المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
192. ذكر مناقب جعدة بن هبيرة المخزومي رضى الله عنه
سیدنا جعدہ بن ہبیرہ مخزومی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
حدیث نمبر: 4931
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدثنا مصعب بن عبد الله الزُّبيري، قال جَعْدة بن هُبيرة بن أبي وهب بن عمرو بن عائذ (1) بن عِمران بن مَخْزوم، وكانت أمُّه أمَّ هانئ بنت أبي طالب، نَكَحها هُبيرة، ولها يقول هُبيرةُ حين أسلمتْ: أشاقَتْكَ هندٌ أن نآكَ (1) سؤالُها … كذاك النَّوى أسبابها وانفِتالُها وقد أَرقَتْ في رأس حصنٍ مُمرَّدٍ … بنَجرانَ يَسْري بعد نومٍ خيالُها فإن كنتِ قد تابعتِ دِينَ مُحمدٍ … وقُطِّعَتِ الأرحام منكِ حِبالُها فكُوني على أعلى سَحِيقٍ بهَضْبةٍ … مُمنَّعَةٍ لا تُستطاعُ قِلالُها (2) قال مصعبٌ: وجَعْدةُ الذي يقول: ومَن ذا الذي يَبأَى (3) عليَّ بخالِهِ … وخالي عليٌّ ذو النَّدى وعَقيلُ قال مصعبٌ: وماتَ هُبيرةُ بنَجْرانَ مُشركًا، وأما جَعْدَةُ فإنه تزوَّج ابنةَ خالِه أمَّ الحسن بنتَ عليٍّ، ووَلَدت له عبدَ الله بن جَعْدة بن هُبَيرة الذي قيل فيه بخُراسان: لولا ابن جَعدة لم يُفتَحْ قُهُنْدُزُكُم (4) … ولا خُراسانُ حتى يُنفَخُ الصُّورُ قال مصعبٌ: واستعمل عليٌّ على خُراسان جَعْدةَ بنَ هُبيرة المَخْزومي، وانصرفَ إلى العراق، ثم حجَّ وتُوفِّي بالمدينة، وقد رَوَى عن رسول الله ﷺ.
سیدنا مصعب بن عبداللہ الزبیری رضی اللہ عنہ نے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے: جعدہ بن ہبیرہ بن ابی وہب بن عمرو بن عائذ ابن عمران بن مخزوم۔ ان کی والدہ سیدنا ابوطالب کی صاحبزادی سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا تھیں، اور یہ ہبیرہ بن ابی وہب کے نکاح میں تھیں۔ جب یہ مسلمان ہوئیں تو ہبیرہ نے ان کے بارے میں درج ذیل اشعار کہے: * کیا تجھے ہند نے شوق دلایا ہے کہ اگر تیرے پاس کا سوال آئے تو تو ایسی جگہ پر قیام کرنا جہاں سے تیرا مال و دولت تجھ سے بہت دور ہو۔ مصعب کہتے ہیں: اور جعدہ کہتے تھے: * ایسا کون ہو سکتا ہے جو میرے ماموں کا انکار کر سکے، کیوںکہ میرے ماموں مٹی والے (یعنی جن کا لقب ابوتراب ہے) سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عقیل رضی اللہ عنہ ہیں۔ مصعب کہتے ہیں: ہبیرہ نجران میں حالت شرک میں مرا تھا، اور جعدہ نے اپنے ماموں سیدنا علی کی بیٹی ام الحسن کے ساتھ نکاح کیا اور ان میں سے سیدنا عبداللہ بن جعدہ بن ہبیرہ پیدا ہوئے، ان کے بارے میں خراسان میں کہا گیا ہے۔ * اگر ابن جعدہ نہ ہوتے تو قہندز اور خراسان قیامت تک فتح نہ ہو سکتا۔ مصعب کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا جعدہ بن ہبیرہ مخزومی رضی اللہ عنہ کو خراسان کا گورنر بنایا تھا پھر یہ عراق کی جانب لوٹ کر آ گئے، پھر فریضہ حج ادا کیا، اور مدینہ منورہ میں ان کا انتقال ہوا۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث روایت کرتے ہیں اور ان کی مرویات کے صحیح ہونے کی دلیل یہ کہ اس کو سیدنا مصعب رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4931]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4931 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في أصولنا الخطية إلى عليه، هكذا غير مُعجَم إلَّا في (ز) و (ب) فجاء بياء تحتانية، يعني عليه. والمثبت هو ما أطبقت عليه كتب التراجم والأنساب.
