المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1034. خطبة النجاشي على نكاح أم حبيبة
نجاشی کا سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کا خطبہ پڑھنا
حدیث نمبر: 6911
فحدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا الحسن بن علي بن عفَّان العامري، حَدَّثَنَا أبو أسامة، عن الأعمش، عن شَقيق، عن أمِّ سلمة قالت: قال رسول الله ﷺ:"إذا حضرتُم الميتَ أو المريضَ فقولوا خيرًا، فإنَّ الملائكة يُؤمِّنون على ما تقولون"، فلما تُوفِّي أبو سلمة أتيتُ النَّبِيّ ﷺ فقلتُ: كيف أقولُ؟ قال:"قولي: اللهمَّ اغفر لنا وله، وأعقِبْني منه عُقبى صالحةً"، فقلتُها، فأعقبَني الله محمدًا ﷺ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6758 - على شرط البخاري ومسلم إن لم يكونا أخرجاه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6758 - على شرط البخاري ومسلم إن لم يكونا أخرجاه
ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میت یا مریض کے پاس جاؤ تو اس کے بارے میں ہمیشہ اچھی بات کہو، کیونکہ تم جو کچھ کہتے ہو، فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں۔ جب سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئی اور میں نے پوچھا: اس موقع پر میں کیا دعا مانگوں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دعا مانگو ” اے اللہ! ہماری اور اس (ابوسلمہ) کی مغفرت فرما، اور مجھے اس کا اچھا بدل عطا فرما “۔ میں نے وہی دعا مانگی اور اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں واقعی اچھا بدل عطا فرما دیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6911]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6911 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. أبو أسامة: هو حماد بن أسامة، وشقيق: هو ابن سلمة.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ 📌 اہم نکتہ: ابو اسامہ سے مراد حماد بن اسامہ ہیں اور شقیق سے مراد ابن سلمہ ہیں۔
وأخرجه أحمد 44/ (26497) و (26608) و (26739)، ومسلم (919)، وأبو داود (3115)، وابن ماجه (1447)، والترمذي (977)، والنسائي (1964) و (10841)، وابن حبان (3005) من طرق عن الأعمش، به. وقال الترمذي: حسن صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (44/ 26497، 26608، 26739)، مسلم (919)، ابو داود (3115)، ابن ماجہ (1447)، ترمذی (977)، نسائی (1964، 10841) اور ابن حبان (3005) نے اعمش کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: امام ترمذی نے فرمایا: یہ "حسن صحیح" ہے۔
وفي الباب عن شداد بن أوس سلف برقم (1302).
📝 نوٹ / توضیح: اس باب میں شداد بن اوس سے بھی روایت ہے جو نمبر (1302) پر گزر چکی ہے۔