المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
519. ذكر أربع كان طلحة فيها سلف النبى
چار امور کا بیان جن میں سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیش رو رہے
حدیث نمبر: 5697
أخبرني أبو عون محمد بن أحمد بن ماهان الجَزّار على الصَّفا، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا مُبَارك بن فَضَالة، عن الحسن، عن أبي بَكْرة: أن عليًّا قال يومَ الجمَل لما رأى القَتْلى والرؤوسَ تَنْدُر: يا حسنُ، أيُّ خَيرٍ يُرجَى: بعد هذا؟ قال: نَهيتُك عن هذا قبلَ أن تَدخُل (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5598 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5598 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوبکرہ فرماتے ہیں: جنگ جمل کے تڑپتی ہوئی لاشوں اور پھڑکتے ہوئے سروں کو دیکھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے حسن! اس واقعہ کے بعد اب کس بھلائی کی امید کی جا سکتی ہے؟ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے تو آپ کو یہاں آنے سے پہلے ہی یہاں نہ آنے کی عرض کی تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5697]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5697 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) رجاله لا بأس غير أن مُبارك فضالة بن فضالة مدلِّس، وقد عنعن، وانظر ما تقدم برقم (4607). والحسن: هو ابن أبي الحسن البصري. وأخرجه ابن الأعرابي في "معجمه" (905)، ومن طريقه الخطّابي في "العُزلة" ص 14، وابن عساكر 42/ 258 من طريق يحيى بن المُنذر الحُجْري، عن المُبارك بن فَضالة، به.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کے رجال میں کوئی حرج نہیں سوائے اس کے کہ مبارک بن فضالہ "مدلس" ہیں اور انہوں نے "عن" سے روایت کی ہے (عنعنہ کیا ہے)۔ نمبر (4607) پر گزرنے والی تفصیل دیکھیں۔ الحسن سے مراد "ابن ابی الحسن البصری" ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن الاعرابی نے "معجم" (905) میں، اور انہی کے طریق سے خطابی نے "العزلۃ" ص 14 میں، اور ابن عساکر 42/ 258 نے یحییٰ بن المنذر الحجری کے طریق سے، انہوں نے مبارک بن فضالہ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
قوله: تَنْدُر، أي: تَسقُط.
📝 نوٹ / توضیح: ان کا قول "تَنْدُر" کا معنی ہے: گرتی ہے۔