📝 نوٹ / توضیح: (1) ہمارے پاس موجود قلمی نسخوں (مخطوطات) میں یہ لفظ تحریف کا شکار ہو کر "علیہ" (عليه) بن گیا ہے، اور یہ اسی طرح بغیر نقطوں کے ہے سوائے نسخہ (ز) اور (ب) کے، کہ وہاں یہ نیچے دو نقطوں والی "یا" کے ساتھ آیا ہے، یعنی "علیہ"۔ لیکن ہم نے متن میں وہ لفظ (نام) برقرار رکھا ہے جس پر تراجم (رجال) اور انساب کی کتابوں کا اتفاق ہے۔
(1) نآك، أي: بَعُدَ عنك.
📝 نوٹ / توضیح: (1) لفظ "نآک" (نآك) کا مطلب ہے: وہ تم سے دور ہو گیا۔
(2) في (ز) و (ب): تلالها، بالتاء بدل القاف والقِلال: جمع قُلَّة، وهو رأس كل شيء وأعلاه.
📝 نوٹ / توضیح: (2) نسخہ (ز) اور (ب) میں یہ لفظ "تلالھا" (قاف کے بجائے تا کے ساتھ) آیا ہے، جبکہ (اصل متن میں موجود) لفظ "القلال" دراصل "قلّہ" کی جمع ہے، جس کا مطلب ہے ہر چیز کی چوٹی اور اس کا سب سے بلند حصہ۔
والتلال: جمع تَلّة، وهي كومة الرمل.
📝 نوٹ / توضیح: جبکہ "التلال"، "تلّہ" کی جمع ہے اور اس کا مطلب ریت کا ٹیلہ یا ڈھیر ہے۔
(3) في (ز): ينأى، بالنون بدل الباء، وأُهملت في (ص) و (م)، والمثبت من (ع) و (ب)، وهو الأوجه لأنه من بأى عليه: إذا فَخَرَ.
📝 نوٹ / توضیح: (3) نسخہ (ز) میں یہ لفظ "ینأی" (با کے بجائے نون کے ساتھ) آیا ہے، اور نسخہ (ص) اور (م) میں یہ لفظ بغیر نقطوں کے مہمل ہے، لیکن ہم نے متن میں نسخہ (ع) اور (ب) والا لفظ برقرار رکھا ہے، اور یہی زیادہ مناسب بھی ہے کیونکہ یہ "بأی علیہ" سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے: جب کوئی کسی پر فخر کرے۔
(4) تحرَّف في أصولنا الخطية إلى: مهندركم. والقُهُنْدُزُ: بضم القاف والهاء وسكون النون والدال تُضَم وتفتح، وهو اسمٌ معرَّب، وهو مدينة من مدن العَجم، وقيل: هو اسمُ جنسٍ لكل حصنٍ في وسط المدينة العُظمى.
📝 نوٹ / توضیح: (4) ہمارے پاس موجود قلمی نسخوں (مخطوطات) میں یہ لفظ تحریف کا شکار ہو کر "مھندرکم" بن گیا ہے، جبکہ درست لفظ "القُهُنْدُزُ" (قاف اور ہا کے پیش، نون کے سکون اور دال کے پیش یا زبر کے ساتھ) ہے، یہ ایک معرّب (عربی بنایا ہوا) نام ہے جو کہ عجم کے شہروں میں سے ایک شہر کا نام ہے، اور بعض نے کہا ہے کہ یہ اسمِ جنس ہے جو ہر اس قلعے کے لیے بولا جاتا ہے جو کسی بڑے شہر کے وسط میں واقع ہو۔