المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1128. ذكر أم قيس بنت محصن - رضي الله عنها -
سیدہ اُمِّ قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا کا بیان
حدیث نمبر: 7109
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أبو عُتبة أحمد بن الفَرَج، حدَّثنا زيد بن يحيى بن عُبيد، حدثني الليث بن سعد، عن سعيد بن أبي سعيد المَقبُري، عن حَمْنة، أنها سمعت النبيَّ ﷺ يقول:"ألا إنَّ الدُّنيا حُلُوةٌ خَضِرةٌ، فَرُبَّ متخوِّضٍ في الدنيا من (3) مالِ الله ورسولهِ ليس له يومَ القيامة إلَّا النَّارُ" (4) . ذكرُ أمِّ قيس بنت مِحصَن ﵂
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6932 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6932 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا حمنہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک دنیا سرسبز و شاداب اور میٹھی ہے، بہت سارے لوگ اللہ اور اس کے رسول کے مال (کی ادائیگی کئے بغیر) دنیا میں ڈوبے رہتے ہیں، قیامت کے دن ان کے لئے آگ کے سوا اور کچھ نہیں ہو گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 7109]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7109 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) حرف الجر "من" لم يرد في (م) و (ص)، وأثبتناه من (ز) و (ب)، وضبّب عليه في (ز)، والأصل أن يكون مجرورًا بفي، قال ابن الأثير في "النهاية" (خوض): "رب متخوض في مال الله" أصل الخوض: المشي في الماء وتحريكه، ثم استُعمل في التلبس بالأمر والتصرف فيه، أي: رب متصرف في مال الله تعالى بما لا يرضاه الله، والتخوض: تفعل منه، وقيل: هو التخليط في تحصيله من غير وجهه كيف أمكن.
📝 نوٹ / توضیح: حرفِ جر "من" نسخہ (م) اور (ص) میں موجود نہیں ہے، اسے نسخہ (ز) اور (ب) سے شامل کیا گیا ہے۔ ابن اثیر نے "النهایہ" میں وضاحت کی ہے کہ "تخوض" کا اصل معنی پانی میں چلنا ہے، پھر اسے کسی معاملے میں پڑنے یا تصرف کرنے کے معنی میں استعمال کیا جانے لگا۔ یعنی اللہ کے مال میں ایسا تصرف کرنا جو اللہ کی رضا کے خلاف ہو، یا ناجائز طریقے سے مال حاصل کرنا۔
(4) إسناده ضعيف من أجل أحمد بن الفرج، وقد تفرد بروايته بهذا الإسناد، ولم نقف عليه بهذا الإسناد عند غير المصنف، ولا يعرف سماع لسعيد المقبري من حمنة، وقد رواه غيرُ واحد عن الليث بن سعد عن سعيد المقبري عن عبيد أبي الوليد قال: سمعت خولة بنت قيس تقول: سمعت رسول الله ﷺ يقول: "إنَّ هذا المال خَضِرة حلوة، من أصابه بحقه بورك له فيه، وربَّ متخوّض فيما شاءت نفسُه من مال الله ورسوله ليس له يومَ القيامة إلا النارُ"، رواه أحمد 45/ (27124)، والترمذي (2374) - وصححه - وغيرُهما، وهو حديث صحيح بطريقه الآخر عند أحمد (27318)، والبخاري (3118)، وانظر الكلام عليه في "المسند".
⚖️ درجۂ حدیث: احمد بن الفرج کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے کیونکہ وہ اس سند کے ساتھ روایت کرنے میں منفرد ہیں، مزید یہ کہ سعید المقبری کا حمنہ سے سماع ثابت نہیں۔ 🧩 متابعات و شواہد: کئی راویوں نے اسے لیث بن سعد عن سعید المقبری عن عبید ابوالولید کے واسطے سے روایت کیا کہ حضرت خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: "یہ مال ہری بھری میٹھی چیز ہے، جس نے اسے حق کے ساتھ حاصل کیا اس کے لیے برکت دی جائے گی..."۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (27124) اور ترمذی (2374-صحیح) نے روایت کیا ہے، اور یہ حدیث اپنے دوسرے طرق (احمد 27318، بخاری 3118) کی وجہ سے "صحیح" ہے۔
ورواه داود العطار عند أبي يعلى (6606)، ومختصرًا عند ابن أبي عاصم في "الزهد" (151)، عن إسماعيل بن أمية عن سعيد بن أبي سعيد عن أبيه عن أبي هريرة، فوهم فيه.
🔍 فنی نکتہ / علّت: داؤد العطار نے ابو یعلی (6606) اور ابن ابی عاصم (151) میں اسے اسماعیل بن امیہ عن سعید بن ابی سعید عن ابیہ عن ابی ہریرہ کی سند سے روایت کیا ہے، لیکن ان سے یہاں وہم ہوا ہے (سند درست نہیں)۔
ورواه داود العطار أيضًا عند الطحاوي في "شرح المشكل" (4887) و (4888) لكن لم يذكر فيه أبا سعيد، وداود له أوهام، لذلك أعله أبو زرعة الرازي - كما في "علل الرازي" (616) - فقال: هذا خطأ، إنما هو سعيد المقبري عن عبيد سنوطا أبي الوليد عن خولة بنت قيس. وكذا وهمه الدارقطني في "علله" (2071).
🔍 فنی نکتہ / علّت: داؤد العطار نے اسے امام طحاوی کے ہاں بھی روایت کیا مگر ابو سعید کا ذکر نہیں کیا؛ چونکہ داؤد کو اوہام ہوتے تھے، اسی لیے ابو زرعہ رازی (علل الرازی 616) نے اسے غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ درست سند "سعید المقبری عن عبید سنوطا ابوالولید عن خولہ بنت قیس" ہے۔ امام دارقطنی نے بھی (العلل 2071) میں اسے وہم قرار دیا ہے۔