🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. حديث مناظرة ابن عباس مع الحرورية
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا حروریہ (خوارج) کے ساتھ مناظرے کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7556
حَدَّثَنَا علي بن حَمْشاذَ العدل، حَدَّثَنَا محمد بن شاذان الجَوهَري، حَدَّثَنَا سعيد بن سليمان الواسطي، حَدَّثَنَا الليث بن سعد، عن هشام بن سعد، عن زيد بن أسلم، عن عطاء بن يسار قال: قال جابر: خرجنا مع رسول الله ﷺ في بعض مَغازيهِ، فخرج رجلٌ في ثوبين مُنْخِرِقَينِ يريد أن يَسُوقَ بالإبل، فقال له رسول الله ﷺ:"ما له ثَوْبانِ غيرُ هذا (1) ؛" قيل: إِنَّ في عَيْبتِه ثوبين جديدين، قال:"ايتُونِ بعَيْبتِه"، ففتحها، فإذا فيها ثوبانِ، فقال للرجل:"خُذْ هذينِ فَالْبَسْهما وأَلْقِ المُنخرِقَين" ففعل، ثم ساق بالإبل، فنظر رسولُ الله ﷺ في أثره كالمتعجِّب من بُخلِه على نفسه بالثوبين، فقال له:"ضربَ الله عُنقَكَ" فالْتَفتَ إليه الرجلُ، فقال:"في سبيلِ الله"، فقُتل يوم اليَمَامة (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد احتجَّ في غير موضع بهشام بن سعد، ولم يُخرجاه، إلَّا أنَّ الحديث عند مالك عن زيد بن أسلم عن جابر:
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک غزوہ میں تھے، ایک آدمی دو پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس وہاں آیا، وہ اونٹ چرا رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اس کے پاس صرف یہی دو کپڑے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ اس تھیلے میں دو نئے کپڑے موجود ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا تھیلا میرے پاس لاؤ، (اس کا تھیلا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا) جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کھولا تو اس میں واقعی دو کپڑے موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی سے کہا: یہ کپڑے لو، ان کو پہن لو اور پھٹے ہوئے کپڑے پھینک دو، اس نے ایسا ہی کیا، اور اپنے اونٹ ہانکتا ہوا چلا گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کو پیچھے سے دیکھ رہے تھے اور اس بات پر بہت تعجب کر رہے تھے کہ یہ شخص کس قدر کنجوس ہے، صرف 2 کپڑے پہن کر پھر رہا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس کی گردن مارے، وہ شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب متوجہ ہوا اور کہا: اللہ کی راہ میں۔ چنانچہ وہ شخص جنگ یمامہ میں شہید ہوا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے، لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے ایک مقام پر ہشام بن سعد کی روایت نقل کی ہے۔ اور مالک بن انس کی سند کے مطابق یہ حدیث زید بن اسلم کے واسطے سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ جیسا کہ درج ذیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7556]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7556 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في مصادر التخريج: هذين، وهو أحسن.
📝 نوٹ / توضیح: (1) تخریج کے مصادر میں "ہذین" (ان دو) کے الفاظ ہیں اور یہی زیادہ بہتر ہے۔
(2) حديث حسن، هشام بن سعد حديثه حسن في المتابعات والشواهد، ولا سيما في روايته عن زيد بن أسلم، فهو أوثق الناس فيه كما قال أبو داود، وقد توبع.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) یہ حدیث حسن ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ہشام بن سعد کی حدیث متابعات اور شواہد میں حسن ہوتی ہے، خصوصاً جب وہ زید بن اسلم سے روایت کریں، کیونکہ وہ ان سے روایت کرنے میں سب سے زیادہ معتبر (اوثق الناس) ہیں جیسا کہ ابو داود نے فرمایا، اور ان کی متابعت بھی کی گئی ہے۔
ورواه مالك فلم يذكر الواسطة بين زيد بن أسلم وجابر كما سيأتي في الحديث التالي.
🧾 تفصیلِ روایت: امام مالک نے اسے روایت کیا تو انہوں نے زید بن اسلم اور جابر کے درمیان واسطہ ذکر نہیں کیا، جیسا کہ اگلی حدیث میں آئے گا۔
وأخرجه البزار (2962 - كشف الأستار) عن عبد الله بن أبي ثمامة الأنصاري، عن سعيد بن سليمان، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی تخریج بزار (2962 - کشف الأستار) نے عبد اللہ بن ابی ثمامہ انصاری سے، انہوں نے سعید بن سلیمان سے اسی سند کے ساتھ کی ہے۔
وأخرجه أيضًا (2964 - كشف الأستار) من طريق عبد الأعلى بن عبد الأعلى السامي، عن ابن إسحاق، عن محمد بن إبراهيم التيمي، عن عطاء بن يسار، به. ولم يسق لفظه، وقال: بنحوه.
📖 حوالہ / مصدر: اور اسے بزار ہی نے (2964 - کشف الأستار) میں عبد الاعلیٰ بن عبد الاعلیٰ سامی کے طریق سے، انہوں نے ابن اسحاق سے، انہوں نے محمد بن ابراہیم تیمی سے اور انہوں نے عطاء بن یسار سے روایت کیا ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: انہوں نے اس کے الفاظ نقل نہیں کیے بلکہ فرمایا: "اسی جیسی روایت ہے۔"