المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1125. ذكر أم خالد بنت خالد - رضي الله عنها -
سیدہ اُمِّ خالد بنت خالد رضی اللہ عنہا کا بیان
حدیث نمبر: 7104
حدَّثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدَّثنا الحسن بن الجَهْم، حدَّثنا الحسين بن الفَرَج، حدَّثنا محمد بن عمر قال: لا يُعلَمُ قرشيةٌ خرجت من بين أبوَيها مُسلمةً مهاجرةً إلى الله ورسولِه إلَّا أُمَّ كُلثوم بنت عقبة، فإنها خرجت من مكة وحدها، وصاحبت رجلًا من خُزاعة حتى قَدِمَت المدينة في هُدْنة الحُديبيَةِ، فخرج في أثرِها أخواها الوليدُ وعُمارةُ ابنا عقبة، فقَدِما المدينةَ يومَ قَدِمَتْ، فقالا: يا محمدُ، فِ لنا بشَرطِنا وما عاهدتَنا عليه، وفيها نزلت: ﴿إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ﴾ الآيةَ [الممتحنة: 10] ، ولم يكُنْ لها بمكةَ زوجٌ، فلما قَدِمَت المدينةَ تزوَّجها زيدُ بن حارثة، فقُتِلَ عنها، فتزوَّجها الزُّبيرُ بن العوَّام فوَلَدت له زينب، فطلَّقها، ثم تزوَّجها عبدُ الرحمن بن عوف، فولدَت له إبراهيم وحُميدًا، ومات عنها، فتزوَّجها عمرُو بن العاص فماتت عنه. ذكرُ أمِّ خالدٍ بنتِ خالد ﵄
محمد بن عمر کہتے ہیں: ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ اور کوئی قرشی خاتون ایسی نہیں ہے جو اپنے ماں باپ کے گھر سے اللہ اور اس کے رسول کی طرف مہاجر ہو کر نکلی ہو۔ آپ مکہ مکرمہ سے اکیلی تن تنہا نکل پڑی۔ بنی خزاعہ کا ایک آدمی ان کے ہمراہ ہو گیا۔ (یہ واقعہ صلح حدیبیہ کے موقعہ پر پیش آیا تھا) وہ لوگ چلتے چلتے مدینہ منورہ میں پہنچے تو ان کے بھائی ولید اور عمارہ بھی ان کے تعاقب میں نکل پڑے۔ جب سیدہ ام کلثوم مدینہ منورہ پہنچی، ساتھ ہی ان کے بھائی بھی مدینہ شریف آ پہنچے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے محمد! آپ نے ہمارے ساتھ جو معاہدہ اور شرائط طے کی تھیں ان پر عمل کیا جائے۔ انہی کے بارے میں سورہ ممتحنہ کی یہ آیت نازل ہوئی۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوهُنَّ اللَّهُ أَعْلَمُ بِإِيمَانِهِنَّ فَإِنْ عَلِمْتُمُوهُنَّ مُؤْمِنَاتٍ فَلَا تَرْجِعُوهُنَّ إِلَى الْكُفَّارِ لَا هُنَّ حِلٌّ لَهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ وَآتُوهُمْ مَا أَنْفَقُوا وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ إِذَا آتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ وَلَا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ وَاسْأَلُوا مَا أَنْفَقْتُمْ وَلْيَسْأَلُوا مَا أَنْفَقُوا ذَلِكُمْ حُكْمُ اللَّهِ يَحْكُمُ بَيْنَكُمْ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ” اے ایمان والو جب تمہارے پاس مسلمان عورتیں کفرستان سے اپنے گھر چھوڑ کر آئیں تو ان کا امتحان کرو اللہ ان کے ایمان کا حال بہتر جانتا ہے پھر اگر تمہیں ایمان والیاں معلوم ہوں تو انہیں کافروں کو واپس نہ دو، نہ یہ انہیں حلال نہ وہ انہیں حلال اور ان کے کافر شوہروں کو دے دو جو ان کا خرچ ہوا اور تم پر کچھ گناہ نہیں کہ ان سے نکاح کر لو جب ان کے مہر انہیں دو اور کافرنیوں کے نکاح پر جمے نہ رہو اور مانگ لو جو تمہارا خرچ ہوا اور کافر مانگ لیں جو انہوں نے خرچ کیا یہ اللہ کا حکم ہے وہ تم میں فیصلہ فرماتا ہے اور اللہ علم و حکمت والا ہے “ مکہ مکرمہ میں ان کی شادی نہیں ہوئی تھی، جب آپ مدینہ منورہ آئیں تو سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے ان سے نکاح کیا، سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے ان سے شادی کی، ان کے ہاں ایک لڑکی زینب پیدا ہوئی، سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے ان کو طلاق دے دی، ان کے بعد سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ان سے شادی کی، ان کے ہاں ابراہیم اور حمید پیدا ہوئے، سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا تو اس کے بعد انہوں نے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے نکاح کیا، انہیں کی زوجیت میں ان کا وصال ہوا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 7104]