المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
523. ذكر مناقب محمد بن طلحة بن عبيد الله السجاد رضي الله عنهما
سیدنا محمد بن طلحہ بن عبید اللہ السجّاد رضی اللہ عنہما کے مناقب کا بیان
حدیث نمبر: 5710
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا سعيد بن سليمان الواسِطيّ، حدثنا إسحاق بن يحيى بن طلحة، حدثني عمِّي عيسى بن طلحة، عن عائشة أم المؤمنين، قالت: قال أبو بكر الصِّدّيق: كنتُ أولَ مَن فاءَ إلى رسولِ الله ﷺ، ومعه طلحةُ بنُ عُبيد الله، وإذا طلحةُ قد غَلبَه البَرْدُ ورسولُ الله ﷺ أمثلُ بَلَلًا منه، فقال لنا رسول الله ﷺ:"عليكُم بصاحبِكُم" فتركناهُ وأقبلْنا عليه، وإذا مِغْفَرُه قد عَلِقَ بوَجْنتَيه، وبينَه وبين المَشرقِ رجلٌ أنا أقربُ إلى رسولِ الله ﷺ منه، فإذا هو أبو عُبيدة بن الجَرّاح، فذهبتُ لأَنزعَ المِغفَرَ، فقال أبو عُبيدة: أنشُدُكَ الله يا أبا بكر إلّا تَركْتَني؟ فتركتُه فجَذَبَها فانتُزِعَت ثَنِيَّةُ أبي عُبيدة، قال: فذهبتُ لأنزِعَ الحَلْقةَ الأخرى، فقال لي أبو عُبيدة مثلَ ذلك، فانتزَعَ الحَلْقَةَ الأخرى، فانتُزع ثَنِيَّةُ أبي عُبيدة الأخرى، فقال رسول الله ﷺ:"أمَا إنَّ صَاحِبَكُم قد استَوجَبَ" أو"أوجَبَ طلحةُ" (1) . صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5610 - لا والله
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5610 - لا والله
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سب سے پہلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب لوٹا، اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ موجود تھے۔ اچانک ان پر سردی کا غلبہ ہو گیا حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے بھی زیادہ سردی محسوس فرماتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کہا: اپنے ساتھی کا خیال کرو، ہم فوراً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے، ہم نے دیکھا کہ ان کے خود کی کڑیاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جبڑوں میں گھس چکی تھیں۔ ان کی مشرقی جانب ایک آدمی تھا (وہ ان کے اتنے فاصلے پر تھا کہ اس وقت) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زیادہ قریب ہوں۔ جب ہم نے ان کو (غور سے) دیکھا تو وہ سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ تھے، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خود اتارنے کے لئے آگے بڑھا تو سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: اے ابوبکر! میں تمہیں قسم دے کر کہتا ہوں تم مجھے نہیں چھوڑنا، میں نے (خود اتارنے کا فیصلہ) ترک کر دیا، پھر سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے اپنے دانتوں سے پکڑ کر اس کو کھینچا، اس کی وجہ سے ان کے اگلے دو دانت ٹوٹ گئے۔ (سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں: میں پھر آگے بڑھا تاکہ وہ خود میں اتاروں، لیکن ابوعبیدہ نے دوبارہ اسی طرح مجھے قسم دے کر روک دیا اور خود اتارنے کے لئے آگے بڑھے، جب دوبارہ زور لگایا تو ان کے سامنے کے دوسرے دو دانت بھی ٹوٹ گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارے ساتھی نے جنت واجب کر لی۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں نے ہی اس کو روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5710]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5710 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف جدًّا من أجل إسحاق بن يحيى بن طلحة، فهو متروك كما نبَّه عليه الذهبي في "تلخيصه". وقد تقدَّم برقم (4361) من طريق أخرى عنه.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند بہت زیادہ ضعیف (ضعیف جداً) ہے اسحاق بن یحییٰ بن طلحہ کی وجہ سے، وہ "متروک" ہے جیسا کہ ذہبی نے اپنی "تلخیص" میں متنبہ کیا ہے۔ اور یہ ان کے طریق سے نمبر (4361) پر پہلے گزر چکی ہے۔