🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

873. النَّهْيُ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَكَسْبِ الْحَجَّامِ
کتے کی قیمت اور حجام کی کمائی سے ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6557
أخبرني بكر بن محمد بن حَمْدانَ الصَّيرفي بمَرْوٍ، حدثنا أبو بكر بن أبي خَيْثمة، حدثنا مصعب بن عبد الله بن مصعب بن ثابت بن الزُّبير، حدثنا أبي، عن إسماعيل بن عبد الله بن جعفر، عن أبيه قال: رأيتُ على النبي ﷺ ثَوبَينِ مصبوغَينِ بزَعفرانٍ: رداءً (1) وعِمامةً (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6415 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
اسماعیل بن عبداللہ بن جعفر اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں (وہ فرماتے ہیں کہ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زعفران کے ساتھ رنگے ہوئے دو کپڑے، اور چادر اور عمامہ پہنے ہوئے دیکھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6557]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6558
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا معاذ بن هانئ، حدثنا يحيى بن العلاء، حدثنا الله عبد بن محمد بن عَقِيل، عن عبد الله بن جعفر بن أبي طالب قال: سمعت رسول الله ﷺ ينهى عن ثَمَن الكلب وكَسْب الحَجَّام (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6416 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی کمائی اور حجام کے کاروبار سے منع فرمایا ہے۔ (حجام سے مراد وہ شخص ہے جو حجامہ کا پیشہ کرتا ہے اور حجامہ کا مطلب ہے کسی خون چوسنے والے آلہ کے ساتھ گردن کے قریب دو مخصوص رگوں سے خون چوسنا اس کو اردو میں پچھنے لگوانا کہتے ہیں۔ اس سے مراد ہمارے عرف کے مشہور ہیر ڈریسر نہیں ہیں، اگرچہ ہیر ڈریسر کی وہ کمائی جو اس کو داڑھی مونڈنے سے حاصل ہوئی وہ بھی ناجائز ہے۔) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6558]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6559
حدثنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى، حدثنا محمد بن سليمان ابن فارس، حدثنا محمد بن إسماعيل البُخَاري قال: قال العَنبَري: حدثني إسماعيل ابن عُبيد الله الثَّقَفي، حدثنا عبيد الله بن عبد الرحمن بن مَوهَب، حدثني إبراهيم ابن محمد بن علي بن عبد الله بن جعفر، عن محمد بن علي بن عبد الله بن جعفر، عن أبيه، سمع عبدَ الله بنَ جعفر يقول: سمعت النبيَّ ﷺ أَمَر رجلًا فقال:"سَلِ الله العفوَ والعافيةَ في الدُّنيا والآخرة" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6417 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا: اللہ تعالیٰ سے دنیا اور آخرت میں عافیت مانگا کر۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6559]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6560
أخبرني أبو الوليد الإمام وأبو بكر بن قُرَيش قالا: أخبرنا الحسن بن سفيان. وأخبرني محمد بن المؤمَّل، حدثنا الفضل بن محمد؛ قالا: حدثنا أحمد بن المِقْدام، حدثنا أَصرَمُ بن حَوشَب، حدثنا إسحاق بن واصل الضَّبِّي، عن أبي جعفر محمد بن علي بن الحسين قال: قلنا لعبد الله بن جعفر بن أبي طالب: حدِّثنا ما سمعتَ من رسول الله ﷺ، وما رأيتَ منه، ولا تحدِّثنا عن غيره وإن كان ثِقةً، قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"ما بين السُّرّةِ إلى الرُّكْبة عَوْرةُ". وسمعت رسول الله ﷺ يقول:"الصَّدقةُ في السِّر تُطفئُ غضبَ الربِّ". وسمعت رسول الله ﷺ يقول:"شِرارُ أمَّتي قومٌ وُلِدوا في النَّعيم وغُذُّوا به، يأكلون من الطعام ألوانًا، ويَلبَسُون من الثياب ألوانًا، ويَركَبون من الدوابِّ ألوانًا، يَتشدَّقُون في الكلام". وسمعت رسول الله ﷺ وأتاه ابنُ عبّاس فقال: إني انتهيتُ إلى قوم وهم يَتحدَّثون، فلما رأَوْنِي نَكَسُوا واستَثقَلوني، فقال رسول الله ﷺ: وقد فَعلوها؟! والذي نفسي بيده لا يؤمنُ أحدُهم حتى يُحبَّكم لحُبِّي، أيَرجُونَ أن يَدخُلوا الجنةَ بشفاعتي ولا يَرجُوها بنو عبدِ المطَّلب" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6418 - أظنه موضوعا
6560 - ابو جعفر محمد بن علی بن حسین (امام باقر) بیان کرتے ہیں کہ: ہم نے عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب (رضی اللہ عنہ) سے عرض کیا کہ آپ ہمیں وہ باتیں بتائیں جو آپ نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوں اور جو خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا ہو، اور کسی اور کے واسطے سے ہمیں حدیث نہ سنائیں خواہ وہ کتنا ہی ثقہ (قابل اعتماد) کیوں نہ ہو۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: "ناف سے لے کر گھٹنے تک کا حصہ ستر (چھپانے کی جگہ) ہے"۔ اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: "پوشیدہ صدقہ رب کے غصے کو ٹھنڈا کرتا ہے"۔ اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: "میری امت کے بدترین لوگ وہ ہیں جو نعمتوں میں پیدا ہوئے اور انہی میں پلے بڑھے، وہ طرح طرح کے کھانے کھاتے ہیں، رنگ برنگے لباس پہنتے ہیں، مختلف قسم کی سواریوں پر سوار ہوتے ہیں اور (تکبر سے) چبا چبا کر باتیں کرتے ہیں"۔ اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (اس وقت) سنا جب ابن عباس (رضی اللہ عنہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: میں کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا جو باتیں کر رہے تھے، لیکن جیسے ہی انہوں نے مجھے دیکھا وہ خاموش ہو گئے (سر لٹکا لیے) اور مجھے بوجھ سمجھا؛ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کیا انہوں نے ایسا کیا ہے؟! اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، ان میں سے کوئی اس وقت تک (کامل) مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ تم سے میری محبت کی خاطر محبت نہ کرے، کیا وہ یہ امید رکھتے ہیں کہ میری شفاعت سے جنت میں داخل ہوں گے اور بنو عبد المطلب (میرے اہل بیت) اس کی امید نہ رکھیں؟"۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6560]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں