🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1021. فضائل عائشة عن لسان ابن عباس
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے فضائل سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی زبان سے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6875
حَدَّثَنَا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حَدَّثَنَا بِشر بن موسى، حَدَّثَنَا الحُميدي، حَدَّثَنَا سفيان، عن عبد الله بن عثمان بن خُثيم، عن ابن أبي مُليكة قال: جاء ابن عبّاس يستأذنُ على عائشةَ في مرضِها، فأبَتْ أن تأذنَ له، فقال لها بنو أخيها: ائذني له، فإنه من خير ولدِك، قالت: دعوني مِن تزكيتِه، فلم يزالوا بها حتَّى أذِنت له، فلما دخلَ عليها قال ابن عَبَّاس: إنَّما سُمِّيتِ أُمّ المؤمنين لِتسعَدي، وإنه لاسمُك قبل أن تُولدي، إنَّكِ كنتِ من أحبِّ أزواج النَّبِيِّ ﷺ إليه، ولم يكن رسولُ الله ﷺ يحبُّ إلَّا طيّبًا، وما بينَكِ وبينَ أن تَلقَي الأحبةَ إلَّا أن تُفارقَ (1) الروحُ الجسدَ، ولقد سقطَتْ قِلادتُك ليلةَ الأبواء، فجعل الله للمسلمين خِيْرةً في ذلك، فأنزل الله ﵎ آيةَ التيمُّم، ونزلت فيكِ آياتٌ من القرآن، فليس مسجدٌ من مساجِد المسلمين إِلَّا يُتلى فيه عُذرُكِ آناءَ الليل وآناءَ النهار. فقالت: دَعْني من تزكيتِك لي يا ابنَ عبّاس، فوَدِدتُ أَنِّي كنتُ نَسيًا منسيًّا (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6726 - صحيح
ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں: جب ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیمار ہوئیں تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ان کی عیادت کے لئے آئے، اندر آنے کی اجازت مانگی، ام المومنین نے اجازت نہ دی، ام المومنین کے بھتیجوں نے سفارش کی کہ آپ ان کو اجازت دے دیجئے، یہ تو آپ کے خیرخواہ ہیں، ام المومنین نے پھر انکار کیا، وہ لوگ مسلسل سفارش کرتے رہے، بالآخر انہوں نے اجازت دے دی۔ جب سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ان کے پاس آئے اور کہنے لگے: آپ کی سعادت مندی کی بناء پر آپ کا نام ام المومنین ہے، اور آپ کا یہ نام آپ کی پیدائش سے بھی پہلے کا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ آپ سے محبت کرتے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ ہی سے محبت کرتے تھے، جب تک جسم میں روح ہے، آپ سے محبت کرنے والے آپ سے ملنے آتے رہیں گے، ابواء کی رات آپ کا ہار گم ہو گیا تھا، اللہ تعالیٰ نے وہ بھی امت کے لئے بہتر کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے تیمم کے احکام والی آیت نازل فرمائی۔ آپ کے حق میں قرآن کی آیات نازل ہوئیں۔ مسلمانوں کی ہر مسجد میں دن رات آپ کے عذر کی آیات تلاوت ہوتی رہیں گی۔ ام المومنین نے کہا: اے ابن عباس مجھے میرے حال پر چھوڑ دو، میں چاہتی ہوں، کاش کہ میں نسیا منسیا ہو جاتی (یعنی میرا نام و نشان تک مٹ جائے)۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6875]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6875 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
