المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
558. براءة المهاجرين الأولين عن حساب يوم القيامة
ابتدائی مہاجرین قیامت کے دن حساب سے بری ہوں گے
حدیث نمبر: 5809
حدثني أبو عمرو محمد بن جعفر بن محمد بن مَطَر العَدْل الزاهد - وأنا سألتُه - حدثنا أبو خُبيب العباس بن أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا أبو بكر عَبد الله بن عُبيد الله الطَّلْحي، حدثنا عَبد الله بن محمد بن إسحاق بن موسى بن طلحة بن عُبيد الله، حدثني أبو حُذيفة الحُصين بن حُذيفة بن صَيْفِيّ بن صُهيب، عن أبيه، عن جده [عن] (1) صُهيب، قال: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول في المُهاجرين الأَوّلين:"هُم السابِقُون الشافِعُون المُدِلُّون على ربِّهم ﵎، والذي نفسي بيده، إنهم لَيأتُون يوم القيامة وعلى عواتقهم السِّلاحُ، فَيَقرَعُون بابَ الجنة، فتقول لهم الخَزَنةُ: مَن أنتُم؟ فيقولون: نحن المُهاجرون، فتقول لهم الخَزَنةُ: هل حُوسِبتُم؟ فيَجْثُون على رُكَبِهم، ويَنثُرون ما في جِعابِهم، ويَرفعُون أيديَهم إلى السماء، فيقولون: أيْ ربِّ، وبماذا نُحاسَب؟ فقد خَرجْنا وتَركْنا الأهلَ والمالَ والولدَ! فيُمثِّل اللهُ لهم أجنحةً من ذهَب مُخوَّصةً بالزَّبَرْجَد والياقوت، فيَطِيرون حتى يَدخُلوا الجنةَ، فذلك قوله: ﴿وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ﴾ الآية إلى ﴿لُغُوبٍ﴾ [فاطر: 34 - 35] ". قال حُذيفة: قال صَيفِيّ: قال صُهيب: قال رسول الله ﷺ:"فلَهُم بمَنازِلهم في الجنة أعرَفُ منهم بمنَازلِهم في الدُّنيا" (1) . غريب الإسناد والمتن، ذكرتُه في مناقب صُهيب لأنه من المُهاجرين الأوَّلين، والراوي للحديث أعقابُه، والحديثُ لأصحابه، ولم نكتبه في الدنيا إلَّا عن شيخِنا الزاهدِ أبي عَمرو ﵀.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5704 - بل كذب وإسناده مظلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5704 - بل كذب وإسناده مظلم
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین اولین (پہلے پہلے ہجرت کرنے والوں) کے بارے میں ارشاد فرمایا: وہ لوگ سبقت لے جانے والے ہیں، شفاعت کرنے والے ہیں، اپنے رب پر دلائل ثابت کرنے والے ہیں، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے وہ لوگ قیامت کے دن ایسی حالت میں آئیں گے کہ ان کے کاندھوں پر ہتھیار ہوں گے، وہ جنت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے، جنت کا دربان ان سے کہے گا: تم کون لوگ ہو؟ وہ کہیں گے: ہم مہاجرین ہیں۔ جنت کا دربان ان سے کہے گا: کیا تمہارا حساب کتاب ہو چکا ہے؟ وہ لوگ گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اپنا ترکش جھاڑیں گے، اور اپنے ہاتھ آسمان کی جانب بلند کر کے کہیں گے: اے میرے رب! ہم کس چیز کا حساب دیں؟ ہم تو اپنے گھربار، اہل و عیال، مال و دولت سب کچھ تو چھوڑ کر آ گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو سونے کے پر عطا فرمائے گا، جو کہ زبرجد اور یاقوت کے موتیوں سے سجے ہوں گے، وہ لوگ ان پروں کی مدد سے اڑ کر جنت میں چلے جائیں گے۔ یہی وہ بات ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں کیا ہے۔ وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ إِنَّ رَبَّنَا لَغَفُورٌ شَكُورٌ، الَّذِي أَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَةِ مِنْ فَضْلِهِ لَا يَمَسُّنَا فِيهَا نَصَبٌ وَلَا يَمَسُّنَا فِيهَا لُغُوبٌ (الفاطر: 34، 35) ” اور کہیں گے سب خوبیاں اللہ کو جس نے ہمارا غم دور کیا بے شک ہمارا رب بخشنے والا قدر فرمانے والا ہے، وہ جس نے ہمیں آرام کی جگہ اتارا اپنے فضل سے ہمیں اس میں نہ کوئی تکلیف پہنچے نہ ہمیں اس میں کوئی تکان لاحق ہو “۔ سیدنا صہیت فرماتے ہیں: وہ اپنے جنتی مکانوں کو اپنے اس دنیا کے مکانات سے زیادہ پہچانتے ہیں۔ ٭٭ اس حدیث کا متن اور اسناد غریب ہے، اس کو میں نے سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ کے فضائل کے باب میں ذکر کیا ہے کیونکہ وہ اولین مہاجرین میں سے ہیں۔ راوی حدیث کا حدیث میں ایک گہرا تعلق ہوتا ہے، اور حدیث اصحاب حدیث کی ہوتی ہے۔ اور میں نے اس کو اپنے شیخ زاہد ابوعمرو رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے نقل کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5809]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5809 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حرف "عن" سقط نسخنا الخطية، ولا بد من إثباته كما يدل عليه آخر الحديث، حيث بيَّن فيه أبو حذيفة الحُصين بن حُذيفة رجالَ إسناده مُسمَّين بأسمائهم، فقال: قال حذيفة - يعني أباه - قال: صيفي، قال صهيب. فاقتضى ذلك أن حذيفة بن صَيفيّ بن صهيب روى الخبر عن أبيه صيفيِّ عن جَدِّه صُهيب، وليس عن جده مباشرة. وانظر ما تقدَّم برقم (5803/ 3).
