🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
524. من أراد أن ينظر إلى شهيد فلينظر إلى طلحة بن عبيد الله
جس نے کسی شہید کو دیکھنا ہو وہ سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کو دیکھ لے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5711
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيعُ بن سليمان، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني إسحاق بن يحيى، عن عيسى بن طلحة بن عُبيد الله، قال: دخلتُ على أمِّ المؤمنين وعائشةَ بنتِ طلحة، وهي تقولُ لأمِّها أسماءَ: أنا خيرٌ منكِ، وأبي خيرٌ من أبيكِ، قال: فجَعَلَت أمُّها تَشتِمُها وتقولُ: أنتِ خيرٌ منّي؟! فقالت أم المؤمنين عائشةُ: ألا أقضِي بينكما؟ قالت: بلى، قالت: فإنَّ أبا بكر دخل على رسول الله ﷺ، فقال:"يا أبا بكرٍ، أنتَ عَتِيقُ اللهِ من النار" قالت: فمن يومِئذٍ سُمّي عَتِيقًا، ولم يكن سُمِّي قبلَ ذلك عَتِيقًا، قالت: ثم دخل طلحةُ بن عُبيد الله، فقال:"أنت يا طَلْحَةُ ممَّن قَضَى نَحْبَه" (2) . صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5611 - على شرط مسلم
سیدنا عیسیٰ بن طلحہ بن عبیداللہ فرماتے ہیں: میں اور (میری بہن) عائشہ بنت طلحہ، ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے۔ عائشہ بنت طلحہ (سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی نواسی ہیں) اپنی والدہ اسماء سے کہہ رہی تھی: میں تم سے بہتر ہوں اور میرے والد تمہارے والد سے بہتر ہیں۔ ان کی والدہ ان کو مار مار کر کہنے لگی: تم مجھ سے بہتر ہو؟ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کیا تمہارے درمیان میں فیصلہ نہ کر دوں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: انت عتیق من النار (یعنی تم جنت سے آزاد ہو) اسی دن سے آپ کا نام عتیق ہو گیا۔ آپ سے پہلے کسی کو بھی اس نام سے نہیں پکارا گیا۔ آپ فرماتی ہیں: پھر سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ حاضر بارگاہ ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یوں فرمایا: اے طلحہ تم ان لوگوں میں سے ہو جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: مِمَّنْ قَضَی نَحْبَہُ تو ان میں سے کوئی اپنی منت پوری کر چکا ۔ (ام المومنین کا مقصد یہ تھا کہ (سیدنا طلحہ اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما) اپنے اپنے مقام دونوں ہی بزرگ اور صاحب عزت و عظمت ہیں)۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5711]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5711 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده بهذا السياق ضعيف جدًّا كما تقدَّم بيانه برقم (3599)، وقوله في هذه الرواية: لأمها أسماء، خطأ بيقين، صوابه ما جاء في الرواية المتقدمة أنها أم كلثوم بنت أبي بكر الصديق. وقد صحَّ المرفوع في تسمية النبي ﷺ لأبي بكر عتيقًا وقوله لطلحة بأنه ممَّن قضى نحبه، مُفردَين عن هذه القصة كما تقدَّم تخريجه هناك.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) یہ سند اس سیاق کے ساتھ بہت زیادہ ضعیف (ضعیف جداً) ہے جیسا کہ نمبر (3599) کے تحت بیان گزر چکا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس روایت میں "لأمها أسماء" (اس کی ماں اسماء) کا قول یقینی طور پر غلطی ہے، صحیح وہ ہے جو گزشتہ روایت میں آیا ہے کہ وہ "ام کلثوم بنت ابی بکر الصدیق" ہیں۔ 📌 اہم نکتہ: نبی ﷺ کا ابوبکر کو "عتیق" نام دینا اور طلحہ کے بارے میں یہ فرمانا کہ وہ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے "اپنا عہد پورا کر دیا" (قضیٰ نحبہ)، یہ دونوں باتیں اس قصے سے الگ الگ صحیح طور پر ثابت ہیں، جیسا کہ وہاں ان کی تخریج گزر چکی ہے۔