وأخرجه أحمد (3/ 1905) من طريق معمر، وابن حبان (7108) من طريق يحيى بن سليم، كلاهما عن عبد الله بن عثمان بن خثيم بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (3/ 1905) نے معمر کے طریق سے، اور ابن حبان (7108) نے یحییٰ بن سلیم کے طریق سے، دونوں نے عبد اللہ بن عثمان بن خثیم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (4/ 2496) من طريق زائدة بن قدامة، وأحمد (5/ 3262) من طريق معمر، وأبو يعلى (2648) من طريق بشر بن المفضل، ثلاثتهم عن عبد الله بن عثمان بن خثيم، عن عبد الله بن أبي مليكة، أنه حدَّثه ذكوانُ حاجبُ عائشة: أنه جاء عبدُ الله بن عبّاس يستأذن على عائشة … فذكره.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (4/ 2496) نے زائدہ بن قدامہ سے، احمد (5/ 3262) نے معمر سے، اور ابو یعلیٰ (2648) نے بشر بن مفضل سے، تینوں نے عبد اللہ بن عثمان بن خثیم سے، انہوں نے عبد اللہ بن ابی ملیکہ سے روایت کیا کہ انہیں ذکوان (عائشہ کے دربان) نے بتایا کہ: عبد اللہ بن عباس عائشہ کے پاس اندر آنے کی اجازت مانگنے آئے... پھر انہوں نے ذکر کیا۔
وأخرجه البخاري (4753) من طريق عمر بن سعيد بن أبي الحسين، عن ابن أبي مليكة، قال: استأذن ابن عبّاس قبل موتها على عائشة … فذكر نحوه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بخاری (4753) نے عمر بن سعید بن ابی الحسین کے طریق سے، انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے روایت کیا، کہا: ابن عباس نے عائشہ کی وفات سے پہلے ان کے پاس آنے کی اجازت مانگی... پھر اسی طرح ذکر کیا۔
وأخرجه مختصرًا البخاري (3771) و (4754) من طريق القاسم بن محمد، عن عائشة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بخاری (3771) اور (4754) نے قاسم بن محمد کے طریق سے عائشہ رضی اللہ عنہا سے مختصر طور پر روایت کیا ہے۔
وأخرج أحمد 3/ (1906) و 4/ (2497) عن سفيان بن عيينة، عن ليث بن أبي سليم، عن رجل، عن ابن عبّاس، أنه قال لها: إنما سميت أم المؤمنين لتسعدي، وإنه لاسمك قبل أن تولدي. وهذا الرجل المبهم سمَّاه زهيرُ بن معاوية عند ابن سعد في "الطبقات" 10/ 74، وزائدةُ ابن قدامة عند الخطيب في "موضح الأوهام" 1/ 462 في روايتيهما عن ليث: عبدَ الرحمن بن سابط، وهو ثقة. وليث حسن في المتابعات والشواهد.
📖 حوالہ / مصدر: احمد 3/ (1906) اور 4/ (2497) نے سفیان بن عیینہ سے، انہوں نے لیث بن ابی سلیم سے، انہوں نے ایک آدمی سے، انہوں نے ابن عباس سے روایت کیا کہ انہوں نے عائشہ سے فرمایا: "آپ کا نام ام المومنین اس لیے رکھا گیا تاکہ آپ سعادت حاصل کریں، اور یقیناً یہ آپ کے پیدا ہونے سے پہلے ہی آپ کا نام تھا۔" 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس مبہم آدمی کا نام زہیر بن معاویہ نے (ابن سعد کے ہاں) اور زائدہ بن قدامہ نے (خطیب کے ہاں) اپنی روایت میں "عبد الرحمن بن سابط" بتایا ہے، اور وہ ثقہ ہیں۔ اور لیث (بن ابی سلیم) متابعات اور شواہد میں "حسن" ہیں۔
(1) في النسخ الخطية: تفارقي!
📝 نوٹ / توضیح: (1) قلمی نسخوں میں "تفارقی" ہے!
(2) خبر صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل عبد الله بن عثمان بن خثيم، وباقي رجاله ثقات، لكن ابن أبي مليكة - وهو عبد الله بن عبيد الله - لم يشهد هذه الحادثة، بل أخبره بها ذكوانُ مولى عائشة كما سيأتي في التخريج.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) یہ خبر صحیح ہے، اور یہ سند عبد اللہ بن عثمان بن خثیم کی وجہ سے قوی ہے، اور باقی رجال ثقہ ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: لیکن ابن ابی ملیکہ - جو کہ عبد اللہ بن عبید اللہ ہیں - اس واقعے میں موجود نہیں تھے، بلکہ انہیں ذکوان مولیٰ عائشہ نے اس کی خبر دی تھی، جیسا کہ تخریج میں آئے گا۔