🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. ذكر معيشة النبى صلى الله عليه وآله وسلم
نبی کریم ﷺ کے طرزِ زندگی اور معیشت کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7251
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّري بن خُزَيمة، حدثنا عمر بن حفص بن غِياث، حدثنا أبي، حدثنا الأعمش، حدثني ثابت بن عُبيد، حدثني القاسم بن محمد، قال: قالت عائشةُ: كان رسولُ الله ﷺ يدخلُ على بعضِ أزواجِه وعندها عُكَّةٌ من عسل، فيَلعَق منها لعقًا، فيجلس عندها، فأرابَهم ذلك، فقالت عائشةُ لحفصةَ ولبعض أزواج النبيِّ ﷺ، فقُلْنَ له: إنما نجدُ منك رِيحَ المَغافير، فقال:"إنها عَسَلٌ ألعَقُها عند فلانةَ، ولستُ بعائدٍ فيه" (3)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7074 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ایک زوجہ محترمہ کے پاس تشریف لے جاتے، ان کے پاس شہد کا ایک ڈبہ تھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے شہد استعمال کرتے تھے اور ان کے پاس بیٹھ جاتے۔ یہ چیز (دیگر ازواج) کو ناگوار گزرتی تھی، ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ام المومنین سیدہ حفصہ اور دیگر ازواج سے مشورہ کیا، اور ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ہمیں آپ سے مغافیر (ایک درخت کا گوند ہے) کی بدبو آ رہی ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تو ابھی فلاں زوجہ کے پاس شہد استعمال کیا تھا، اب میں اس کے پاس نہیں جاؤں گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7251]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7251 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده صحيح. وأخرجه بنحوه أحمد 43 / (25852)، والبخاري (4912) و (5267) و (6691)، ومسلم (1474) (20)، وأبو داود (3714)، والنسائي (4718) و (5584) و (8856) و (11544)، وابن حبان (4183) من طريق عطاء بن أبي رباح، عن عبيد بن عمير، عن عائشة.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے اسی طرح امام احمد (43 / 25852)، بخاری (4912، 5267، 6691)، مسلم (1474)، ابو داؤد (3714)، نسائی (4718، 5584، 8856، 11544) اور ابن حبان (4183) نے عطاء بن ابی رباح کے طریق سے، عبید بن عمیر سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه مطولًا ومختصرًا أحمد 40/ (24316)، والبخاري (5268) و (6972)، ومسلم (1474) (21)، وأبو داود (3715) من طريق هشام بن عروة، عن أبيه، عن عائشة.
🧾 تفصیلِ روایت: اسے تفصیل کے ساتھ اور مختصر طور پر امام احمد (40 / 24316)، بخاری (5268، 6972)، مسلم (1474) اور ابو داؤد (3715) نے ہشام بن عروہ کے طریق سے، اپنے والد (عروہ بن زبیر) سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے۔
قوله: "عُكّة" بضم العين: وعاء من جلد.
📌 اہم نکتہ: لفظ "عُکَّہ" (عین کے پیش کے ساتھ) چمڑے کے اس برتن کو کہتے ہیں جس میں گھی وغیرہ رکھا جاتا ہے۔