المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
574. تأديب النبى لمن يرى نفسه أفضل
اپنے آپ کو دوسروں سے بہتر سمجھنے والے کی نبی ﷺ کی طرف سے تربیت
حدیث نمبر: 5845
حدثنا أبو سعيد أحمد بن يعقوبَ الثَّقَفي، حدثنا عمر بن حفص السَّدُوسي، حدثنا عاصم بن علي، حدثنا أبو مَعْشَر، عن أيوب بن أبي أمامة بن سَهْل بن حُنيف، عن أبيه، عن سهل بن حُنيف، قال: جاء عليٌّ إلى فاطمةَ يومَ أحُدٍ، فقال: أمسِكي سيَفي هذا، فلقد أحسنتُ به الضَّربَ اليومَ، فقال رسول الله ﷺ:"إن كنتَ أحسنتَ به القِتالَ، فقد أحسنَه عاصمُ بن ثابت، وسَهلُ بن حُنيف، والحارثُ بن الصِّمَّة" (2) .
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جنگ احد کے دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور فرمایا: میری یہ تلوار پکڑو، میں نے آج اس تلوار کے ساتھ بہت خوب لڑائی کی ہے۔ تم ایسا کرو کہ اس کو اچھی طرح دھو ڈالو، آج میں نے اس کے ساتھ بہت خوب لڑائی کی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم نے اس کے ساتھ بہت اچھی لڑائی کی ہے تو عاصم بن ثابت، سہل بن حنیف اور حارث بن صمہ رضی اللہ عنہم نے بھی بہت خوب لڑائی کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5845]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5845 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبي مَعْشَر: وهو نَجيح بن عبد الرحمن السِّنْدي.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "حسن لغیرہ" ہے، جبکہ موجودہ سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: وجہ ابو معشر (نجیح بن عبدالرحمن السندی) کا ضعف ہے۔
وأخرجه الطبراني في "الكبير" (5564) عن عمر بن حفص السدوسي، بهذا الإسناد. لكن سقط من المطبوع ذكر أبي أمامة بن سهل.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "المعجم الكبير" (5564) میں عمر بن حفص السدوسی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: لیکن مطبوعہ نسخے سے ابو امامہ بن سہل کا ذکر گر گیا ہے۔
وأخرجه أحمد بن منيع في "مسنده" كما في "المطالب العالية" لابن حجر (4270/ 1) عن حُسين بن محمد، وأبو يعلى في "مسنده الكبير" كما في "المطالب" (4270/ 2) عن محمد بن بكار، كلاهما عن أبي مَعْشَر، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد بن منیع نے "مسند" میں (جیسا کہ ابن حجر کی "المطالب العالية" 4270/ 1 میں ہے) حسین بن محمد سے؛ اور ابو یعلیٰ نے "المسند الكبير" میں (جیسا کہ "المطالب" 4270/ 2 میں ہے) محمد بن بکار سے روایت کیا ہے۔ یہ دونوں ابو معشر سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