🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

329. ذِكْرُ خُطْبَةِ عُتْبَةَ بْنِ غَزْوَانَ
سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ کے خطبے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5219
حدثني أبو بكر بن أبي دارِم، حدثنا عُبيد بن غَنّام. وأخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة؛ قالا: حدثنا محمد بن عبد الله بن نُمير، قال: مات عُتبة بن غَزوان سنة سبعَ عشرةَ، ومات وله سبعٌ وخمسون سنةً.
محمد بن عبداللہ بن نمیر فرماتے ہیں: عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نے 57 برس کی عمر میں سن 17 ہجری میں وفات پائی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5219]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5220
أخبرني محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم الغِفاري، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا قُرّة بن خالد. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا وكيع، حدثنا قُرّة بن خالد، عن حُميد بن هِلال. وحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب - واللفظ له - حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا أسَد بن موسى، حدثنا سليمان بن موسى (1) ، عن حُميد بن هلال، عن خالد بن عُمير العَدَوي، قال: خَطبَنا عُتبةُ بن غَزْوان، فحَمِدَ الله وأثنى عليه، ثم قال: أما بعدُ، فإنَّ الدنيا قد آذَنَتْ بِصُرْمٍ وَوَلَّت حَذّاءَ، وإنما بقيَ منها صُبَابةٌ كصُبَابة الإناء يَصطَبُّها صاحبُها، وإنكم مُنتقِلون منها إلى دارٍ لا زوالَ لها، فانتقِلوا منها بخيرِ ما بحَضْرتِكم، فإنه قد ذُكِر لنا: أنَّ الحَجَر يُلقَى من شَفِير جَهنّم، فيَهوي بها سبعينَ عامًا، وما يُدرِكُ لها قَعْرًا، فوالله لَتُمْلأنَّهُ، أفَعجِبتُم! وقد ذُكر لنا: أنَّ مِصرَاعَين من مَصارِيع الجنةِ بينهما أَربعون سنةً، وليأتِيَنّ عليه يومٌ وهو كَظِيظُ الزِّحام، ولقد رأيتُني وإني لَسابعُ سبعةٍ مع رسول الله ﷺ ما لنا طعامٌ إلَّا وَرَقُ الشجر حتى قَرَحَتْ أشْداقُنا، وإني التَقطْتُ بُرْدةً فشَقَقْتُها بيني وبين سعد بن أبي وَقّاص فارسِ الإسلام، فاتَّزرتُ بنصفِها واتَّزرَ سعدٌ بنصفِها، وما أصبحَ منا اليومَ أحدٌ حيٌّ إلَّا أصبحَ أميرَ مِضْرٍ من الأمصار، وإنني أعوذُ بالله أن أكونَ في نَفْسي عظيمًا، وعند الله صغيرًا، وإنها لم تكن نُبوّةٌ قَطُّ إلَّا تناقَصَتْ حتى يكون عاقبتُها مُلكًا، وستُجرّبون - أو تَبْلُونَ - الأمراءَ بَعدِي (2) . صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5139 - على شرط مسلم
خالد بن عمیر العدوی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عتبہ بن غزوان نے ہمیں خطبہ دیا، اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء کے بعد فرمایا: امابعد! بے شک دنیا ختم ہونے والی ہے اور بہت جلد یہ منہ پھیر کر چلی جائے گی، دنیا صرف اتنی رہ گئی ہے جتنا کسی برتن میں بچا ہوا مشروب ہوتا ہے۔ اور تم بہت جلد ایک ہمیشہ قائم رہنے والے جہان کی طرف منتقل ہو جاؤ گے اس لئے بہت اچھے زادراہ کے ہمراہ منتقل ہونا کیونکہ ہمیں یہاں یہ بتایا گیا ہے کہ اگر جہنم کے اوپر والے کنارے سے ایک پتھر پھینکا جائے، اور وہ پتھر چالیس سال نیچے کی جانب گرتا رہے، تب بھی وہ اسی گہرائی تک نہیں پہنچ سکتا۔ خدا کی قسم تم اس کو بھر دو گے۔ کیا تمہیں اس بات سے تعجب ہے؟ انہوں نے یہ بھی ذکر کیا کہ جنت کے دروازوں کے ایک پٹ سے دوسرے پٹ تک چالیس سال تک کی مسافت ہے، اور اس پر ایک دن آنے والا ہے کہ وہ لوگوں سے کھچا کھچ بھری ہو گی، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان سات صحابہ کرام میں سے ہوں جن کی خوراک سوائے درختوں کے پتوں کے اور کچھ نہ تھی وہ کھا کھا کر ہماری باچھیں چھل گئی تھیں۔ مجھے ایک چادر ملی جس کو میں نے اور مجاہد اسلام سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے آدھی آدھی کر کے تہبند بنا لیا۔ اور آج ہم سے ہر ایک کسی نہ کسی شہر کا گورنر بن چکا ہے۔ اور میں اس بات سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں اپنے آپ کو عظیم سمجھتا رہوں جبکہ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں، میں حقیر ہوں۔ نبوت ختم ہو چکی ہے اور بادشاہت آنے والی ہے۔ تم عنقریب میرے بعد ان کا تجربہ کر لو گے اور ان سے مل لو گے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5220]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5221
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ - وأنا سألتُه - حدثنا الحسن ابن علي بن شَبيب المَعمَري، حدثنا عبد الملك بن بشير السامِيّ (1) ، حدثنا أبو حَفْص عمر بن الفضل السُّلَمي، حدثنا عتبة بن إبراهيم بن عُتبة بن غَزوان، عن أبيه، عن جَدِّه عُتبة بن غَزوان: أنَّ رسول الله ﷺ قال يومًا لقُريش:"هل فِيكم أحدٌ من غيرِكم؟" قالوا: ابن أُختِنا عُتبةُ بن غَزْوان، فقال:"ابن أُختِ القومِ مِنهُم" (2) . ذكرُ عتبة بن غزوان في هذا الحديث غريب جدًّا، وفضائلُه كثيرة، وهذا من أجلّ فضائلِه. ومَسانيدُ عُتبة بن غزوان عن رسول الله ﷺ عزيزةٌ، وقد كتبْنا من ذلك حديثًا استغربْناه جدًّا، فأنا ذاكِرُه وإن لم يكن الغَلَابيّ من شرط هذا الكتاب:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5140 - إسناده مظلم
سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش سے کہا: کیا (اس وقت) تمہارے درمیان تمہارے قبیلے کے علاوہ تو کوئی شخص موجود نہیں ہے؟ انہوں نے کہا: ہمارا بھانجا عتبہ بن غزوان ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی قوم کا بھانجا انہی میں سے ہوتا ہے۔ ٭٭ عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ کا ذکر اس حدیث میں بہت غریب ہے جبکہ ان کے فضائل بہت زیادہ ہیں۔ اور یہ ان کی سب سے بڑی فضیلت ہے۔ اور عتبہ بن غزوان کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کردہ مسانید عزیز ہیں۔ ہم نے اسی میں سے ایک حدیث لکھی ہے جس کو ہم خود بہت غریب سمجھتے ہیں، اور یہ مجھے بالکل یاد ہے اگرچہ غلابی اس کتاب کے معیار کے راوی نہیں ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5221]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں