المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
873. النهي عن ثمن الكلب وكسب الحجام
کتے کی قیمت اور حجام کی کمائی سے ممانعت
حدیث نمبر: 6558
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا معاذ بن هانئ، حدثنا يحيى بن العلاء، حدثنا الله عبد بن محمد بن عَقِيل، عن عبد الله بن جعفر بن أبي طالب قال: سمعت رسول الله ﷺ ينهى عن ثَمَن الكلب وكَسْب الحَجَّام (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6416 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6416 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی کمائی اور حجام کے کاروبار سے منع فرمایا ہے۔ (حجام سے مراد وہ شخص ہے جو حجامہ کا پیشہ کرتا ہے اور حجامہ کا مطلب ہے کسی خون چوسنے والے آلہ کے ساتھ گردن کے قریب دو مخصوص رگوں سے خون چوسنا اس کو اردو میں پچھنے لگوانا کہتے ہیں۔ اس سے مراد ہمارے عرف کے مشہور ہیر ڈریسر نہیں ہیں، اگرچہ ہیر ڈریسر کی وہ کمائی جو اس کو داڑھی مونڈنے سے حاصل ہوئی وہ بھی ناجائز ہے۔) [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6558]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6558 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده واهٍ من أجل يحيى بن العلاء -وهو البجلي أبو سلمة الرازي- فإنه متروك الحديث واتهمه الإمام أحمد بالكذب.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ سند انتہائی کمزور (واہٍ) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی وجہ "یحییٰ بن العلاء البجلی" (ابو سلمہ الرازی) ہے، جو کہ "متروک الحدیث" ہے اور امام احمد نے اس پر جھوٹ (کذب) کا الزام لگایا ہے۔
وأخرجه ابن عدي في "الكامل" 7/ 199 من طريق عبّاس بن محمد، عن معاذ بن هانئ، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن عدی نے "الكامل" (7/ 199) میں عباس بن محمد عن معاذ بن ہانی کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
ويغني عنه غير ما حديثٍ في هذا الباب، منها حديث أبي جحيفة عند أحمد 31/ (18756)، والبخاري (2086) وغيرهما. وحديث أبي هريرة عند أحمد 13/ (7976) وغيره، وانظر تتمة شواهده هناك.
🧩 متابعات و شواہد: اس کمزور روایت کے بجائے اس باب میں دیگر صحیح احادیث کافی ہیں، جیسے امام احمد (31/ 18756) اور بخاری (2086) میں حضرت ابو جحیفہ کی روایت، اور امام احمد (13/ 7976) میں حضرت ابوہریرہ کی روایت۔ دیگر شواہد کے لیے انہی مقامات پر مراجعت کریں۔