🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
482. سورة البحوث سورة التوبة- تسمية أول من أظهر الإسلام وهم سبعة
سورۂ براءت (سورۂ توبہ) — سب سے پہلے اسلام ظاہر کرنے والوں کے نام، جو سات تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5578
أخبرني الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عُبيد بن شَريك، حَدَّثَنَا عبد الوهاب بن نَجْدةَ الحَوْطي، حَدَّثَنَا بَقيّة بن الوليد، عن حَرِيز بن عثمان، قال: حدثني عبد الرحمن بن مَيْسَرَة الحَضْرَمي، حدثني أبو راشد الحُبْراني، قال: رأيتُ المِقدادَ بنَ الأسود حارِسَ رسولِ الله ﷺ جالسًا على تابُوتٍ من تَوابِيتِ الصَّيارِفة بحِمْص، قد أفضَلَ على التابوتِ من عِظَمِه، يريدُ الغَزْوَ، فقلتُ له: لقد أعذَرَ اللهُ إليك، فقال: أبَتْ علينا سورةُ البَحُوثِ: ﴿انفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا﴾ [التوبة: 41] ، قال بَقيّة: سورةُ البَحُوث: سورةُ التوبة (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد ذكرتُ في أول مناقب أبي بكر الصَّدّيق ﵁ (1) حديثَ عبد الله بن مسعود: أولُ مَن أظهَرَ إسلامَه سبعةٌ: رسولُ الله ﷺ وأبو بكر وعمّار وأمُّه سُميَّة وصُهيب وبِلال والمِقداد.
ابوراشد حرانی فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محافظ سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ مقام حمص میں ایک تجارتی تابوت پر بیٹھے ہوئے تھے بڑھاپے کی وجہ سے تابوت پر سوار ہو گئے اور جہاد میں شرکت کا ارادہ کئے ہوئے تھے۔ میں نے ان سے کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ کے بڑھاپے کی وجہ سے آپ کے عذر کو قبول کیا ہے (آپ پھر کیوں جہاد پر جا رہے ہیں؟) انہوں نے جواباً کہا: سورۃ توبہ کی اس آیت نے مجھے جہاد پر نکلنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ﴿اِنفِرُوْا خِفَافًا وَّثِقَالاً﴾ (التوبۃ: 41) کوچ کرو ہلکی جان سے چاہے بھاری دل سے سیدنا بقیہ فرماتے ہیں: سورۃ توبہ کو سورت بحوث بھی کہا جاتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔" (امام حاکم فرماتے ہیں) میں نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مناقب میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی یہ حدیث پاک نقل کی ہے کہ سب سے پہلے اسلام ظاہر کرنے والے سات افراد تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کی والدہ سیدنا سمیہ رضی اللہ عنہا، سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ، سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5578]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5578 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) خبر صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل بقيّة بن الوليد، وقد صرّح بسماعه عند غير المصنّف فأُمن تدليسه. وهو متابع فيما تقدَّم عند المصنّف برقم (2583) و (3321).
⚖️ درجۂ حدیث: یہ خبر "صحیح" ہے اور اس کی سند متابعات و شواہد میں بقیہ بن الولید کی وجہ سے "حسن" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: بقیہ بن الولید نے دیگر کتب میں سماع کی صراحت کر دی ہے، لہذا ان کی تدلیس کا خطرہ ختم ہو گیا ہے۔ 🧩 متابعات و شواہد: اس روایت کی تائید مصنف کے ہاں سابقہ احادیث نمبر (2583) اور (3321) میں موجود ہے۔
وأخرجه ابن أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (290)، ومن طريقه أبو نعيم في "الحلية" 1/ 176، وأخرجه الطبراني في "الكبير" (20/ 556) عن أحمد بن عبد الوهاب بن نجدة الحَوطي، كلاهما (ابن أبي عاصم وأحمد بن عبد الوهاب) عن عبد الوهاب بن نَجْدة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی عاصم نے "الآحاد والمثاني" (290) میں اور ان کے واسطے سے ابو نعیم نے "الحلية" (1/ 176) میں روایت کیا ہے۔ نیز امام طبرانی نے "المعجم الكبير" (20/ 556) میں احمد بن عبد الوہاب بن نجدہ الحوطی سے روایت کیا ہے۔ یہ دونوں عبد الوہاب بن نجدہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
وأخرجه الطبري في "تفسيره" 10/ 139 - 140 عن سعيد بن عمرو السَّكُوني، عن بقية بن الوليد، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام طبری نے اپنی "تفسیر" (10/ 139-140) میں سعید بن عمرو السکونی کے واسطے سے بقیہ بن الولید سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
(1) بل ذكره المصنّف في مناقب بلال بن رباح برقم (5321).
📝 نوٹ / توضیح: بلکہ مصنف نے اسے حضرت بلال بن رباح رضی اللہ عنہ کے مناقب میں حدیث نمبر (5321) کے تحت ذکر کیا ہے۔