🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
577. ما أسكر كثيره فقليله حرام
جس چیز کی کثرت نشہ آور ہو اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5857
حدثنا أبو عبد الله الأصبَهاني، حدثنا الحَسن بن الجَهْم، حدثنا الحُسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر، أخبرني عبد الملك بن أبي سُليمان، عن خَوّات بن صالح، عن أبيه. قال (1) : وأخبرنا أبو بكر بن عبد الله بن أبي سَبْرة، عن المسور بن رِفاعة، عن عبد الله بن مِكْنَف: أنَّ خَوّات بن جُبير ممّن خرج مع رسولِ الله ﷺ إلى بدرٍ، فلما كان بالرَّوحاء أصابه نَصِيلُ حَجَر فكُسِر، فردَّه رسول الله ﷺ إلى المدينة، وضَرَب له بسَهْمِه وأجرِه، فكان كمن شَهِدها. قالوا: وشهد خَوّات أحُدًا والخندقَ والمشاهدَ كلَّها مع رسول الله ﷺ (2) .
عبداللہ بن مکنف فرماتے ہیں کہ سیدنا خوات بن جبیر رضی اللہ عنہ ان صحابہ کرام میں سے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جنگ بدر کے لئے روانہ ہوئے تھے جب یہ لشکر مقام روحاء تک پہنچا تو ان کو ایک پتھر لگا جس کی وجہ سے ان کی ٹانگ ٹوٹ گئی، اس وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مدینہ منورہ کی جانب واپس بھیج دیا۔ لیکن ان کو جنگ بدر کے مال غنیمت کا حصہ بھی دیا اور بدری صحابہ کرام کو ملنے والے اجر و ثواب کا بھی مستحق قرار دیا۔ چنانچہ یہ جنگ بدر کے شرکاء کی مثل قرار پائے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5857]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5857 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) القائل هو محمد بن عمر: وهو الواقدي.
📝 نوٹ / توضیح: کہنے والے محمد بن عمر ہیں، اور وہ "واقدی" ہیں۔
(2) حسن لغيره، وهما مرسلان.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ "حسن لغیرہ" ہے، اور یہ دونوں روایات "مرسل" ہیں۔
وأخرجه ابن سعد في "طبقاته" 3/ 442 عن محمد بن عمر الواقدي بإسناديه هذين.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد نے "الطبقات" (3/ 442) میں محمد بن عمر الواقدی سے ان کی انہی دونوں اسانید کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وهو في "مغازي الواقدي" 1/ 160 مختصر بقوله: وخَوّات بن جُبير بن النعمان كُسِر بالرَّوحاء، حدثني عبد الملك بن أبي سليمان عن خوّات بن صالح عن ذلك.
📖 حوالہ / مصدر: یہ "مغازي الواقدي" (1/ 160) میں مختصر الفاظ میں ہے: "اور خوات بن جبیر بن نعمان کی ٹانگ مقامِ روحاء میں ٹوٹ گئی تھی۔ مجھے عبدالملک بن ابی سلیمان نے خوات بن صالح سے اس بارے میں بیان کیا۔"
ورُوي عن ابن شهاب الزهري نحو ما رواه الواقدي في قصة إصابة خوّات، وذلك فيما أخرجه الخطابي في "غريب الحديث" 1/ 399. ورجاله لا بأس بهم لكنه مرسلٌ كذلك.
🧩 متابعات و شواہد: خوات کے زخمی ہونے کے قصے میں جو واقدی نے روایت کیا ہے، اسی طرح ابن شہاب الزہری سے بھی مروی ہے جسے خطابی نے "غريب الحديث" (1/ 399) میں تخریج کیا ہے۔ اس کے رجال میں کوئی حرج نہیں لیکن یہ بھی "مرسل" ہے۔
وروي نحوه أيضًا عن عبد الله بن محمد بن عُمارة عند أبي القاسم البغوي في "الصحابة" 2/ 275، وعبد الله بن محمد بن عمارة من الرواة عن أتباع التابعين.
🧩 متابعات و شواہد: اسی طرح عبداللہ بن محمد بن عمارہ سے ابو القاسم البغوی کی "الصحابة" (2/ 275) میں مروی ہے۔ عبداللہ بن محمد بن عمارہ اتباع تابعین سے روایت کرنے والے راوی ہیں۔
وأما أنه ضُرب له بسهمه وأجره يوم بدر فذكره أيضًا عروة بن الزبير وابن إسحاق كما تقدَّم عند المصنف.
📌 اہم نکتہ: جہاں تک غزوہ بدر میں ان کے لیے حصہ اور اجر مقرر کیے جانے کی بات ہے، تو اسے عروہ بن زبیر اور ابن اسحاق نے بھی ذکر کیا ہے جیسا کہ مصنف کے ہاں گزر چکا ہے۔