المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
329. ذكر خطبة عتبة بن غزوان
سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ کے خطبے کا بیان
حدیث نمبر: 5220
أخبرني محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم الغِفاري، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا قُرّة بن خالد. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا وكيع، حدثنا قُرّة بن خالد، عن حُميد بن هِلال. وحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب - واللفظ له - حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا أسَد بن موسى، حدثنا سليمان بن موسى (1) ، عن حُميد بن هلال، عن خالد بن عُمير العَدَوي، قال: خَطبَنا عُتبةُ بن غَزْوان، فحَمِدَ الله وأثنى عليه، ثم قال: أما بعدُ، فإنَّ الدنيا قد آذَنَتْ بِصُرْمٍ وَوَلَّت حَذّاءَ، وإنما بقيَ منها صُبَابةٌ كصُبَابة الإناء يَصطَبُّها صاحبُها، وإنكم مُنتقِلون منها إلى دارٍ لا زوالَ لها، فانتقِلوا منها بخيرِ ما بحَضْرتِكم، فإنه قد ذُكِر لنا: أنَّ الحَجَر يُلقَى من شَفِير جَهنّم، فيَهوي بها سبعينَ عامًا، وما يُدرِكُ لها قَعْرًا، فوالله لَتُمْلأنَّهُ، أفَعجِبتُم! وقد ذُكر لنا: أنَّ مِصرَاعَين من مَصارِيع الجنةِ بينهما أَربعون سنةً، وليأتِيَنّ عليه يومٌ وهو كَظِيظُ الزِّحام، ولقد رأيتُني وإني لَسابعُ سبعةٍ مع رسول الله ﷺ ما لنا طعامٌ إلَّا وَرَقُ الشجر حتى قَرَحَتْ أشْداقُنا، وإني التَقطْتُ بُرْدةً فشَقَقْتُها بيني وبين سعد بن أبي وَقّاص فارسِ الإسلام، فاتَّزرتُ بنصفِها واتَّزرَ سعدٌ بنصفِها، وما أصبحَ منا اليومَ أحدٌ حيٌّ إلَّا أصبحَ أميرَ مِضْرٍ من الأمصار، وإنني أعوذُ بالله أن أكونَ في نَفْسي عظيمًا، وعند الله صغيرًا، وإنها لم تكن نُبوّةٌ قَطُّ إلَّا تناقَصَتْ حتى يكون عاقبتُها مُلكًا، وستُجرّبون - أو تَبْلُونَ - الأمراءَ بَعدِي (2) . صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5139 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5139 - على شرط مسلم
خالد بن عمیر العدوی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عتبہ بن غزوان نے ہمیں خطبہ دیا، اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء کے بعد فرمایا: امابعد! بے شک دنیا ختم ہونے والی ہے اور بہت جلد یہ منہ پھیر کر چلی جائے گی، دنیا صرف اتنی رہ گئی ہے جتنا کسی برتن میں بچا ہوا مشروب ہوتا ہے۔ اور تم بہت جلد ایک ہمیشہ قائم رہنے والے جہان کی طرف منتقل ہو جاؤ گے اس لئے بہت اچھے زادراہ کے ہمراہ منتقل ہونا کیونکہ ہمیں یہاں یہ بتایا گیا ہے کہ اگر جہنم کے اوپر والے کنارے سے ایک پتھر پھینکا جائے، اور وہ پتھر چالیس سال نیچے کی جانب گرتا رہے، تب بھی وہ اسی گہرائی تک نہیں پہنچ سکتا۔ خدا کی قسم تم اس کو بھر دو گے۔ کیا تمہیں اس بات سے تعجب ہے؟ انہوں نے یہ بھی ذکر کیا کہ جنت کے دروازوں کے ایک پٹ سے دوسرے پٹ تک چالیس سال تک کی مسافت ہے، اور اس پر ایک دن آنے والا ہے کہ وہ لوگوں سے کھچا کھچ بھری ہو گی، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان سات صحابہ کرام میں سے ہوں جن کی خوراک سوائے درختوں کے پتوں کے اور کچھ نہ تھی وہ کھا کھا کر ہماری باچھیں چھل گئی تھیں۔ مجھے ایک چادر ملی جس کو میں نے اور مجاہد اسلام سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے آدھی آدھی کر کے تہبند بنا لیا۔ اور آج ہم سے ہر ایک کسی نہ کسی شہر کا گورنر بن چکا ہے۔ اور میں اس بات سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں اپنے آپ کو عظیم سمجھتا رہوں جبکہ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں، میں حقیر ہوں۔ نبوت ختم ہو چکی ہے اور بادشاہت آنے والی ہے۔ تم عنقریب میرے بعد ان کا تجربہ کر لو گے اور ان سے مل لو گے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5220]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5220 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
وأخرجه مختصرًا بذكر الحجر الذي يُلقى في جهنم: الترمذيُّ (2575) من طريق الحسن البصري، قال: قال عتبة بن غزوان على منبرنا هذا منبر البصرة، عن النبي ﷺ، هكذا رفعه إلى النبي ﷺ، وقال الترمذي: لا نعرف للحسن سماعًا من عتبة بن غزوان، وإنما قَدِم عتبةُ بن غزوان البصرة زمن عمر، ووُلِدَ الحسن لسنتين بقيتا من خلافة عمر. قلنا: ورفعه وهمٌ، فإنَّ المحفوظ أنَّ عُتبة بن غزوان قال فيه: فإنه قد ذُكر لنا … فذكره، وفي رواية: فلقد بلغني أنَّ الحجر … فلم يُصرِّح فيه عتبة بن غزوان بالرفع، وإن كان مثلُه له حكم الرفع إذ لا يُقال بالرأي والاجتهاد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے جہنم میں ڈالے جانے والے پتھر کے ذکر کے ساتھ مختصر طور پر ترمذی (2575) نے حسن بصری کے طریق سے روایت کیا ہے، انہوں نے کہا: عتبہ بن غزوان نے ہمارے اس ممبر (بصرہ کے ممبر) پر نبی ﷺ سے روایت کرتے ہوئے فرمایا... (یوں انہوں نے اسے نبی ﷺ تک "مرفوع" بیان کیا)۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: امام ترمذی نے فرمایا: "ہم حسن کا عتبہ بن غزوان سے سماع نہیں جانتے؛ عتبہ عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں بصرہ آئے تھے اور حسن کی پیدائش خلافتِ عمر کے دو سال باقی رہنے پر ہوئی"۔ ہم کہتے ہیں: اس کا "مرفوع" ہونا وہم ہے۔ "محفوظ" یہ ہے کہ عتبہ بن غزوان نے اس میں فرمایا: "ہمیں ذکر کیا گیا ہے..." یا ایک روایت میں: "مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ پتھر..."۔ انہوں نے صراحت کے ساتھ اسے مرفوع (نبی ﷺ کا فرمان) نہیں کہا۔ اگرچہ ایسی بات کا حکم "مرفوع" ہی ہوتا ہے کیونکہ یہ رائے اور اجتہاد سے نہیں کہی جا سکتی۔
قوله: آذنت بصرم، معناه: أعلمت بانقطاع.
📝 نوٹ / توضیح: ان کے قول "آذنت بصرم" کا مطلب ہے: اس (دنیا) نے ختم ہونے (انقطاع) کا اعلان کر دیا ہے۔
وقوله: حَذَّاء، معناه: منقطعة ومنفصلة.
📝 نوٹ / توضیح: "حَذَّاء" کا مطلب ہے: کٹی ہوئی، جدا شدہ (تیزی سے گزرنے والی)۔
والصُّبابة: الماء القليل الذي يبقى في الإناء ونحوه.
📝 نوٹ / توضیح: "الصُّبابة": وہ تھوڑا سا پانی جو برتن وغیرہ میں بچ جائے۔
والشَّفير: الحافَة والجانب.
📝 نوٹ / توضیح: "الشَّفير": کنارہ اور جانب۔
وقوله: كَظيظ الزحام، أي: الباب، يعني مُمتلئًا.
📝 نوٹ / توضیح: "كَظيظ الزحام": یعنی دروازہ ہجوم سے بھرا ہوا ہوگا۔
وقوله: قَرِحَت أشداقُنا، أي: تَجرّحت من أكل ورق الشجر.
📝 نوٹ / توضیح: "قَرِحَت أشداقُنا": یعنی درختوں کے پتے کھانے سے ہمارے منہ (باچھیں) زخمی ہو گئے۔
وقوله: تَبْلُون، من بَلاه يَبلُوه بَلْوًا: إذا جرّبه.
📝 نوٹ / توضیح: "تَبْلُون": (تم آزماؤ گے)۔ یہ "بَلاه يَبلُوه بَلْوًا" سے ہے، جب کوئی کسی چیز کا تجربہ/امتحان کرے۔