم بن عبد الرحمن، به.
📖 تخریج / حوالہ: اسے نسائی نے (8113) اور (8475) میں مروان بن معاویہ الفزاری کے طریق سے، اور ابن حبان (6959) نے ابونعیم الفضل بن دکین کے طریق سے روایت کیا ہے۔ یہ دونوں اسے الحکم بن عبدالرحمن سے روایت کرتے ہیں۔
وأخرجه أحمد 17 / (10999)، والنسائي (8472) من طريق يزيد بن مَرْدانبة، وأحمد 18 / (11594) و (11618) و (11777)، والترمذي (3768)، والنسائي (8461) و (8473) و (8474) من طريق يزيد بن أبي زياد الهاشمي مولاهم، كلاهما عن عبد الرحمن بن أبي نُعْم، عن أبي سعيد الخدري. وإسناد رواية ابن مَرْدانبة صحيح.
📖 تخریج / حوالہ جات: اسے امام احمد نے (17/ 10999) اور نسائی نے (8472) میں یزید بن مردانبہ کے طریق سے، اور احمد نے (18/ 11594، 11618، 11777)، ترمذی (3768) اور نسائی نے (8461، 8473، 8474) میں یزید بن ابی زیاد الہاشمی (مولاہم) کے طریق سے روایت کیا۔ یہ دونوں (مردانبہ اور ابن ابی زیاد) اسے عبدالرحمن بن ابی نعم سے اور وہ ابوسعید خدری سے روایت کرتے ہیں۔ ⚖️ درجۂ سند: ابن مردانبہ کی روایت کی سند "صحیح" ہے۔