🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. الدعاء عند عيادة المريض وأدبها .
بیمار پرسی کے وقت کی دعا اور اس کے آداب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7676
أخبرني عبيد الله بن محمد البَلْخي، حدثنا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل، حدثنا محمد بن وهب بن عطيّة السُّلَمي، حدثنا محمد بن حرب، حدثنا محمد بن الوليد الزُّبيدي، حدثنا الزُّهْري عن عُرْوة بن الزُّبير، عن زينب بنت أبي سَلَمة، عن أُمَّ سَلَمة: أنَّ النبيَّ ﷺ رأى في بيتها جاريةً في وجهها سَفْعةٌ، فقال:"استَرْقُوا لها، فإنَّ بها النَّظْرةَ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7486 - قد أخرجه البخاري
ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے حجرے میں ایک بچی دیکھی، اس کے چہرے پر چھائیاں تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو دم کرواؤ، کیونکہ اس کو نظر لگی ہوئی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 7676]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7676 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه البخاري (5739) عن محمد بن خالد، عن محمد بن وهب، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری نے (5739) میں محمد بن خالد کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه مسلم (2197) عن أبي الربيع محمد بن سليمان، عن محمد بن حرب، به. وزاد في رواية مسلم عقبه: يعني بوجهها صُفْرة. فاستدراك الحاكم له على الشيخين ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام مسلم نے (2197) میں روایت کیا اور اس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ "اس کے چہرے پر زردی تھی"۔ حاکم کا اسے شیخین پر مستدرک کرنا ان کی ذہانت کی لغزش ہے۔
ورواه عُقيل بن خالد عن ابن شهاب الزهري، واختلف عليه فيه كما سيأتي بيانه عند روايته الآتية برقم (8481).
🔍 فنی نکتہ / علّت: عقیل بن خالد کی روایت میں اختلاف ہوا ہے جس کی تفصیل روایت نمبر (8481) کے تحت آئے گی۔
قوله: "سفعة" بفتح السين وضمها، قيل: سواد، وقيل: حُمرة يعلوها سواد، وقيل: صفرة. وقوله: "النظرة" بسكون الظاء المعجمة، والمعنى: أنَّ عينًا أصابتها. انظر "فتح الباري" 17/ 554 - 555.
📝 نوٹ / توضیح: "سفعہ" سے مراد چہرے پر سیاہی، یا سرخی مائل سیاہی، یا زردی کا نشان ہے۔ "النظرہ" کا مطلب ہے کہ اسے نظرِ بد لگی ہے۔ مزید تفصیل کے لیے "فتح الباری" 17/ 554 دیکھیں۔