المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1163. فضل كافة العرب
تمام عرب کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 7172
أخبرنا أبو محمد الحسن بن محمد المِهْرجاني، حدثنا عبد العزيز بن معاوية، حدثنا أبو سفيان زياد بن سهل الحارثي، حدثنا عُمارة بن مِهْران المِعْوَلي، حدثنا عمرو بن دِينار، عن سالم بن عبد الله، عن ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ:"لمَّا خلَقَ اللهُ الخَلْقَ اختارَ العربَ، ثم اختارَ من العرب قريشًا، ثم اختارَ من قريشٍ بني هاشم، ثم اختارَني من بني هاشم، فأنا خِيرةٌ من خِيرةٍ" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6996 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6996 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا، تو ان میں سے عرب کو چنا، پھر عرب میں سے قریش کو چنا، پھر قریش میں سے بنی ہاشم کو چنا، پھر بنی ہاشم سے اللہ تعالیٰ نے مجھے پیدا کیا۔ چنانچہ میں ہر بہترین میں سے بہترین ہوں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 7172]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7172 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده محتمل للتحسين، زياد بن سهل الحارثي لم نقف له على ترجمة سوى ما قاله هارون بن سفيان المستملي المعروف بالدِّيك، من أنه كان ثقةً بصريًا، كما في "حديث أبي الفضل الزهري" ص 407، و تاريخ بغداد 16/ 36، وبقية رجاله ثقات غير عبد العزيز بن معاوية، فصدوق.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند 'حسن' ہونے کا احتمال رکھتی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: راوی زیاد بن سہل الحارثی کے حالاتِ زندگی (ترجمہ) ہمیں کہیں نہیں ملے سوائے ہارون بن سفیان المستملی (المعروف بالدیک) کے قول کے، جنہوں نے انہیں "ثقہ بصری" قرار دیا ہے، جیسا کہ "حدیث ابی الفضل الزہری" (ص 407) اور "تاریخ بغداد" (16/ 36) میں مذکور ہے۔ 📌 اہم نکتہ: سند کے بقیہ تمام راوی ثقہ ہیں، سوائے عبد العزیز بن معاویہ کے جو 'صدوق' (سچے) ہیں۔
وأخرجه ابن المغازلي في "مناقب علي" (151) من طريق محمد بن يونس الكُديمي، عن زياد بن سهل الحارثي، بهذا الإسناد. وتحرَّف فيه ابن مهران إلى: ابن ميمون. والكديمي ضعيف جدًّا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن المغازلی نے "مناقب علی" (151) میں محمد بن یونس الکدیمی از زیاد بن سہل الحارثی کی سند سے روایت کیا ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: اس روایت میں "ابن مہران" کا نام تحریف ہو کر "ابن میمون" ہو گیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: راوی 'الکدیمی' (محمد بن یونس) سخت ضعیف ہے۔
وانظر ما بعده.
📝 نوٹ / توضیح: اس کے بعد والا مقام ملاحظہ فرمائیں۔
ويشهد له حديث واثلة بن الأسقع عند مسلم (2276) مرفوعًا: "إنَّ الله اصطفى كِنانةَ من ولد إسماعيل، واصطفَى قريشًا من كِنانة، واصطفَى من قريش بني هاشم، واصطفاني من بني هاشم".
🧩 متابعات و شواہد: اس کی تائید حضرت واثلہ بن الاسقع رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ہوتی ہے جو صحیح مسلم (2276) میں مرفوعاً مروی ہے کہ: "اللہ تعالیٰ نے اولادِ اسماعیل سے 'کنانہ' کو منتخب کیا، کنانہ سے 'قریش' کا انتخاب کیا، قریش سے 'بنی ہاشم' کو چنا اور بنی ہاشم سے میرا (محمد ﷺ کا) انتخاب فرمایا"۔