🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
611. ذكر مناقب عبد الله بن مالك بن بحينة - رضى الله عنه -
سیدنا عبد اللہ بن مالک بن بحینہ رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5928
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيه، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدثنا مُصعب بن عبد الله، قال: ومن حُلَفائهم عبدُ الله بن مالك بن بُحَينة؟ وبَحَينةُ أمُّه، وهي بُحينة بنتُ الحارث بن المُطَّلب بن عبد مَنَاف، تَزوّجها مالكٌ وهو رجلٌ من أَزْدِ شَنُوءَةَ، حَليفٌ لبني المُطّلب، فوَلَدَت له عبد الله بن مالك، فكان يقال له: ابن بُحَينة. لا نعرف لعبد الله بن مالك من التابعين راويًا غيرَ عبد الرحمن بن هُرمُز الأعرَج أبو محمد، أولُها حديثُ السَّهْو، وله طُرُق كثيرة، وكان ﷺ إذا سَجَد جافَى عَضُدَيه عن جَنْبَيهِ، واحتَجَم رسولُ الله ﷺ بِلَحْيَي جَمَل (1) . وقد روى أبو جعفر محمد بن علي بن الحسين الباقِرُ ﵃ ومحمد بن عبد الرحمن بن ثَوْبَانَ عن عبد الله بن مالك بن بُحَينة. أما حديثُ الباقِر ﵁:
مصعب بن عبداللہ کہتے ہیں: ان کے حلفاء میں سے عبداللہ بن مالک بن بحینہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ بحینہ ان کی والدہ ہیں۔ یہ بحینہ بنت حارث بن مطلب بن عبدمناف ہے، مالک نے ان کے ساتھ نکاح کیا، مالک ازدشنوہ قبیلے سے تعلق رکھنے والا شخص تھا اور بنی عبدالمطلب کا حلیف تھا، بحینہ کے پیٹ سے ان کا بیٹا، عبداللہ بن مالک پیدا ہوا، اس لئے ان کو ابن بحینہ کہا جاتا تھا، ہم نہیں جانتے کہ تابعین میں سے عبدالرحمن بن ہرمز اعرج ابومحمد کے علاوہ دوسرے کسی شخص نے ان سے روایت کی ہو، ان کی سب سے پہلی حدیث سہو کے بارے میں ہے۔ اس کے بہت سارے طرق ہیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے ہوئے سجدہ کرتے تو اپنے پہلوؤں اور رانوں کے درمیان فاصلہ رکھتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام لحی جمل میں پچھنے لگوائے۔ (لحی جمل، مکہ کے راستے میں واقع ایک جگہ کا نام ہے) ٭٭ ابوجعفر محمد بن علی بن حسین الباقر اور محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان نے عبداللہ بن مالک بحینہ سے حدیث روایت کی ہے۔ سیدنا باقر سے روایت کردہ حدیث درج ذیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5928]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5928 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) أما حديث السهو فقد تقدَّم عند المصنف برقم (1219).
📝 نوٹ / توضیح: جہاں تک سہو کے حدیث کا تعلق ہے تو وہ مصنف کے ہاں نمبر (1219) پر گزر چکی ہے۔
وأما حديث مجافاة العَضُدين فأخرجه أحمد 38/ (22925)، والبخاري (390)، ومسلم (495) من طريق جعفر بن ربيعة، عن الأعرج، عن ابن بُحينة: أنَّ النبي ﷺ كان إذا صلَّى فرَّج بين يديه حتى يبدوَ بياضُ إبْطَيه.
📖 حوالہ / مصدر: اور بازوؤں کو (پہلو سے) جدا رکھنے کی حدیث احمد (38/ 22925)، بخاری (390) اور مسلم (495) میں جعفر بن ربیعہ کے طریق سے، اعرج سے اور وہ ابن بحینہ سے مروی ہے کہ: نبی ﷺ جب نماز پڑھتے تو اپنے بازوؤں کو کشادہ رکھتے یہاں تک کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی ظاہر ہو جاتی۔
واللفظ الذي ذكره المصنف لهذا الخبر هو لفظ أبي صالح عبد الله بن صالح كاتب الليث عن بكر بن مضر، عن جعفر بن ربيعة، عن الأعرج، عن ابن بُحينة، أخرجه من طريقه الطبراني في "الأوسط" (3212)، والبيهقي 2/ 114.
📝 نوٹ / توضیح: مصنف نے اس خبر کے لیے جو الفاظ ذکر کیے ہیں وہ ابو صالح عبداللہ بن صالح (کاتبِ لیث) کے ہیں جو بکر بن مضر سے، وہ جعفر بن ربیعہ سے، وہ اعرج سے اور وہ ابن بحینہ سے روایت کرتے ہیں۔ اسے ان کے طریق سے طبرانی نے "الأوسط" (3212) اور بیہقی (2/ 114) نے روایت کیا ہے۔
وأما حديث الاحتجام بلَحْيي جمل، فأخرجه أحمد 38/ (22924)، والبخاري (1836)، ومسلم (1203)، وابن ماجه (3481)، والنسائي (3819)، وابن حبان (3953) من طريق سليمان بن بلال، عن علقمة بن أبي علقمة، عن عبد الرحمن الأعرج، عن ابن بُحينة، قال: احتجمَ رسول الله ﷺ بلَحْيِ جمل من طريق مكة على وسط رأسه وهو محرم. وهذا لفظ الأكثرين: بلُحْي جمل، علي الإفراد، وهو موضع قريب من السُّقيا التي تعرف اليوم بأُم البِرَك شمال شرق رابغ على بعد 77 كم تقريبًا.
📖 حوالہ / مصدر: اور "لحی جمل" کے مقام پر سینگی لگوانے والی حدیث احمد (38/ 22924)، بخاری (1836)، مسلم (1203)، ابن ماجہ (3481)، نسائی (3819) اور ابن حبان (3953) میں سلیمان بن بلال کے طریق سے، علقمہ بن ابی علقمہ سے، عبدالرحمن الاعرج سے اور وہ ابن بحینہ سے مروی ہے کہ: رسول اللہ ﷺ نے احرام کی حالت میں مکہ کے راستے میں "لحی جمل" کے مقام پر اپنے سر کے درمیان سینگی لگوائی۔ اکثر راویوں کے الفاظ "لُحْي جمل" (واحد) ہیں، اور یہ "سُقیا" کے قریب ایک جگہ ہے جسے آج کل "ام البرک" کہا جاتا ہے، جو رابغ کے شمال مشرق میں تقریباً 77 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