المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
346. إن معاذا ( كان أمة قانتا لله )
بے شک سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اللہ کے لیے پوری طرح فرمانبردار ایک امت تھے
حدیث نمبر: 5270
أخبرَنَاه أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شُعبة، سمعت فراسًا يُحدِّث عن الشَّعْبي، عن مسروق، عن عبد الله، قال: إنَّ معاذًا كان أمةً قانتًا، قال: فقال رجلٌ من أشْجَعَ يُقال له: فَرْوةُ بن نَوفَل: نسيَ، إنما ذاك إبراهيمُ ﵇، فقال عبدُ الله: مَن نَسِي؟ إنا كنا نُشبِّهُه بإبراهيمَ، وسُئل عبدُ الله عن الأمّةِ، فقال: مُعلِّمُ الخَيرِ، والقانتُ: المُطِيعُ الله ولرسوله ﷺ (1) . صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5189 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5189 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ ” امۃ قانتا “ تھے، قبیلہ اشجع سے تعلق رکھنے والے (فروہ بن نوفل نامی) ایک شخص نے ان سے کہا: وہ تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام تھے۔ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جس کو بھولنا تھا وہ بھول گیا ہم تو ان (سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ) کو سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ تشبیہ دیا کرتے تھے۔ اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے (قرآن کریم میں استعمال ہونے والے لفظ) ” امۃ “ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: (امۃ کا مطلب ہے) خیر کی تعلیم دینے والے۔ اور قانت کا مطلب ہے اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور فرمانبرداری کرنے والے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5270]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5270 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. فراس: هو ابن يحيى الهَمْداني المُكتِب، ومَسْروق: هو ابن الأجْدَع.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: "فراس" سے مراد: فراس بن یحییٰ الہمدانی المکتب ہیں، اور "مسروق" سے مراد: مسروق بن الاجدع ہیں۔
وأخرجه مُسدَّد في "مسنده" كما في "المطالب العالية" لابن حجر (3647)، وابن سعد 2/ 301، والطبري في "تفسيره" 14/ 191، والطبراني (9944) وأبو الحُسين بن المطهَّر في "حديث شعبة بن الحجاج" (159)، وابنُ عساكر 58/ 420 من طرق عن شعبة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے مسدّد نے اپنی "مسند" میں (جیسا کہ ابن حجر کی "المطالب العالیہ" 3647 میں ہے)، ابن سعد (2/ 301)، طبری نے اپنی تفسیر (14/ 191)، طبرانی (9944)، ابو الحسین بن المطہر نے "حدیث شعبہ بن الحجاج" (159) اور ابن عساکر (58/ 420) نے شعبہ سے متعدد طرق کے ساتھ اسی سند سے تخریج کیا ہے۔
وقد تقدَّم عند المصنف برقم (3407) من طريق سفيان الثوري عن فراس.
📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت مصنف (حاکم) کے ہاں پہلے نمبر (3407) کے تحت سفیان ثوری کے طریق سے گزر چکی ہے جو فراس سے روایت کرتے ہیں۔