المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
329. ذكر خطبة عتبة بن غزوان
سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ کے خطبے کا بیان
حدیث نمبر: 5221
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ - وأنا سألتُه - حدثنا الحسن ابن علي بن شَبيب المَعمَري، حدثنا عبد الملك بن بشير السامِيّ (1) ، حدثنا أبو حَفْص عمر بن الفضل السُّلَمي، حدثنا عتبة بن إبراهيم بن عُتبة بن غَزوان، عن أبيه، عن جَدِّه عُتبة بن غَزوان: أنَّ رسول الله ﷺ قال يومًا لقُريش:"هل فِيكم أحدٌ من غيرِكم؟" قالوا: ابن أُختِنا عُتبةُ بن غَزْوان، فقال:"ابن أُختِ القومِ مِنهُم" (2) . ذكرُ عتبة بن غزوان في هذا الحديث غريب جدًّا، وفضائلُه كثيرة، وهذا من أجلّ فضائلِه. ومَسانيدُ عُتبة بن غزوان عن رسول الله ﷺ عزيزةٌ، وقد كتبْنا من ذلك حديثًا استغربْناه جدًّا، فأنا ذاكِرُه وإن لم يكن الغَلَابيّ من شرط هذا الكتاب:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5140 - إسناده مظلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5140 - إسناده مظلم
سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش سے کہا: کیا (اس وقت) تمہارے درمیان تمہارے قبیلے کے علاوہ تو کوئی شخص موجود نہیں ہے؟ انہوں نے کہا: ہمارا بھانجا عتبہ بن غزوان ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی قوم کا بھانجا انہی میں سے ہوتا ہے۔ ٭٭ عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ کا ذکر اس حدیث میں بہت غریب ہے جبکہ ان کے فضائل بہت زیادہ ہیں۔ اور یہ ان کی سب سے بڑی فضیلت ہے۔ اور عتبہ بن غزوان کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کردہ مسانید ” عزیز “ ہیں۔ ہم نے اسی میں سے ایک حدیث لکھی ہے جس کو ہم خود بہت غریب سمجھتے ہیں، اور یہ مجھے بالکل یاد ہے اگرچہ ” غلابی “ اس کتاب کے معیار کے راوی نہیں ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5221]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5221 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: النسائي، وإنما هو السامي، نسبة إلى سامة بن لؤي، وهو بصري لا نسائي.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (1) قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر "النسائی" ہو گیا ہے، جبکہ یہ "السامي" ہے جو "سامہ بن لؤی" کی طرف نسبت ہے۔ اور وہ بصری ہیں، نسائی نہیں۔
(2) إسناده ضعيف لجهالة حال عُتبة بن إبراهيم بن عُتبة بن غَزوان، وأبوه إبراهيم لا يُعرف إلّا بهذا الإسناد، وقال الذهبي في "تلخيصه": إسناده مُظلم.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کی سند "ضعیف" ہے کیونکہ "عتبہ بن ابراہیم بن عتبہ بن غزوان" کا حال مجہول ہے، اور ان کے والد ابراہیم سوائے اس سند کے کہیں معروف نہیں۔ ذہبی نے "التلخیص" میں کہا: "اس کی سند اندھیر (مظلم) ہے"۔
وأخرجه الطبراني في "الكبير" 17/ (291) عن الحسن بن علي المَعمري، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "الکبیر" [17/ (291)] میں حسن بن علی المعمری سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (302)، ومن طريقه أبو نعيم في "معرفة الصحابة" (5340) عن عبد الملك بن بشير السامي، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی عاصم نے "الآحاد والمثانی" (302) میں، اور ان کے طریق سے ابو نعیم نے "معرفۃ الصحابۃ" (5340) میں عبدالملک بن بشیر السامی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقد صحَّ عنه ﷺ أنه قال ذلك لدى مقالته المشهورة للأنصار إبان غزوة حُنين كما في حديث أنس بن مالك عند أحمد 20/ (12766) و (13084)، والبخاري (3528)، ومسلم (1059) وغيرهم، ليس فيه ذكرٌ لعتبة بن غزوان.
📌 اہم نکتہ: نبی ﷺ سے یہ بات صحیح ثابت ہے جو آپ نے غزوہ حنین کے موقع پر انصار سے اپنے مشہور خطاب میں فرمائی تھی۔ 📖 حوالہ / مصدر: جیسا کہ انس بن مالک کی حدیث میں احمد [20/ (12766)، (13084)]، بخاری (3528) اور مسلم (1059) وغیرہ میں ہے۔ اس میں عتبہ بن غزوان کا ذکر نہیں ہے۔