🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
690. عمران بن حصين كان أشد اجتهادا فى العبادة
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ عبادت میں بہت زیادہ مجاہدہ کرنے والے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6102
أخبرني أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حَدَّثَنَا محمد بن إسحاق بن إبراهيم، حَدَّثَنَا الفضل بن إسحاق الدُّوري، حَدَّثَنَا أبو قُتَيبة، عن إبراهيم بن عن أبيه: أنَّ زيادًا - أو ابنَ زياد - بَعَثَ عِمرانَ بن حُصَين ساعيًا، فجاء ولم يَرجِعْ معه درهم، فقال له: أين المال؟ قال: ولِلمالِ أرسلتَني؟ أخذناها كما كنَّا نأخذها على عهد رسول الله ﷺ، ووَضَعناها في الموضع الذي كنَّا نضعُها على عهدِ رسول الله ﷺ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5989 - صحيح
ابراہیم بن عطاء اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ زیاد یا ابن زیاد نے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کو ٹیکس وصول کرنے کے لئے بھیجا، وہ جب لوٹ کر آئے تو ان کے پاس ایک درہم تک نہ تھا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: مال کہاں ہے؟ انہوں نے کہا: کیا تم نے مجھے مال کے لئے بھیجا تھا؟ ہم نے اسی حساب سے لیا ہے جس حساب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لیا کرتے تھے اور انہی مقامات پر خرچ بھی کر دیا ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم خرچ کیا کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6102]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6102 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن من أجل إبراهيم بن عطاء: وهو ابن أبي ميمونة. أبو قُتَيبة: هو سلم بن قُتيبة الشَّعيري.
⚖️ درجۂ حدیث: ابراہیم بن عطا (ابن ابی میمونہ) کی وجہ سے یہ سند "حسن" ہے۔ 📌 اہم نکتہ: ابو قتیبہ سے مراد سلم بن قتیبہ الشعیری ہیں۔
وأخرجه أبو داود (1625) من طريق علي بن نصر بن علي الجهضمي، وابن ماجه (1811) من طريق أبي عتاب سهل بن حمّاد، كلاهما عن إبراهيم بن عطاء، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ابو داؤد (1625) نے علی بن نصر الجہضمی کے طریق سے اور ابن ماجہ (1811) نے سہل بن حماد کے طریق سے روایت کیا ہے؛ یہ دونوں ابراہیم بن عطا سے اسی سند کے ساتھ نقل کرتے ہیں۔