المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
511. رجوع الزبير عن معركة الجمل
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کا جنگِ جمل سے واپس لوٹنا
حدیث نمبر: 5673
أخبرني أبو الحسين محمد بن أحمد بن تَميم القَنْطَري ببغداد، حَدَّثَنَا أبو قِلابة عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي، حَدَّثَنَا أبو عاصم، حَدَّثَنَا عبد الله بن محمد بن عبد الملك الرَّقَاشي، عن جَدّه عبد الملك، عن أبي حَرْب بن أبي الأسود الدِّيليّ، قال: شهدتُ الزُّبَيرَ خرج يريدُ عليًّا فقال له عليٌّ: أَنشُدُك الله، هل سمعتَ رسولَ الله ﷺ يقول:"تُقاتِلُه وأنت له ظَالمٌ"؟ فقال: لم أذكُر، ثم مضى الزُّبَير مُنصَرِفًا (1) .
هذا حديث صحيح عن أبي حَرْب بن أبي الأسود، فقد روى عنه يزيدُ بن صُهَيب الفَقيرُ وفَضْلُ بن فَضَالة في إسنادٍ واحدٍ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5574 - صحيح
هذا حديث صحيح عن أبي حَرْب بن أبي الأسود، فقد روى عنه يزيدُ بن صُهَيب الفَقيرُ وفَضْلُ بن فَضَالة في إسنادٍ واحدٍ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5574 - صحيح
ابوحرب بن ابوالاسود دیلی فرماتے ہیں: میں نے زبیر رضی اللہ عنہ کو دیکھا انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت کی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ” تم اس (علی) سے لڑو گے اور تم حد سے بڑھنے والے ہو گے “ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے کچھ یاد نہیں آ رہا۔ لیکن پھر وہ واپس لوٹ گئے۔ ٭٭ یہ حدیث ابوحرب بن ابی الاسود دیلی کی سند کے ہمراہ صحیح ہے، اور انہی سے یزید بن صہیب الفقیر اور فضل بن فضالہ نے ایک ہی اسناد کے ہمراہ روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5673]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5673 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) قوي لغيره كسابقه، وهذا إسناد وهم فيه أبو قِلابة عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي، فقد خالفه يعقوب بن إبراهيم الدورقي الثقة الحافظ عند أبي يعلى (666)، فرواه عن أبي عاصم - وهو الضحّاك بن مَخْلَد النبيل - عن عبد الله بن محمد بن عبد الملك الرقاشي، عن جده عبد الملك بن مسلم الرقاشي، عن أبي جرو المازني، قال: شهدت عليًا والزبير. وكذلك رواه جعفر بن سليمان الضُّبعي عن عبد الله بن محمد الرقاشي كما سيأتي عند المصنّف برقم (5675) و (5676).
⚖️ درجۂ حدیث: (1) یہ روایت بھی پچھلی روایت کی طرح اپنے غیر کی وجہ سے "قوی" ہے، لیکن یہ مخصوص سند ایسی ہے جس میں ابو قلابہ عبد الملک بن محمد الرقاشی کو وہم ہوا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: چنانچہ ان کی مخالفت یعقوب بن ابراہیم الدورقی (جو ثقہ حافظ ہیں) نے ابو یعلیٰ (666) کے ہاں کی ہے۔ انہوں نے اسے ابو عاصم (ضحاک بن مخلد النبیل) سے، انہوں نے عبد اللہ بن محمد بن عبد الملک الرقاشی سے، انہوں نے اپنے دادا عبد الملک بن مسلم الرقاشی سے اور انہوں نے ابو جرو المازنی سے روایت کیا ہے، انہوں نے کہا: میں علی اور زبیر کے پاس حاضر ہوا...۔ اور اسی طرح اسے جعفر بن سلیمان الضبعی نے عبد اللہ بن محمد الرقاشی سے روایت کیا ہے جیسا کہ مصنف کے ہاں آگے رقم (5675) اور (5676) پر آئے گا۔