المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1156. ذكر فضيلة أخرى للأوس والخزرج لم يقدر ذكرها من فضائل الأنصار
اوس اور خزرج کی ایک اور فضیلت کا تذکرہ
حدیث نمبر: 7158
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا عبد الله بن أحمد بن أبي مَسَرَّة، حدثنا عبد الله بن الزُّبير الحُميدي، حدثنا علي بن يزيد بن أبي حَكيمةَ الأسلمي، حدثني إياس بن سَلَمة بن الأكوَع، عن أبيه: أن النبيَّ ﷺ كان يقومُ في الصلاة فيدعو على قبائلَ من العرب، فيقول:"لعنَ الله رِعْلًا وذَكوان وعُصِيَّةَ التي عصتِ الله ورسولَه وبني لِحْيانَ"، ويقول:"غِفارٌ غفرَ اللهُ لها، وأسلمُ سالَمَها الله، لستُ أنا قلتُهنَّ ولكنَّ الله ﷿ قالها"، ثم يُكبِّر بعد أن يدعوَ على مَن دعا (3) . ذكرُ فضيلةٍ أخرى للأوس والخزرج لم يُقدَّرْ ذكرها من فضائل الأنصار
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6982 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6982 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ایاس بن سلمہ بن اکوع اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں کھڑے ہو کر عرب کے قبائل کے لئے یوں دعا مانگتے تھے ” اے اللہ! قبیلہ رعل، ذکوان اور عصیہ جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے، اور بنی لحیان پر لعنت فرما “۔ اور آپ کہتے: غفار کی، اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے، اور قبیلہ اسلم کو اللہ تعالیٰ سلامت رکھے، یہ باتیں میں نے نہیں کیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ نے کی ہیں۔ جس جس قبیلے کے لئے دعا مانگنی ہوتی، ان سب کے لئے مانگ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کہتے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 7158]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7158 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات غير علي بن يزيد بن أبي حكيمة، فقد روى عنه اثنان، وذكره ابن حبان في "الثقات"، فهو مستور.
⚖️ درجۂ حدیث: دیگر شواہد کی بنا پر "صحیح لغیرہ" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کے راوی ثقہ ہیں سوائے علی بن یزید بن ابی حکیمہ کے، جن سے دو راویوں نے روایت کی ہے اور ابن حبان نے انہیں ثقات میں ذکر کیا ہے، لہذا وہ "مستور" (جن کا حال پوشیدہ ہو) ہیں۔
وأخرجه أحمد 27 / (16517) من طريق عمر بن راشد اليمامي، عن إياس بن سلمة، به مختصرًا بلفظ: "أسلم سالمها الله، وغفار غفر الله لها، أما والله ما أنا قلته ولكن الله قاله". وعمر بن راشد ضعيف أيضًا. وانظر ما قبله.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 27 / (16517) نے عمر بن راشد الیمامی از ایاس بن سلمہ کی سند سے مختصراً ان الفاظ سے روایت کیا ہے: "اسلم کو اللہ سلامت رکھے اور غفار کی اللہ مغفرت فرمائے، اللہ کی قسم! یہ میں نے نہیں کہا بلکہ اللہ نے فرمایا ہے"۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: عمر بن راشد ضعیف راوی ہے۔
ويشهد له حديث خُفاف بن إيماء السالف برقم (6656).
🧩 متابعات و شواہد: خفاف بن ایماء کی سابقہ روایت نمبر (6656) اس کے لیے بطورِ شاہد موجود ہے۔