المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
8. الإمارة أمانة وهى يوم القيامة خزي وندامة
حکمرانی ایک امانت ہے اور قیامت کے دن یہ رسوائی اور ندامت کا سبب ہوگی
حدیث نمبر: 7196
أخبرَناه أبو النَّضر الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدَّارمي، حدثنا مسلم بن إبراهيم، حدثنا صَدَقة بن موسى، حدثنا يحيى بن سعيد، عن سعيد بن المُسيّب، عن أبي ذر قال: قلتُ: يا رسولَ الله أمِّرني، قال:"الإمارةُ أمانةٌ، وهي يومَ القيامة خِزْيٌ ونَدامة، إِلَّا من أَمَرَ بحقّ وأدَّى بالحقِّ عليه فيها" (1) .
یحیی بن سعید، سعید بن مسیب کے واسطے سے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں (آپ فرماتے ہیں) میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے امیر بنا دیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امارت، امانت ہوتی ہے (اور اگر اس کو صحیح طور پر ادا نہ کیا گیا تو) یہ قیامت کے دن رسوائی اور ندامت کا باعث ہو گی۔ البتہ جو شخص میرٹ پر قاضی مقرر ہوا اور اس نے حق کے مطابق فیصلہ کیا (وہ اس ہلاکت سے بچ جائے گا) [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأحكام/حدیث: 7196]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7196 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف صدقة بن موسى.
⚖️ درجۂ حدیث: متن کے اعتبار سے حدیث صحیح ہے، البتہ یہ (خاص) سند "صدقہ بن موسیٰ" (الدقیقی) کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔
وأخرجه أبو نعيم الأصبهاني في "مسند أبي حنيفة" ص 259 من طريقه عن الهيثم بن حبيب عن الحسن البصري عن أبي ذر فذكره. وسنده منقطع، فالحسن لم يسمع من أبي ذر.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابونعیم اصبہانی نے "مسند ابی حنیفہ" (ص 259) میں صدقہ بن موسیٰ کے طریق سے روایت کیا ہے، جو ہیثم بن حبیب سے، وہ حسن بصری سے اور وہ حضرت ابوذر سے روایت کرتے ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی سند منقطع ہے کیونکہ حسن بصری کا حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں ہے۔