🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
907. ذكر زياد بن لبيد الأنصاري رضى الله عنه
سیدنا زیاد بن لبید انصاری رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6641
حدَّثَناه الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا عارِمٌ أبو النُّعمان، حدثنا حمَّاد بن زيد، حدثنا علي بن زيد قال: كنَّا عند أنس بن مالك، فقال لابنه … (2) . ذكرُ زياد بن لَبِيدٍ الأنصاري ﵁-
علی بن زید فرماتے ہیں: ہم سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے، انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا: [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6641]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6641 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف علي بن زيد: وهو ابن جُدْعان.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، مگر یہ خاص سند علی بن زید بن جُدعان کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔
وأخرجه الطبراني 18 / (45) عن علي بن عبد العزيز البغوي، بهذا الإسناد عن علي بن زيد قال: كنا عند أنس بن مالك فقال لابنه أبي بكر: حدِّثهم حديثَ عِتبان بن مالك الأنصاري، فحدَّثنا أبو بكرٍ وأنسٌ شاهدٌ فقال: خرجت مع أبي إلى الشام، فلما أقبل من الشام مشى معنا محمود بن الربيع الأنصاري فشيَّعَنا، حتى إذا أراد أن يفارقنا قال: ألا أحدِّثكم بحديث عِتبان بن مالك؟ قلنا: بلى، قال: فإنه حدثني: أنه ذهب بصره … ثم ذكر الحديث بطوله.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام طبرانی نے (18 / 45) میں علی بن عبد العزیز البغوی کی سند سے روایت کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: علی بن زید کہتے ہیں کہ ہم حضرت انس بن مالک کے پاس تھے، انہوں نے اپنے بیٹے ابوبکر سے کہا: انہیں عتبان بن مالک انصاری کی حدیث سناؤ۔ ابوبکر نے حضرت انس کی موجودگی میں بتایا کہ وہ اپنے والد کے ساتھ شام گئے، واپسی پر محمود بن الربیع انصاری ان کے ساتھ چلے، رخصت ہوتے وقت محمود نے کہا: کیا میں تمہیں عتبان کی حدیث نہ سناؤں؟ پھر انہوں نے عتبان کی بینائی جانے اور نماز کا پورا طویل قصہ سنایا۔
وأخرجه بنحوه ابن أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (1936) عن أبي الربيع سليمان بن داود، عن حماد بن زيد، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسی طرح کی روایت ابن ابی عاصم نے "الآحاد والمثانی" (1936) میں ابوالربیع سلیمان بن داود عن حماد بن زید کی سند سے نقل کی ہے۔
وكذلك أخرجه أحمد 27/ (16484) من طريق جرير بن حازم، عن علي بن زيد بن جدعان، عن أبي بكر بن أنس.
📖 حوالہ / مصدر: امام احمد نے بھی اسے 27/ (16484) میں جریر بن حازم عن علی بن زید بن جدعان عن ابی بکر بن انس کی سند سے روایت کیا ہے۔