المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
155. حب الصبيان من رحمة الله تعالى
سیدنا حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے فضائل، نیز ان کی ولادت اور شہادت کا بیان — بچوں سے محبت اللہ تعالیٰ کی رحمت میں سے ہے
حدیث نمبر: 4849
أخبرنا بكر بن محمد الصيرفي بمَرُو، حدثنا عبد الصمد بن الفضل، حدثنا عبد الله بن يزيد المقرئ، حدثنا حَيوة بن شُرَيح، أخبرني أبو صخر، أنَّ يزيد بن عبد الله بن قُسَيط أخبره، أنَّ عُروة بن الزبير أخبره عن أبيه: أن رسول الله ﷺ قَبَّل حَسنًا وضمَّه إليه، وجعل يَشَمُّه، وعنده رجلٌ من الأنصار، فقال الأنصاريُّ: إِنَّ لي ابنًا قد بَلَغَ، ما قبلته قطُّ، فقال رسول الله ﷺ:"أرأيت إن كان الله نَزَعَ الرحمةَ مِن قلبك فما ذنبي" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4793 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4793 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عروہ بن الزبیر اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو چوم کر سینے سے لگا لیا اور ان کی خوشبو سونگھنے لگے، اس وقت آپ کے پاس ایک انصاری صحابی موجود تھے (حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس قدر شفقت دیکھ کر وہ) بولے: میرا ایک بیٹا ہے جو اب بالغ ہو چکا ہے میں نے آج تک اس کو کبھی نہیں چوما، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ نے تیرے دل سے رحمت کے جذبات نہیں رکھے تو اس میں ہمارا کیا قصور ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4849]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4849 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده حسن من أجل أبي صخر: وهو حُميد بن زياد. وأخرجه أحمد بن حنبل في "فضائل الصحابة" (1356) عن عبد الله بن يزيد المقرئ، بهذا الإسناد.
⚖️ درجۂ سند: یہ سند ابوصخر (حمید بن زیاد) کی وجہ سے "حسن" ہے۔ 📖 تخریج: اسے احمد بن حنبل نے "فضائل الصحابہ" (1356) میں عبداللہ بن یزید المقری سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وفي الباب حديث عائشة الذي أخرجه أحمد 40 / (24291)، والبخاري (5998)، ومسلم (2317) وغيرهم، إلّا أنه جاء في حديثها: أنَّ الرجل كان أعرابيًا، وهذا أليقُ من أن يكون من الأنصار كما وقع في حديث الزبير بن العوام هنا.
🧩 متابعات: اس باب میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث بھی ہے جسے احمد (40/ 24291)، بخاری (5998)، مسلم (2317) اور دیگر نے روایت کیا ہے۔ البتہ ان کی حدیث میں یہ ہے کہ وہ آدمی "اعرابی" (دیہاتی) تھا، اور یہ بات اس سے زیادہ موزوں معلوم ہوتی ہے کہ وہ "انصاری" ہو جیسا کہ یہاں زبیر بن عوام کی حدیث میں آیا ہے۔
ويشهد له حديث أبي هريرة الذي أخرجه أحمد 12 / (7121)، والبخاري (5997)، ومسلم (2318)، وسمّى الأعرابي الأقرع بن قيس التميمي.
🧩 شواہد: اس کی تائید (شاہد) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ہوتی ہے جسے احمد (12/ 7121)، بخاری (5997) اور مسلم (2318) نے روایت کیا ہے، اور اس میں اعرابی کا نام "الاقرع بن قیس التمیمی" ذکر کیا گیا ہے۔ (نوٹ: مشہور نام الاقرع بن حابس ہے، متن میں قیس مذکور ہے)۔