المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
498. إذا رأيتم الجنازة فقوموا لها
جب تم جنازہ دیکھو تو اس کے لیے کھڑے ہو جاؤ
حدیث نمبر: 5637
أخبرَناهُ أبو الفضل الفقيه، حَدَّثَنَا عثمان بن سعيد الدّارمي، أخبرنا عبد الله بن عبد الجبار الخَبَائري بحِمصَ، حَدَّثَنَا الحارث بن عَبِيدة، حَدَّثَنَا الزُّهري، عن سالم، عن أبيه، عن عامر بن ربيعة، قال: كنا مع رسولِ الله ﷺ فَمَرَّ بجِنازةٍ، فقال رجلٌ من اليهود: يا محمدُ، تَكَلَّمُ هذه الجِنازةُ؟ فسكتَ رسولُ الله ﷺ، فقال اليهوديُّ: أنا أشهَدُ أنها تَكَلَّمُ، فقال رسول الله ﷺ:"إذا حَدَّثكم أهلُ الكِتابِ حديثًا فقُولُوا: آمَنّا بالله وملائكتِه وكُتُبِه ورُسُلِه" (2) .
هذا حديث يُعرَف بالحارث بن عَبِيدة الرُّهَاوي عن الزُّهري، وقد كتَبْناه في آخر نسخةٍ ليونس بن (1) يزيد عن الزُّهْري:
هذا حديث يُعرَف بالحارث بن عَبِيدة الرُّهَاوي عن الزُّهري، وقد كتَبْناه في آخر نسخةٍ ليونس بن (1) يزيد عن الزُّهْري:
سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، وہاں سے ایک جنازہ گزرا، ایک یہودی شخص نے کہا: اے محمد! کیا یہ جنازہ (قبر میں نکیرین کے سوالوں کے جواب میں) گفتگو کرے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، اس یہودی نے کہا: اے محمد! میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ گفتگو کرے گا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تمہارے ساتھ کوئی اہل کتاب بات کرے تو تم (اس کا جواب نہ دو بلکہ) کہو ” ہم اللہ تعالیٰ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ ٭٭ یہ حدیث حارث بن عبیدہ رہاوی کی زہری سے روایت کے حوالے سے مشہور ہے اور ہم نے اس نسخہ کے آخر میں یونس کی یزید سے پھر زہری سے روایت کردہ حدیث نقل کی ہے۔ (وہ حدیث درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5637]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5637 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده ضعيف لضعف الحارث بن عَبِيدة - وهو الكَلَاعي - واضطرابه فيه، فقد روى الطبراني في "مسند الشاميين" هذا الخبر (1784) عن عثمان بن خالد بن عمرو السلفي، عن عبد الله بن عبد الجبار الخبائري، عن الحارث بن عَبيدة، عن بقية بن الوليد، عن الزُّبيدي، عن الزهري، به. فزاد في الإسناد راويين، وبقية بن الوليد متكلَّم فيه، وهو إلى الضعف أقرب.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کی سند حارث بن عبیدہ (الکلاعی) کے ضعف اور اس میں ان کے اضطراب کی وجہ سے "ضعیف" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: طبرانی نے "مسند الشامیین" (1784) میں یہ خبر عثمان بن خالد بن عمرو السلفی کے واسطے سے روایت کی ہے، وہ عبد اللہ بن عبد الجبار الخبائری سے، وہ حارث بن عبیدہ سے، وہ بقیہ بن ولید سے، وہ زبیدی سے اور وہ زہری سے روایت کرتے ہیں۔ اس میں انہوں نے سند میں دو راویوں کا اضافہ کیا ہے۔ اور بقیہ بن ولید "متکلم فیہ" ہیں اور وہ ضعف کے زیادہ قریب ہیں۔
وأخرجه أبو نعيم في "معرفة الصحابة" (5149) من طريق أحمد بن خالد بن عمرو السلفي، عن أبيه، عن الحارث بن عَبِيدة، عن الزُّبيدي، عن الزهري، به. فلم يذكر في إسناده بقية. لكن خالد بن عمرو السلفي ضعيف الحديث كذلك.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو نعیم نے "معرفۃ الصحابہ" (5149) میں احمد بن خالد بن عمرو السلفی کے طریق سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حارث بن عبیدہ سے، انہوں نے زبیدی سے اور انہوں نے زہری سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: پس انہوں نے اپنی سند میں "بقیہ" کا ذکر نہیں کیا۔ لیکن خالد بن عمرو السلفی بھی ضعیف الحدیث ہیں۔
وقد روي هذا الحديث من غير وجهٍ عن الزهري، عن نَمْلة بن أبي نَمْلة، عن أبيه، عن النَّبِيّ ﷺ، عند أحمد 28/ (17225)، وأبي داود (3644)، وابن حبان (6257)، وإسناده حسن إن شاء الله من أجل نملة.
🧩 متابعات و شواہد: یہ حدیث زہری سے ایک سے زائد سندوں سے مروی ہے، وہ نملہ بن ابی نملہ سے، وہ اپنے والد سے اور وہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔ یہ مسند احمد 28/ (17225)، ابوداؤد (3644) اور ابن حبان (6257) میں ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند نملہ کی وجہ سے ان شاء اللہ "حسن" ہے۔
(1) تحرّف في (ز) و (ب) إلى: عن. وإنما هو يونس بن يزيد الأيلي.
📝 نوٹ / توضیح: (1) نسخہ (ز) اور (ب) میں یہ نام تحریف ہو کر "عن" بن گیا ہے۔ درست "یونس بن یزید الایلی" ہے۔