🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
501. كَانَ عَمُّ الزُّبَيْرِ يُعَلِّقُ الزُّبَيْرَ فِي حَصِيرٍ وَيُدَخِّنُ عَلَيْهِ بِالنَّارِ
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے چچا انہیں چٹائی میں لپیٹ کر آگ کا دھواں دیتے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5648
حدثني أبو بكر بن بالَوَيهِ، حَدَّثَنَا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حَدَّثَنَا مصعب بن عبد الله الزُّبيري، قال: تَوجَّه الزُّبَير في جِوَارِ النعمان بن زِمام الباهِلي المُجاشِعي، فتبِعَه عمرُو بن جُرْمُوز، وهو مُتوجِّه نحو المدينة، فقتَلَه غِيلةً بوادي السِّبَاع، فبرّأ اللهُ من دمِه عليًّا وأصحابَه، وإنما قتلَه عَمرُو بن جُرمُوزٍ في رَجَب سنةَ ستٍّ وثلاثين، فبنو مُجاشِع تُعيِّرهم العربُ بإخفار الزُّبَير، ولذلك يقول جَريرٌ: وقد لَبِسَتْ بعد الزُّبيرِ مُجاشِعٌ … ثيابَ التي حاضَتْ ولم تَغسِلِ الدَّمَا
مصعب بن عبداللہ زبیری بیان کرتے ہیں کہ زبیر رضی اللہ عنہ نعمان بن زمام باہلی مجاشعی کی پناہ میں روانہ ہوئے، تو عمرو بن جرموز نے ان کا پیچھا کیا جبکہ وہ مدینہ کی طرف جا رہے تھے، اور اس نے انہیں وادی سباع میں دھوکے سے شہید کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو ان کے خون سے بری رکھا، انہیں تو عمرو بن جرموز نے رجب چھتیس (36) ہجری میں شہید کیا تھا۔ بنو مجاشع کو عرب لوگ زبیر رضی اللہ عنہ کی پناہ توڑنے پر طعنہ دیا کرتے تھے، اسی لیے (مشہور شاعر) جریر کہتا ہے: زبیر کی شہادت کے بعد بنو مجاشع نے اس عورت کا لباس پہن لیا ہے جو حائضہ ہوئی اور اس نے اپنا خون نہیں دھویا (یعنی وہ رسوائی کا داغ کبھی نہیں دھو سکیں گے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5648]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 5648] [ترقيم الشركة 5595]


Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 5648 in Urdu