المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
364. وقع الطاعون بالشام سنة ثمان عشرة
سن اٹھارہ ہجری میں شام میں طاعون پھیلا
حدیث نمبر: 5308
حدثنا أبو عبد الله الأصبَهاني، حدثنا الحَسن، حدثنا الحُسين، حدثنا محمد بن عمر، قال: كان سهيلُ بن عَمرو من أشراف قريش ورؤسائهم، وشَهِدَ بدرًا مع المشركين، فأسرَه مالكُ بن الدُّخشُم، فقال: أسرْتُ سُهيلًا فلم أبتَغي … به غَيرَه من جميع مع الأُمَمْ وخِنْدِفُ تَعلَمُ أن الفَتى … سُهيلًا فَتَاها إذا ما انتَظَمْ ضربتُ بذِي الشَّفْرِ حتى انْحَنى … وأكرهتُ نفسي على ذِي النِّعَمْ (2) قال: ومن ولدِه عبدُ الله، وهو من المهاجرين الأوّلين، وشهد بدرًا، وأبو جَنْدَل وقد صَحِبَ النبيَّ ﷺ، وعتبةُ الأصغَر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5225 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5225 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
محمد بن عمر فرماتے ہیں: سیدنا سہیل بن عمرو قریش کے بڑے اور باعزت لوگوں میں سے تھے۔ جنگ بدر میں آپ مشرکوں کے ہمراہ شریک ہوئے تھے، سیدنا مالک بن دخشم نے ان کو قیدی بنا لیا تھا۔ اس وقت مالک بن دخشم نے اشعار کہے: وَخِنْدَفْ تَعْلَمْ اَنَّ الْفَتَی، فَتَاھَا سُھَیْلٌ اِذَا یُظَّلَمْ ضَرَبْتُ بِذِی الشَّفْرِ حَتَّی انْثَنَی، وَاَکْرَھْتُ نَفْسِیْ عَلٰی ذِی الْعَلَمِ * میں نے سہیل کو قیدی بنا لیا ہے اب مجھے اس کے علاوہ پوری دنیا سے اور کسی چیز کی طلب نہیں ہے۔ * اور خندف قبیلہ جانتا ہے کہ سہیل ایسا نوجوان ہے کہ جنگ میں بہادری کے جوہر دکھاتا ہے۔ * میں نے اس کو تیز دھار والا نیزہ مارا وہ جھک گیا اور میں نے اپنے آپ کو کٹے ہوئے ہونٹ والے پر (ہاتھ اٹھانے پر) مجبور کیا۔ راوی کہتے ہیں: ان کی اولادوں میں سے عبداللہ بھی ہیں، یہ پہلے پہل ہجرت کرنے والوں میں سے ہیں۔ غزوہ بدر میں شریک ہوئے ہیں۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت پائی ہے۔ اس وقت عتبہ چھوٹے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5308]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5308 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) وهو بنحوه في "طبقات ابن سعد" 6/ 121 عن محمد بن عمر الواقدي.
📖 حوالہ / مصدر: (2) یہ اسی طرح ابن سعد کی "الطبقات" (6/ 121) میں محمد بن عمر الواقدی سے مروی ہے۔
(1) تصحف في (ب) إلى: مجبوب، وإنما هو مَجنُوب من: جَنّب الفرسَ والأسيرَ يَجنبُه جَنَبًا: إذا قاده إلى جَنْبِهِ.
📝 نوٹ / توضیح: (1) نسخہ (ب) میں یہ لفظ تصحیف ہو کر "مجبوب" ہو گیا، حالانکہ یہ "مَجنُوب" ہے جو "جَنَبَ" سے ماخوذ ہے (یعنی: اس نے گھوڑے یا قیدی کو اپنے پہلو میں چلایا)۔
(2) وهو في "المغازي" للواقدي 1/ 117 - 118 في غزوة بدر، ورواه عنه ابن سعد 6/ 121، وزاد الواقدي هناك: فلما نظر إليه أسامة قال: يا رسول الله، أبو يزيد؟ فقال رسول الله ﷺ: "نعم، هذا الذي كان يطعم بمكة الخبز".
📖 حوالہ / مصدر: (2) یہ واقدی کی "المغازی" (1/ 117-118) میں غزوہ بدر کے بیان میں ہے، اور ان سے ابن سعد (6/ 121) نے روایت کیا ہے۔ واقدی نے وہاں یہ اضافہ کیا: "جب اسامہ نے انہیں دیکھا تو کہا: یا رسول اللہ! ابو یزید؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں! یہ وہ ہے جو مکہ میں (لوگوں کو) روٹی کھلاتا تھا۔"
حدیث نمبر: 5308M
قال ابن عُمر: حدثني إسحاق بن حازم، عن عبد الله بن مِقْسَم، عن جابر، قال: لَقِيَ رسولُ الله ﷺ أسامةَ بنَ زيد ورسولُ الله ﷺ على راحلتِه، فأجلسَه بين يديه، وسهيلُ بنُ عَمرو مَجنُوب (1) ، يَداهُ إلى عُنُقه (2) .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات اسامہ بن زید (رضی اللہ عنہ) سے ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے آگے بٹھا لیا؛ جبکہ (اس وقت) سہیل بن عمرو کے دونوں ہاتھ ان کی گردن سے بندھے ہوئے تھے (وہ قیدی تھے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5308M]