📝 نوٹ / توضیح: حرف "عن" ہمارے قلمی نسخوں سے گر گیا ہے، جسے ثابت کرنا ضروری ہے کیونکہ حدیث کا آخری حصہ اس پر دلالت کرتا ہے، جہاں ابو حذیفہ الحصین بن حذیفہ نے اپنے رجالِ سند کا نام بہ نام ذکر کیا اور کہا: "حذیفہ (یعنی ان کے والد) نے کہا، صیفی نے کہا، صہیب نے کہا۔" اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حذیفہ بن صیفی بن صہیب نے یہ خبر اپنے والد صیفی سے اور انہوں نے اپنے والد (حذیفہ کے دادا) صہیب سے روایت کی ہے، نہ کہ حذیفہ نے براہِ راست اپنے دادا سے۔ پچھلا نمبر (5803/ 3) دیکھیں۔
(1) إسناده ضعيف بمرَّة، عَبدُ الله بن محمد بن إسحاق بن موسى بن طلحة بن عُبيد الله، كذا سُمِّي في هذه الرواية التي عند الحاكم! وهو وهمٌ ممّن دون أبي بكر عَبد الله بن عبيد الله الطَّلْحي، وإنما هو عُبيد الله بن إسحاق بن محمد بن عمران بن موسى بن طلحة بن عُبيد الله، فهو والد عَبد الله بن عُبيد الله الطَّلْحي، وقد سُمّي على الصواب في رواية أبي نُعيم الأصبهاني لهذا الخبر في "حلية الأولياء" 1/ 156 من طريق جعفر بن أبي الحسن الخُوارِيّ (وتحرَّف في المطبوع إلى: الخوارزمي) عن عَبد الله بن عُبيد الله الطَّلحي بهذا الإسناد، ونصّ فيه أنه عن أبيه عبيد الله، وعبيدُ الله بن إسحاق هذا قال أبو حاتم كما في "الجرح والتعديل" 5/ 308: ليس بالقوي، وحذيفةُ بن صَيْفي مجهول لم يرو عنه غير ابنه الحُصين، وقال الذهبي في "تلخيصه": كذبٌ، وإسناده مُظلِم.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند یکسر ضعیف (کمزور ترین) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: حاکم کی اس روایت میں راوی کا نام "عبداللہ بن محمد بن اسحاق..." لکھا ہے جو کہ وہم ہے (غلطی ہے)۔ صحیح نام "عبیداللہ بن اسحاق بن محمد بن عمران بن موسیٰ بن طلحہ بن عبیداللہ" ہے، اور یہ عبداللہ بن عبیداللہ الطلحی کے والد ہیں۔ ابو نعیم کی "حلية الأولياء" (1/ 156) میں درست نام ذکر کیا گیا ہے۔ عبیداللہ بن اسحاق کے بارے میں ابو حاتم نے "الجرح والتعديل" (5/ 308) میں کہا: "یہ قوی نہیں ہیں۔" اور حذیفہ بن صیفی "مجہول" ہیں جن سے سوائے ان کے بیٹے حصین کے کسی نے روایت نہیں کی۔ ذہبی نے "تلخیص" میں اسے "جھوٹ" اور اس کی سند کو "تاریک" (مظلم) قرار دیا ہے۔